کتب حدیث › مصنف ابن ابي شيبه › ابواب › باب: ’’بعض حضرات فرماتے ہیں کہ یتیم جب تک بالغ نہ ہو جائے اس کے مال پر زکاۃ نہیں ہے‘‘
❮
❯
١٠٤٠٥ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا ابن إدريس عن ليث عن مجاهد عن ابن مسعود أنه كان يقول: (أحص) (١) ما يجب في مال اليتيم من الزكاة فإذا بلغ وأونس ⦗٢٣٧⦘ منه (رشدٌ) (٢) (فاعلمه) (٣) (فإن) (٤) شاء زكاه وإن شاء تركه (٥)
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یتیم کے مال پر جو زکوٰۃ واجب ہے اس کا حساب لگاتے رہو پھر جب وہ بالغ ہوجائے اور سن بلوغ کو پہنچ جائے تو اسکو بتادو اگر وہ چاہے تو زکوٰۃ ادا کر دے اور اگر چاہے تو نہ کرے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10405
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لحال ليث بن أبي سليم.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10405، ترقيم محمد عوامة 10221)
١٠٤٠٦ - حدثنا جرير عن منصور عن إبراهيم قال: ليس في مال اليتيم زكاة (حتى يحتلم) (١).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ یتیم جب تک بالغ نہ ہوجائے اس کے مال پر زکوٰۃ نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10406
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10406، ترقيم محمد عوامة 10222)
١٠٤٠٧ - حدثنا وكيع (عن سفيان) (١) عن الأعمش عن إبراهيم مثله.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم سے اسی طرح منقول ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10407
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10407، ترقيم محمد عوامة 10223)
١٠٤٠٨ - حدثنا أبو أسامة عن هشام عن الحسن قال: ليس في مال اليتيم زكاة حتى (يحتلم) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ یتیم جب تک بالغ نہ ہوجائے اس کے مال پر زکوٰۃ نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10408
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10408، ترقيم محمد عوامة 10224)
١٠٤٠٩ - حدثنا وكيع عن سفيان عن يونس عن الحسن أنه كان عنده مال لبني أخ له أيتام فلا يزكيه.
مولانا محمد اویس سرور
یونس فرماتے ہیں کہ حسن کے پاس بھائی کی یتیم اولاد کا مال تھا لیکن وہ اس پر زکوٰۃ نہیں نکالا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10409
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10409، ترقيم محمد عوامة 10225)
١٠٤١٠ - حدثنا حفص عن حجاج عن الحكم عن شريح (١) في مال اليتيم [قال: أوشك إذا أخذت منه الذود والذودين (أن) (٢) لا يبقى منه شيء] (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شریح فرماتے ہیں کہ یتیم کے مال کے بارے میں کہ لازمی بات ہے کہ جب تو تھوڑی چیز نکالتا رہے گا تو اس کے پاس کچھ نہ بچے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10410
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10410، ترقيم محمد عوامة 10226)
١٠٤١١ - [حدثنا وكيع عن سفيان عن جابر عن عامر قال: ليس في مال اليتيم زكاة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر فرماتے ہیں کہ یتیم کے مال پر (بلوغت سے پہلے) زکوٰۃ نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10411
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10411، ترقيم محمد عوامة 10227)
١٠٤١٢ - حدثنا وكيع عن سعيد بن دينار قال: سألت (الشعبي) (١) عن مال اليتيم فيه زكاة قال: نعم ولو كان عندي ما زكيته] (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن دینار فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت شعبی سے یتیم کے مال کے بارے میں دریافت کیا کہ کیا اس پر زکوٰۃ ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ جی ہاں۔ اگر وہ میرے پاس ہوتا تو میں اس کی زکوٰۃ نہ دیتا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10412
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10412، ترقيم محمد عوامة 10228)
١٠٤١٣ - حدثنا يحيى بن يمان عن الحسن بن (يزيد) (١) قال: سمعت مجاهدًا يقول: أحصه فإذا علمت فزكه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسن بن زید فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت مجاہد کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ (یتیم کا مال) شمار کرتے رہو۔ جب آپکو معلوم ہوجائے (کہ زکوٰۃ کو پہنچ گیا ہے) تو زکوٰۃ ادا کردو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10413
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10413، ترقيم محمد عوامة 10229)
١٠٤١٤ - حدثنا أبو أسامة عن سعيد عن قتادة عن الحسن قال: يؤخذ من (النخل) (١) والماشية (وأما) (٢) المال فحتى يحتلم؛ يعني مال اليتيم.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ کھجور کے درخت اور جانوروں پر زکوٰۃ لی جائے گی باقی رہا یتیم کا مال تو اس پر تب تک زکوٰۃ نہیں ہے جب تک وہ بالغ نہ ہوجائے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10414
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10414، ترقيم محمد عوامة 10230)
١٠٤١٥ - حدثنا أبو بكر بن عياش عن عاصم أن أبا وائل (كان يقول) (١): كان في حجري يتيم له ثمانية آلاف، (فلم) (٢) أزكها حتى لما بلغ (دفعتها) (٣) إليه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عاصم سے مروی ہے کہ حضرت ابو وائل فرماتے ہیں کہ میری پرورش میں ایک یتیم تھا اس کی ملکیت میں آٹھ ہزار (درھم یا دینار) تھے میں نے اس کی زکوٰۃ نہ دی یہاں تک کہ وہ بالغ ہوگیا تو میں نے مال اسکو واپس کردیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10415
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10415، ترقيم محمد عوامة 10231)
١٠٤١٦ - حدثنا ابن عيينة عن عمرو (عن) (١) عبد (الرحمن) (٢) (بن) (٣) (السائب) (٤) قال: كان عند ابن عمر مال يتيم، فاستسلف ماله حتى لا (يؤدي) (٥) زكاته (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن السائب سے مروی ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس یتیم کا مال تھا، بطور ادھار وہ مال دے دیا تاکہ اس کی زکوٰۃ ادا نہ کریں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10416
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10416، ترقيم محمد عوامة 10232)