١٠٦٩٠ - حدثنا أبو بكر قال: (حدثنا) جرير بن عبد الحميد عن أشعث عن جعفر عن سعيد بن جبير قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "لا تصدقوا إلا (على) (١) أهل دينكم"، فأنزل اللَّه تعالى: ﴿لَيْسَ عَلَيْكَ هُدَاهُمْ﴾ إلى قوله: ﴿وَمَا تُنْفِقُوا مِنْ خَيْرٍ يُوَفَّ إِلَيْكُمْ﴾ [البقرة: ٢٧٢]، قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "تصدقوا على أهل الأديان" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم زکوٰۃ مت دو مگر اپنے دین والوں کو (مسلمانوں کو) تو قرآن پاک کی آیت { لَیْسَ عَلَیْکَ ھُدٰھُم } سے لیکر { وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ یُّوَفَّ اِلَیْکُم } نازل ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم زکوٰۃ خرچ کیا کرو تمام اہل ادیان پر۔ (غیر مسلموں پر بھی) ۔
١٠٦٩١ - حدثنا أبو معاوية عن حجاج عن سالم (المكي) (١) عن ابن الحنفية ⦗٣٠١⦘ قال: كره الناس أن يتصدقوا على المشركين، فأنزل اللَّه تعالى: ﴿لَيْسَ عَلَيْكَ هُدَاهُمْ﴾ قال: فتصدق الناس عليهم (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن حنفیہ فرماتے ہیں کہ (شروع میں) لوگ مشرکین کو زکوٰۃ دینے کو ناپسند کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کی آیت { لَیْسَ عَلَیْکَ ھُدٰھُم } نازل فرمائی تو لوگوں نے ان کو (مشرکین) کو بھی زکوٰۃ دینا شروع کردو۔
١٠٦٩٢ - حدثنا جرير عن ليث عن مجاهد قال: لا تصدق على (يهودي) (١) ولا نصراني إلا أن لا تجد غيره.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ کہ یہودیوں اور نصرانیوں کو زکوٰۃ نہ دو مگر تب جب ان کے علاوہ کسی کو نہ پاؤ۔
١٠٦٩٣ - حدثنا ابن فضيل عن (الزبرقان) (١) (السراج) (٢) عن أبي رزين قال: كنت مع (شقيق) (٣) بن سلمة، (فمر) (٤) عليه أسارى من المشركين، فأمرني أن (أتصدق) (٥) عليهم (ثم تلا هذه الآية) (٦): ﴿وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَى حُبِّهِ مِسْكِينًا وَيَتِيمًا وَأَسِيرًا﴾ [الإنسان: ٨].
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو رزین فرماتے ہیں کہ میں حضرت شقیق بن سلمہ کے ساتھ تھا کہ ان کے پاس سے مشرک قیدی گذرے تو آپ نے مجھے حکم فرمایا کہ ان کو صدقہ دوں اور پھر یہ آیت تلاوت فرمائی کہ { وَیُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰی حُبِّہٖ مِسْکِیْنًا وَّیَتِیْمًا وَّاَسِیْرًا }۔
١٠٦٩٤ - حدثنا وكيع عن شريك (عن عبد الكريم) (١) عن عكرمة قال: (أطعمه) (٢) ولا (تعطه) (٣) نفقة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ ان کو کھلاؤ (صدقہ دو ) ان کو نفقہ مت دو ۔
١٠٦٩٥ - حدثنا وكيع عن سفيان عن أبي إسحاق عن أبي ميسرة أنه كان يعطي الرهبان من صدقة الفطر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو اسحاق سے مروی ہے کہ حضرت ابو میسرہ گوشہ نشین نصرانیوں کو صدقۃ الفطر دیا کرتے تھے۔
١٠٦٩٦ - حدثنا حميد بن عبد الرحمن عن زهير عن (عبد) (١) الكريم (عن عكرمة) (٢) قال: لا تصدق على اليهود (ي) (٣) والنصراني بنفقة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ یہود و نصاریٰ کو نفقہ زکوٰۃ نہ دو ۔
١٠٦٩٧ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن حجاج عن عمرو بن مرة عن سعيد بن جبير.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حجاج، حضرت عمرو بن مرہ حضرت سعید بن جبیر اور حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ { وَیُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰی حُبِّہٖ مِسْکِیْنًا وَّیَتِیْمًا وَّاَسِیْرًا }۔ سے مراد اہل قبلہ اور دوسرے مشرکین ہیں۔
١٠٦٩٨ - (وعن حجاج) (١) عن عطاء ﴿وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَى حُبِّهِ مِسْكِينًا وَيَتِيمًا وَأَسِيرًا﴾ [الإنسان: ٨]، قالا: من أهل القبلة وغيرهم.
١٠٦٩٩ - حدثنا أبو معاوية عن (عمر) (١) (بن) (٢) نافع عن أبي (بكر العبسي) (٣) عن عمر في قوله (تعالى) (٤): ﴿إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ﴾ [التوبة: ٦٠]، قال: هم زمني أهل الكتاب (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے قول {إنَّمَا الصَّدَقَات لِلْفُقَرَائِ } سے مراد ہمارے وقت کے اہل کتاب ہیں۔
١٠٧٠٠ - حدثنا حميد بن عبد الرحمن عن حسن عن ليث عن مجاهد وطاوس أنهما كرها الصدقة على النصراني.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت لیث فرماتے ہیں کہ حضرت مجاہد اور حضرت طاؤس نصرانیوں کو زکوٰۃ دینے کو ناپسند فرماتے تھے۔
١٠٧٠١ - حدثنا شبابة قال: حدثنا شعبة عن عثمان (البتي) (١) عن الحسن (في) (٢) قوله (تعالى) (٣): ﴿وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَى حُبِّهِ مِسْكِينًا وَيَتِيمًا وَأَسِيرًا﴾ [الإنسان: ٨]، قال: (الأسارى) (٤) من أهل الشرك.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ اللہ پاک کے قول، { وَیُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَی حُبِّہِ مِسْکِینًا وَیَتِیمًا وَأَسِیرًا } سے مراد مشرکین قیدی ہیں۔
١٠٧٠٢ - حدثنا يزيد بن هارون (قال) (١) أخبرنا حبيب (٢) بن أبي حبيب عن عمرو بن هرم عن جابر بن (زيد) (٣) قال: سئل عن الصدقة في من (توضع) (٤) (فقال) (٥): في أهل (المسكنة) (٦) من المسلمين وأهل ذمتهم، وقال: وقد كان رسول اللَّه ﷺ (يقسم) (٧) في أهل الذمة من الصدقة والخمس (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن ھرم فرماتے ہیں کہ حضرت جابر بن زید سے دریافت کیا گیا کہ صدقہ کس کو دیا جائے ؟ آپ نے فرمایا مسلمان اور اہل ذمی جو مسکین ہوں ان کو، اور فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اہل ذمہ پر صدقات اور خمس تقسیم فرمایا کرتے تھے۔