١٣٣٦٩ - حدثنا أبو بكر قال: (ثنا) (١) وكيع عن سفيان عن موسى بن عقبة عن نافع عن ابن عمر قال: يتداوى المحرم (بأي) (٢) دواء شاء (إلا) (٣) دواء فيه طيب (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں محرم زخم پر جو دوا چاہے لگا سکتا ہے، سوائے اس دوا کے جس میں خوشبو ہو۔
١٣٣٧٠ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا أبو (الأحوص) (١) عن أبي إسحاق عن الضحاك عن ابن عباس قال: إذا (تشققت) (٢) (يدا) (٣) المحرم أو رجلاه ⦗٤٧٢⦘ (فليدهنهما) (٤) بالزيت أو بالسمن (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ محرم کے ہاتھ، پاؤں اگر پھٹ جائیں تو وہ ان پر زیتون کا تیل یا گھی لگائے، اور ان کی مالش کرے۔
١٣٣٧١ - [حدثنا أبو بكر قال: ثنا عباد بن العوام عن أشعث عن (عكرمة) (١) عن ابن عباس (قال) (٢): (يتداوى) (٣) المحرم (بما) (٤) يأكل] (٥) (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں محرم کھانے والی دوائیوں سے علاج کرسکتا ہے ۔
١٣٣٧٢ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو معاوية ووكيع عن الأعمش عن خيثمة قال: رأيت الأسود يصهر (رجله بالشحم) (١) وهو محرم] (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خیثمہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت اسود کو حالت احرام میں دیکھا وہ اپنے پاؤں پر چربی مل رہے تھے۔
١٣٣٧٣ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا أبو خالد الأحمر عن الأشعث عن عطاء عن ابن عباس قال: يتداوى المحرم بما يأكل (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں محرم کھانے والی دوائیوں سے علاج کرسکتا ہے ۔
١٣٣٧٤ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا وكيع عن مسعر عن أشعث بن أبي الشعثاء قال: حدثني من سمع أبا ذر يقول: لا بأس (أن يتداوى) (١) المحرم بما يأكل (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو ذر فرماتے ہیں کوئی حرج نہیں کہ محرم کھانے والی چیزوں کو بطور دواء استعمال کرے۔
١٣٣٧٥ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا عفان (عن شعبة) (١) عن أشعث بن أبي الشعثاء عن مرة بن (خالد) (٢) عن أبي ذر بنحو من حديث (مسعر) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو ذر سے اسی طرح منقول ہے۔
١٣٣٧٦ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا معتمر عن ليث عن عطاء وطاوس أنهما كانا لا يريان بأسًا أن يداوي المحرم شقاقه بالسمن والزيت.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء اور حضرت طاؤس محرم شخص کے لیے بطور دوا گھی اور زیتون ملنے اور مالش کرنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے، اور حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ اگر ان میں سے کسی ایک چیز کو (بطور دوا) لگائے گا تو اس پر دم لازم ہے۔
١٣٣٧٨ - [[حدثنا أبو بكر قال: ثنا وكيع عن سفيان عن مغيث البجلي قال: أصابني شقاق وأنا محرم، فسألت أبا جعفر، فقال: ادهنه بما كنت تأكل] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیث البجلی کہتے ہیں کہ حالت احرام میں میرے ہاتھ پاؤں پھٹ گئے، میں نے حضرت ابو جعفر سے دریافت کیا ؟ آپ نے فرمایا : جو چیز تو کھاتا ہے اس کو اس پر مل لے اور اس کی مالش کرلے۔
١٣٣٧٩ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا وكيع عن شعبة عن حماد عن سعيد بن جبير قال: يدهن (المحرم) (١) شقاقه بما يأكل]] (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ جو چیز کھاتے ہیں محرم اس کو زخم پر لگا کر مالش کرے گا۔
١٣٣٨٠ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا وكيع عن سفيان عن منصور عن إبراهيم قال: لا بأس بالشحم للمحرم.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ محرم کے لیے چربی لگانے میں کوئی حرج نہیں۔
١٣٣٨١ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا وكيع عن مسعر عن النضر (بن قيس) (١) ⦗٤٧٤⦘ قال: (صُرِعت) (٢) امرأتي وهي محرمة، فسألت القاسم، فلم يرخص لها إلا في الزيت الذي (يصب) (٣) على رأسها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نضر بن قیس کہتے ہیں کہ اپنی بیوی کو حالت احرام میں مرگی کا دورہ پڑا، میں نے حضرت قاسم سے دریافت کیا ؟ آپ نے صرف زیتون کاتیل اس کے سر پر لگا نے کی اجازت دی۔
١٣٣٨٢ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا غندر عن شعبة عن منصور عن جابر بن زيد قال: (لا) (١) بأس بالزيت للمحرم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن زید فرماتے ہیں کہ محرم کے لیے زیتون استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
١٣٣٨٣ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا وكيع عن إسرائيل (عن جابر) (١) عن أبي جعفر وعامر (وعطاء) (٢) قالوا: لا بأس أن (يتداوى) (٣) المحرم (بالمرداسنج) (٤) ما لم يكن فيه طيب.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو جعفر، حضرت عامر اور حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ محرم کا مرد اسنج سے علاج کروانے میں (بطور دو ا استعمال کرنے میں) کوئی حرج نہیں جب تک کہ اس میں خوشبو نہ ہو۔
١٣٣٨٤ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا عبد الوهاب بن عطاء عن ابن عون قال: كتبت إلى نافع أسأله عن المحرم يتداوى، فكتب (إلى) (١): نعم دواء ليس فيه طيب.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عون فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت نافع کو خط لکھ کر دریافت کیا کہ محرم دوا استعمال کرسکتا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ہاں وہ دوا جس میں خوشبو نہ ہو۔
١٣٣٨٥ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا جرير (عن يزيد) (١) عن سعيد بن (جبير) (٢) قال: إذا انكسر ظفر المحرم القاه ولا بأس أن يجعل عليه (المرارة) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ جب محرم شخص کا ناخن ٹوٹ جائے تو وہ اس کو کاٹ کر پھینک دے اور اس پر مرارہ لگانے میں کوئی حرج نہیں (مرارہ ایک دوا کا نام ہے) ۔
١٣٣٨٦ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا عباد عن أبي حنيفة عن حماد عن إبراهيم (قال) (١): يتداوى المحرم بما أحب (ما) (٢) لم يكن (في) (٣) شيء من (أدويته) (٤) طيب.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ محرم شخص کو جو دوائی پسند ہو استعمال کرے سوائے ان دواؤں کے جن میں خوشبو ہو۔
١٣٣٨٧ - حدثنا أبو بكر (قال) (١): ثنا عبد الأعلى عن هشام عن الحسن.
مولانا محمد اویس سرور
حسن اور حضرت عروہ محرم کے لیے زخم پر گھی اور زیتون لگانے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔
١٣٣٨٨ - وعن (هشام بن حسان عن) (١) هشام بن عروة عن أبيه أنهما كنا لا يريان بأسًا أن يداوي المحرم جرحًا (به) (٢) بالسمن والزيت.
١٣٣٨٩ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا الثقفي عن أيوب عن نافع عن ابن عمر أنه كره أن يداوي المحرم يده بالدسم (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما محرم کے لیے اپنے ہاتھ کا علاج ڈاٹ لگا کر (بتی چڑھا کر) کرنے کو ناپسند کرتے تھے۔
١٣٣٩٠ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا ابن إدريس عن يزيد عن مجاهد قال: لا يتداوى المحرم إلا بدواء ليس فيه طيب.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں محرم صرف اس دوا کو استعمال کرے گا جس میں خوشبو نہ ہو۔