کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: فرض نماز کی جگہ اس جیسی دوسری نماز جن حضرات کے نزدیک مکروہ ہے
٦١٣٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن مغيرة عن إبراهيم قال: قال ⦗٢٩٩⦘ عمر: لا (يصلي) (١) بعد (صلاة مثله) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر فرماتے ہیں کہ ایک نماز کے بعد اس کی جگہ اس جیسی دوسری نماز مکروہ ہے۔
٦١٣٣ - حدثنا أبو معاوية وابن إدريس عن الأعمش عن إبراهيم عن (سليمان) (١) بن مسهر عن خرشة قال: كان عمر يكره أن يصلي خلف صلاة مثلها (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خرشہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر اس بات کو مکروہ خیال فرماتے تھے کہ ایک نماز کے بعد اسی جگہ اس جیسی دوسری نماز پڑھی جائے۔
٦١٣٤ - حدثنا ابن إدريس عن حصين عن إبراهيم والشعبي قالا: قال عبد اللَّه: لا يصلي على أثر صلاة مثلها (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں کہ ایک نماز کی جگہ اس جیسی دوسری نماز ادا نہ کی جائے گی۔
٦١٣٥ - حدثنا هشيم قال: أنا (١) حصين عن أصحاب عبد اللَّه عن عبد اللَّه أنه كان يكره أن يصلي بعد المكتوبة مثلها (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ اس بات کو مکروہ خیال کرتے تھے کہ ایک فرض نماز کی جگہ اس کے بعد اس جیسی نماز ادا کی جائے۔
٦١٣٦ - حدثنا (سلام أبو) (١) الأحوص عن أبي حمزة عن إبراهيم قال: كان عبد اللَّه يكره أن يصلي بعد المكتوبة مثلها (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ اس بات کو مکروہ خیال کرتے تھے کہ ایک فرض نماز کی جگہ اس کے بعد اس جیسی نماز ادا کی جائے۔
٦١٣٧ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (١) هشيم عن مغيرة عن إبراهيم قال: كانوا يكرهون أن يصلوا بعد المكتوبة مثلها] (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ اسلاف اس بات کو مکروہ خیال فرماتے تھے کہ فرض نماز کے بعد اس جگہ اس جیسی نماز ادا کی جائے۔
٦١٣٨ - [حدثنا هشيم عن العوام قال: حدثنا المسيب بن (رافع) (١) قال: كانوا يكرهون (أن) (٢) يصلوا بعد المكتوبة مثلها] (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسیب بن رافع فرماتے ہیں کہ اسلاف اس بات کو مکروہ خیال فرماتے تھے کہ فرض نماز کے بعد اس جگہ اس جیسی نماز ادا کی جائے۔
٦١٣٩ - حدثنا هشيم عن الأعمش عن سليمان بن مسهر عن خرشة (١) بن (الحُر) (٢) عن عمر أنه كره أن يصلي بعد المكتوبة مثلها (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خرشہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر اس بات کو مکروہ خیال فرماتے تھے کہ ایک نماز کے بعد اسی جگہ اس جیسی دوسری نماز پڑھی جائے۔