١٠٤١٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حاتم بن إسماعيل عن (خثيم) (١) بن عراك قال: سمعت أبي يقول: سمعت أبا هريرة يقول: قال (٢) رسول اللَّه ﷺ: "لا صدقة على المسلم في عبده ولا (فرسه) (٣) " (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عراک فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا وہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : مسلمان پر اس کے غلام اور گھوڑے کی زکوٰۃ نہیں ہے۔
١٠٤١٨ - حدثنا سفيان بن عيينة عن عبد اللَّه بن دينار عن سليمان بن يسار عن عراك (بن) (١) مالك عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إنه ليس على المسلم (في عبده ولا فرسه) (٢) صدقة" (٣).
١٠٤١٩ - [حدثنا وكيع عن شعبة (و) (١) سفيان عن عبد اللَّه بن دينار عن سليمان ابن يسار عن عراك بن مالك عن أبي هريرة ﵁ قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "ليس على المسلم في فرسه ولا عبده صدقة] (٢) " (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا مسلمان پر اس کے غلام، اس کے گھوڑے اور باندی کی زکوٰۃ نہیں ہے۔
١٠٤٢٠ - حدثنا وكيع عن أسامة عن مكحول عن عراك بن مالك عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "ليس على المسلم [في عبده ولا (فرسه) (١) ولا وليدته] (٢) صدقة" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مسلمان پر اس کے گھوڑے اور غلام کی زکوٰۃ نہیں ہے۔
١٠٤٢١ - حدثنا ابن عيينة عن أبي إسحاق عن الحارث عن علي (قال: قال رسول اللَّه ﷺ) (١): " (قد) (٢) تجاوزت لكم عن صدقة الخيل والرقيق" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تحقیق تمہیں گھوڑوں اور غلام کی زکوٰۃ معاف کردی گئی ہے۔
١٠٤٢٢ - حدثنا ابن مبارك عن حجاج عن أبي إسحاق عن الحارث عن علي قال: قال رسول اللَّه ﷺ) (١): "أما الخيل والرقيق فقد عفوت عن صدقاتها" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : گھوڑوں اور غلاموں کی زکوٰۃ معاف کردی گئی ہے۔
١٠٤٢٣ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن ابن (أبي) (١) خالد عن (شبيل) (٢) ⦗٢٤١⦘ ابن عوف قال: و (٣) كان أدرك الجاهلية قال: أمر عمر بن الخطاب الناس بالصدقة فقال الناس: يا (أمير) (٤) المؤمنين خيل لنا ورقيق أفرض علينا عشرة (عشرة) (٥) (قال) (٦): أما أنا فلا أفرض (ذلك) (٧) عليكم (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شبیل بن عوف انہوں نے جاہلیت کا زمانہ پایا تھا فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے لوگوں کو زکوٰۃ ادا کرنے کا حکم فرمایا : تو لوگوں نے عرض کیا اے امیر المؤمنین ھمارے پاس گھوڑے اور غلام بھی ہیں آپ ھمارے لئے ان پر دس دس فرض فرما دیجئے آپ نے فرمایا کہ مں ی تم پر فرض نہیں کرسکتا۔
١٠٤٢٤ - حدثنا محمد بن بكر عن ابن (جريج) (١) قال: أخبرني عبد اللَّه (بن أبي حسين) (٢) أن ابن شهاب أخبره أن عثمان كان يصدق (الخيل) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن شہاب فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان گھوڑوں کی زکوٰۃ نکالا کرتے تھے، اور حضرت سائب ابن اخت نمر فرماتے ہیں کہ وہ گھوڑے کی زکوٰۃ حضرت عمر کے پاس لے کر آتے تھے۔
١٠٤٢٦ - حدثنا ابن عيينة عن (ابن طاوس) (١) عن أبيه عن ابن عباس قال: ليس (على) (٢) (الفرس) (٣) الغازي في سبيل اللَّه صدقة (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے غازی کے گھوڑے پر زکوٰۃ نہیں ہے۔
١٠٤٢٧ - حدثنا ابن عيينة عن عبد اللَّه بن دينار قال: سئل ابن المسيب: (أفي) (١) البراذين صدقة؟ قال: أوفي (الخيل) (٢) صدقة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن دینار فرماتے ہیں کہ میں حضرت سعید بن المسیب سے عرض کیا کہ کیا عربی النسل گھوڑوں پر زکوٰۃ ہے ؟ انہوں نے (تعجب کرتے ہوئے) فرمایا کیا ! گھوڑوں پر زکوٰۃ ! ! !
١٠٤٢٨ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان (١) عن يحيى بن سعيد عن عبد اللَّه بن دينار قال: سألت سعيد بن المسيب عن صدقة (البراذين) (٢) [(فقال) (٣) ((لي) (٤): أو) (٥) في الخيل صدقة، أو في الخيل صدقة] (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن دینار فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن المسیب سے پوچھا کہ کیا عربی النسل گھوڑوں پر زکوٰۃ ہے ؟ آپ نے فرمایا (تعجب کرتے ہوئے) کیا گھوڑوں پر زکوٰۃ ؟ آپ نے یہ جملہ دو بار ارشاد فرمایا۔
١٠٤٢٩ - [[حدثنا أبو أسامة (عن أسامة) (١) عن نافع أن (٢) عمر بن عبد العزيز قال: ليس في (الخيل) صدقة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر بن عبد العزیز فرماتے ہیں کہ گھوڑوں پر زکوٰۃ نہیں ہے۔
١٠٤٣٠ - حدثنا الثقفي عن برد عن (مكحول) (١) قال: ليس في الخيل ولا (الرقيق) (٢) صدقة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مکحول فرماتے ہیں کہ گھوڑوں اور غلاموں پر زکوٰۃ نہیں ہے۔
١٠٤٣١ - حدثنا وكيع عن مالك عن عطاء قال: ليس في الخيل السائمة صدقة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ چرنے والے گھوڑوں پر زکوٰۃ نہیں ہے۔
١٠٤٣٢ - حدثنا علي بن مسهر عن (الأجلح) (١) قال: سألت الشعبي عن صدقة الخيل والرقيق فقال: ليس (فيها) (٢) زكاة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اجلح فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت شعبی سے گھوڑوں اور غلاموں کی زکوٰۃ کے متعلق دریافت کیا تو آپ نے فرمایا ان پر زکوٰۃ نہیں ہے۔
١٠٤٣٣ - حدثنا هشيم عن (مغيرة) (١) عن إبراهيم أنه كان لا يرى في الرقيق إذا كانوا (للتجارة) (٢) صدقة (إلا) (٣) الفطر) (٤)، ولكن يقومهم فيؤدي عنهم (الزكاة) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیرہ فرماتے ہیں کہ ابراہیم جو غلام تجارت کیلئے ہوں ان پر صدقۃ الفطر کو فرض نہیں سمجھتے تھے، لیکن ( فرماتے تھے کہ) ان کی قیمت لگائی جائے گی اور اس قیمت پر زکوٰۃ ادا کی جائے گی۔
١٠٤٣٤ - حدثنا هشيم عن يونس عن الحسن أنه كان (يقول) (١) (مثل) (٢) ذلك.
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے بھی اسی طرح منقول ہے۔
١٠٤٣٥ - حدثنا وكيع عن (١) مبارك عن (الحسن) (٢) قال: ليس في (الخيل) (٣) و (البراذين) (٤) و (الحمير) (٥) صدقة.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ (عجمی) گھوڑوں پر اور عجمی النسل گھوڑوں پر اور اسی طرح گدھوں پر زکوٰۃ نہیں ہے۔
١٠٤٣٦ - حدثنا وكيع عن سفيان عن ابن (جريج) (١) عن عطاء في العبد (للتجارة) (٢) قال: ليس عليه زكاة (٣) الفطر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ جو غلام تجارت کیلئے ہو اس پر صدقۃ الفطر نہیں ہے۔
١٠٤٣٧ - حدثنا عبد الرحيم عن ابن سالم عن الشعبي قال: ليس على البهيمة ولا على المملوك زكاة إلا أن (تكون) (١) (للتجارة) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ چوپاؤں اور غلاموں پر تب تک زکوٰۃ نہیں ہے جب تک وہ تجارت کیلئے نہ ہوں، (اگر تجارت کیلئے ہوں تو پھر زکوٰۃ ہے) ۔
١٠٤٣٨ - حدثنا غندر عن شعبة عن الحكم قال: ليس في (الخيل) (١) صدقة، قال حماد: فيها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم فرماتے ہیں کہ گھوڑوں پر زکوٰۃ نہیں ہے۔