کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: معتکف کون کون سے اعمال کرسکتا ہے اور کون سے نہیں کرسکتا؟
٩٨٨٨ - حدثنا أبو بكر قال: (نا) (١) أبو الأحوص عن أبي إسحاق عن عاصم ⦗٩١⦘ ابن ضمرة عن علي قال: إذا اعتكف الرجل فليشهد الجمعة وليعد المريض و (ليحضر) (٢) الجنازة وليأتِ أهله وليأمرهم بالحاجة وهو قائم (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب کوئی آدمی اعتکاف میں بیٹھے تو اسے چاہئے کہ جمعہ کی نماز میں حاضر ہو، مریض کی عیادت کرے، جنازہ میں شریک ہو، کھڑے کھڑے اپنے گھر والوں کے پاس آئے اور ضروریات پوری کرلے۔
٩٨٨٩ - حدثنا هشيم قال: أخبرنا الشيباني عن سعيد بن جبير أنه قال: (ليشهد) (١) الجمعة ويعود المريض ويجيب الإمام.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ معتکف جمعہ پڑھ سکتا ہے، مریض کی عیادت کرسکتا ہے اور امام کے بلانے پر جائے گا۔
٩٨٩٠ - حدثنا هشيم عن الزهري قال: (حدثتنا) (١) عمرة عن عائشة (أنها) (٢) كانت (لا) (٣) تعود المريض من أهلها وهي معتكفة إلا وهي مارة (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرہ فرماتی ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اعتکاف کی حالت میں چلتے چلتے ہی اپنے اہل میں سے کسی مریض کی عیادت کیا کرتی تھیں۔
٩٨٩١ - حدثنا علي بن مسهر عن الشيباني عن سعيد بن جبير قال: يشهد الجمعة، ويعود المريض، و (يحضر) (١) الجنازة، ويخرج إلى (الحاجة) (٢)، ويجيب الإمام، وذلك أن عمرو بن حريث أرسل إليه وهو معتكف فلم يأته فأرسل إليه (فأتاه) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ معتکف جمعہ کی نماز کے لئے حاضر ہوگا، مریض کی عیادت کرے گا، جنازہ میں شریک ہوگا، ضرورت کے لئے جائے گا، امام کے بلانے پر جائے گا۔ یہ بات انہوں نے اس لئے فرمائی کہ انہوں نے حضرت عمرو بن حریث کو بلایا تھا، وہ اعتکاف میں ہونے کی وجہ سے نہیں آئے تو حضرت سعید بن جبیر نے ان کی طرف یہ بات لکھ بھیجی جس پر وہ آگئے تھے۔
٩٨٩٢ - حدثنا هشيم عن مغيرة عن إبراهيم قال: كانوا يحبون للمعتكف أن (يشترط) (١) هذه الخصال وهي له وإن لم (يشترط): (٢) عيادة المريض، وأن يتبع ⦗٩٢⦘ الجنازة (٣)، يشهد الجمعة (٤).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ اسلاف معتکف کے ان عادات کو شرط قرار دیئے بغیر پسند فرماتے تھے : مریض کی عیادت کرنا، جنازہ کے پیچھے جانا، جمعہ کی نماز ادا کرنا۔
٩٨٩٣ - حدثنا ابن فضيل عن مطرف عن الشعبي قال: يخرج إلى الغائط ويعود المريض ويأتي الجمعة و (يقوم) (١) على الباب.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ معتکف رفعِ حاجت کے لئے باہر جاسکتا ہے، مریض کی عیادت کرسکتا ہے، جمعہ کی نماز کے لئے جاسکتا ہے لیکن وہ دروازے میں کھڑا ہوگا۔
٩٨٩٤ - حدثنا يزيد بن هارون عن هشام عن الحسن قال: يأتي الجمعة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ معتکف جمعہ کے لئے جاسکتا ہے۔
٩٨٩٥ - (حدثنا وكيع عن علي بن مبارك عن يحيى عن أبي سلمة قال: المعتكف يعود المريض ويشهد الجمعة) (١) ويقوم مع الرجل في الطريق (يسائله) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سلمہ فرماتے ہیں کہ معتکف مریض کی عیادت کرے گا، جمعہ کی نماز ادا کرے گا اور راستے میں کسی آدمی کے ساتھ کھڑے ہوکربات چیت کرسکتا ہے۔
٩٨٩٦ - حدثنا وكيع عن يزيد عن الحسن قال: يأتي الغائط ويتبع الجنازة ويعود المريض.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ معتکف رفعِ حاجت کے لئے باہر جاسکتا ہے ، جنازے کے پیچھے جاسکتا ہے اور مریض کی عیادت کرسکتا ہے۔
٩٨٩٧ - حدثنا وكيع عن سفيان عن سعيد بن جبير قال: يشهد الجمعة، ويعود المريض، ويحضر الجنازة (١)، قال مرة: ويجيب الإمام.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ معتکف جمعہ کی نماز میں حاضر ہوگا، جنازہ پڑھے گا اور امام کے بلانے پر جائے گا۔
٩٨٩٨ - (حدثنا) يزيد بن هارون قال: (أنا) (١) سفيان (بن حسين) (٢) عن الزهري عن عروة عن عائشة قالت: كان رسول اللَّه ﷺ إذا كان معتكفًا لم يدخل البيت إلا لحاجة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب اعتکاف میں بیٹھتے تو صرف کسی ضرورت کے لئے ہی گھر آیا کرتے تھے۔
٩٨٩٩ - حدثنا وكيع عن سفيان عن عبد اللَّه بن أبي بكر عن عمرة عن عائشة أنها كانت تمر بالمريض من أهلها وهي معتكفة (فلا) (١) (تعرض) (٢) له (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرہ فرماتی ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا حالت اعتکاف میں اپنے متعلقین میں سے کسی مریض کے پاس سے گذرتیں تو اس کی طرف متوجہ نہ ہوتی تھیں۔
٩٩٠٠ - حدثنا وكيع عن سفيان عن ابن جريج عن الزهري عن سعيد بن المسيب.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب اور حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ معتکف نہ جنازے میں شریک ہوگا اور نہ مریض کی عیادت کرے گا۔
٩٩٠١ - وعن سفيان عن ابن جريج عن عطاء قالا: المعتكف لا (يشهد) (١) جنازة ولا يعود مريضًا.
٩٩٠٢ - حدثنا عبد الأعلى عن (معمر) (١) عن الزهري قال: لا يتبع جنازة ولا (يعود) (٢) مريضًا ولا (يجيب) (٣) دعوة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری فرماتے ہیں کہ معتکف نہ جنازے میں شریک ہوگا، نہ مریض کی عیادت کرے گا اور نہ ہی کسی کے بلانے پر جائے گا۔
٩٩٠٣ - حدثنا ابن عيينة عن ابن أبي نجيح عن مجاهد قال: المعتكف لا يتبع جنازة ولا يعود مريضًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ معتکف نہ جنازے کے ساتھ جائے گا اور نہ مریض کی عیادت کرے گا۔
٩٩٠٤ - [حدثنا وكيع عن هشام عن أبيه قال: لا يجيب دعوة ولا يعود مريضًا] (١) ولا يحضر جنازة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ فرماتے ہیں کہ معتکف نہ کسی کے بلانے پر جائے گا، نہ مریض کی عیادت کرے گا اور نہ ہی جنازے میں شریک ہوگا۔