کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اللہ تعالیٰ کے ارشاد {فَفِدْیَۃٌ مِّنْ صِیَامٍ} کی تفسیر
١٤٢٩١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (عبد اللَّه) (١) بن نمير قال: حدثنا زكريا بن أبي زائدة عن عبد الرحمن بن الأصبهاني قال: حدثنا ابن معقل قال: (حدثني) (٢) ⦗١٦٠⦘ كعب بن عجرة قال: قال لي رسول اللَّه ﷺ: و (كانت) (٣) هوام رأسه (أذته) (٤) قال لي: "إذبح شاةً نُسكًا، أو صم ثلاثة أيام أو أطعم ستة (مساكين) (٥) بين كل (مسكينين) (٦) (صاعا) (٧) من تمر" (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت کعب بن عجرہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : بکری ذبح کر اللہ کا قرب حاصل کرنے کے لیے یا تین روزے رکھ یا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا، اس طرح کہ ہر دو مسکینوں کو کھجور کا ایک صاع ملے۔
١٤٢٩٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن (منصور عن) (١) إبراهيم ومجاهد (في) (٢) قوله تعالى (٣): ﴿فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ﴾ [البقرة: ١٩٦]، (قالا) (٤): الصيام ثلاثة أيام، والصدقة ثلاثة آصع، والنسك شاة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد اور ابراہیم اللہ تعالیٰ کے ارشاد { فَفِدْیَۃٌ مِّنْ صِیَامٍ اَوْ صَدَقَۃٍ اَوْ نُسُکٍ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ صیام سے مراد تین روزے اور صدقہ سے مراد تین صاع اور نسک سے مراد بکری ذبح کرنا ہے۔
١٤٢٩٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الأعلى عن يونس عن الحسن قال: الفدية صيام عشرة أيام والصدقة عشرة مساكين والنسك ذبيحة.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ الفدیہ سے مراد دس روزے اور الصدقہ سے مراد دس مسکینوں کو کھانا کھلانا اور النسک سے مراد ذبیحہ ہے۔
١٤٢٩٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا سهل بن يوسف (عن التيمي) (١) عن أبي مجلز قال: الصيام ثلاثة أيام والصدقة (ستة) (٢) مساكين، والنسك شاة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو مجلز فرماتے ہیں کہ الصیام سے مراد تین روزے اور الصدقہ سے مراد ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا اور النسک سے مراد بکری ذبح کرنا ہے۔
١٤٢٩٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن نمير عن عبد الملك عن عطاء مثله.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء سے بھی اسی طرح مروی ہے۔
١٤٢٩٦ - حدثنا أبو بكر قال: (حدثنا) (١) أبو خالد الأحمر عن الأعمش عن إبراهيم عن علقمة قال: الصيام ثلاثة أيام، والصدقة ثلاثة آصع بين ستة مساكين، والنسك شاة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علقمہ فرماتے ہیں کہ الصیام سے مراد تین دن کے روزے اور الصدقہ سے مراد ساٹھ مسکینوں کو تین صاع کھلانا اور النسک سے مراد بکری ذبح کرنا ہے۔
١٤٢٩٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو (خالد) (١) عن الأعمش عن إبراهيم قال: سألني سعيد بن جبير، فأخبرته.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت سعید بن جبیر نے مجھ سے دریافت کیا تو میں نے ان کو خبر دی، اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بھی اسی طرح فرماتے ہیں۔
١٤٢٩٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن إبراهيم قال: حدثته [سعيد بن جبير.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم سے اسی طرح مروی ہے۔
١٤٣٠١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (يحيى بن يمان) (١) عن (سفيان) (٢) (٣) عن ابن أبي نجيح عن طاوس (قال) (٤): صيام ثلاثة أيام ونسك شاة وصدقة ستة مساكين.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاؤس فرماتے ہیں کہ اس آیت سے مراد تین دن کے روزے، بکری کی قربانی اور ساٹھ مسکینوں پر صدقہ کرنا ہے۔
١٤٣٠٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن يمان عن سفيان عن السدي عن أبي مالك مثله.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو مالک سے اسی طرح مروی ہے۔
١٤٣٠٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا كثير بن هشام عن جعفر بن برقان عن عكرمة قال: سمعته يقول فيمن حج فأصابه مرض أو (أذى) (١) (من رأسه) (٢): فعليه صيام (عشرة) (٣) أيام، أو إطعام عشرة مساكين، أو نسك شاة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ جس حاجی کو بیماری یا سر میں تکلیف ہوجائے اس پر دس روزے یا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا یا بکری ذبح کرنا ہے۔