کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اگر کسی آدمی کو امام کے ساتھ ایک رکعت ملے تو وہ کیا کرے؟
٨٨٨٥ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا إسحاق بن منصور قال: ثنا محمد بن مسلم عن عمرو بن دينار عن (عطاء) (١) قال: إذا كان لك وتر وللإمام شفع فلا تشهد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ جب تمہاری ایک رکعت ہوئی ہو اور امام کی دو ہوگئی ہوں تو تم تشہد نہ پڑھو۔
٨٨٨٦ - حدثنا إسحاق بن منصور قال: ثنا محمد بن مسلم عن يحيى بن سعيد عن ابن شهاب قال: يتشهد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن شہاب فرماتے ہیں وہ تشہد پڑھے گا۔
٨٨٨٧ - حدثنا ابن مبارك عن هشام عن الحسن في الرجل يدرك ركعة (مع) (١) الإمام قال: يتشهد.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ اگر کسی کو امام کے ساتھ ایک رکعت ملے تو وہ تشہد پڑھے گا۔
٨٨٨٨ - حدثنا ابن مهدي عن محمد بن مسلم عن عمرو بن دينار عن عطاء في الرجل يدرك مع الإمام وترًا (من) (١) الصلاة قال: لا يتشهد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء اس شخص کے بارے میں جسے امام کے ساتھ ایک رکعت ملے فرماتے ہیں کہ وہ تشہد نہیں پڑھے گا۔ حضرت عمرو بن دینار فرماتے ہیں کہ میں بھی یہی سمجھتا ہوں۔
٨٨٩٠ - حدثنا ابن مهدي عن مالك بن أنس قال: سألت نافعًا وابن شهاب عن الرجل يسبق بركعة فيجلس مع الإمام قالا: يتشهد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مالک بن انس کہتے ہیں کہ میں نے حضرت نافع اور حضرت ابن شہاب سے اس آدمی کے بارے میں سوال کیا جسے ایک رکعت ملے، تو کیا وہ امام کے ساتھ قعدہ کرے گا ؟ انہوں نے فرمایا کہ وہ تشہد پڑھے گا۔