کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: کوئی شخص صفا ومروہ کی سعی ترک کر دے تو اس پر کیا لازم ہے؟
١٤٧٨٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الأعلى عن يونس عن الحسن في الرجل يترك الصفا والمروة قال: عليه دم.
مولانا محمد اویس سرور
حسن اس شخص کے متعلق فرماتے ہیں کہ جو صفا ومروہ کی سعی ترک کر دے کہ اس پر دم لازم ہے۔
١٤٧٨١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد السلام (عن) (١) (يحيى) (٢) بن سعيد أن داود بن أبي (عاصم) (٣) قدم، (فترك) (٤) الصفا والمروة، فقال (عطاء) (٥): أهرق دما.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت داوٗد بن عاصم حج یا عمرہ کے لیے تشریف لائے اور صفا ومروہ کی سعی ترک کردی، حضرت عطاء نے فرمایا قربانی کرو اور حضرت طاؤس فرماتے ہیں کہ تو عمرہ کرنے والا بن کر داخل ہوجا۔
١٤٧٨٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو أسامة (عن إسماعيل) (١) عن قيس بن سعد عن مجاهد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو معشر اور ابراہیم فرماتے ہیں کہ حاجی اگر صفا ومروہ کی سعی بھول جائے تو اس پر (دوبارہ) حج کرنا لازم ہے اور اگر وہ عمرہ کرنے والا ہے تو (دو بارہ) عمرہ کرے، اور اس کے لیے صفا ومروہ کی سعی کے علاوہ کوئی چیز کافی نہ ہوگی۔
١٤٧٨٤ - وعن أبي معشر عن إبراهيم قالا: إذا نسي (الطواف) (١) بين الصفا والمروة وهو حاج فعليه الحج، فإن كان معتمرًا فعليه العمرة، ولا يجزئه إلا الطواف بينهما.