١٥٨٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (ابن إدريس) (١) عن يزيد بن أبي زياد عن إبراهيم عن علقمة: أنه كانت له خرقة يتمسح بها.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت علقمہ کا ایک رومال تھا جس سے پانی خشک کیا کرتے تھے۔
١٥٨٦ - حدثنا ابن إدريس عن (يزيد) (١) (أبي عبد اللَّه) (٢) عن (عبد اللَّه ابن الحارث) (٣) قال: كان له منديل، يتمسح به بعد الوضوء (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یزید بن عبد اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن حارث کے پاس ایک رومال تھا جس سے وضو کا پانی خشک فرمایا کرتے تھے۔
١٥٨٧ - حدثنا عباد بن العوام عن ابن أبي خالد عن عمر بن يعلى عن أبيه يعلى: أنه كان لا يرى بمسح الوجه بالمنديل بعد الوضوء بأسًا (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یعلیٰ وضو کے بعد رومال سے چہرہ صاف کرنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔
١٥٨٨ - حدثنا وكيع عن إسماعيل بن أبي خالد عن حكيم بن جابر قال: أرسل أبي مولاة لنا إلي الحسن بن علي، فرأته توضأ وأخذ خرقة بعد الوضوء، فتمسح بها، فكأنها مقتته!، فرأت من (الليل) (١) كأنها تتقيأ (كبدها) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکیم بن جابر کہتے ہیں کہ میرے والد نے حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے پاس ایک باندی بھیجی اس نے دیکھا کہ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے وضو کرنے کے بعد ایک کپڑے سے پانی خشک کیا۔ ان کا یہ عمل اس باندی کو برا محسوس ہوا تو اس نے رات کو خواب میں دیکھا کہ اس کا جگر اس کے منہ سے باہر آ رہا ہے۔
١٥٨٩ - حدثنا وكيع عن (أم غراب) (١) قالت: حدثتني (بنانة) (٢) خادم لأم البنين امرأة عثمان: أن عثمان توضأ فمسح وجهه بالمنديل (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عثمان نے وضو کرنے کے بعد اپنے چہرے کو رومال سے خشک فرمایا۔
١٥٩٠ - حدثنا وكيع عن مسعر عن سويد مولى عمرو بن حريث: أن عليًا اغتسل، ثم أخذ ثوبًا، فدخل فيه؛ يعني: تنشف به (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے غسل کیا اور پھر ایک کپڑے سے جسم کو خشک فرمایا۔
١٥٩١ - حدثنا وكيع عن مسعر عن (ثابت بن عبيد) (١) قال: رأيت بشر بن أبي سعيد يتمسح بالمنديل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ثابت بن عبید کہتے ہیں کہ میں نے حضرت بشر بن ابی سعید کو رومال سے صاف کرتے دیکھا ہے۔
١٥٩٢ - حدثنا وكيع عن سفيان عن إبراهيم بن محمد بن المنتشر عن أبيه عن مسروق: أنه (كانت) (١) له خرقة يتنشف بها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسروق کے پاس ایک رومال تھا جس سے پانی صاف کیا کرتے تھے۔
١٥٩٣ - حدثنا ابن علية عن يونس عن الحسن ومحمد: أنهما كانا لا يريان بمسح الوجه بالمنديل بعد الوضوء بأسًا.
مولانا محمد اویس سرور
محمد اور حسن وضو کے بعد رومال سے پانی خشک کرنے میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے۔
١٥٩٤ - [حدثنا معتمر بن سليمان عن أبيه: أن الحسن وابن سيرين كانا لا يريان به بأسًا] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین اور حسن وضو کے بعد رومال سے پانی خشک کرنے میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے۔
١٥٩٥ - حدثنا وكيع عن شعبة عن (اسير) (١) (بن الربيع) (٢) بن عميلة (٣) قال: رأيت أبي، وأبا الأحوص يمسحان بالمنديل بعد الوضوء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسیر بن ربیع فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد اور حضرت ابو الاحوص کو وضو کے بعد رومال سے پانی خشک کرتے دیکھا ہے۔
١٥٩٦ - حدثنا ابن علية عن ليث عن (رزيق) (١) عن أنس: أنه كان يتوضأ ويمسح وجهه، ويديه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس وضو کے بعد ہاتھوں اور چہرے کا پانی صاف کرتے تھے۔
١٥٩٧ - حدثنا وكيع عن سفيان عن سالم عن سعيد بن جبير قال: لا بأس به.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔
١٥٩٨ - حدثنا ابن علية عن ابن عون قال: سألت الحسن عن الرجل يمسح وجهه بالخرقة بعد ما يتوضأ فقال: نعم، إذا كانت الخرقة نظيفة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عون کہتے ہیں کہ میں نے حسن سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا جو وضو کے بعد کپڑے سے اپنا چہرہ صاف کرے۔ حسن نے فرمایا کہ اگر کپڑا صاف ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں۔
١٥٩٩ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير عن الأجلح عن الضحاك: أنه سئل عن المنديل بعد الوضوء؟، فقال: هو أنقى للوجه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ضحاک سے وضو کے بعد رومال کے استعمال کے بارے میں سوال کیا گیا تو فرمایا کہ یہ تو چہرے کو زیادہ صاف کرنے والا ہے۔
١٦٠٠ - حدثنا ابن نمير ووكيع عن إسماعيل عن الشعبي قال: لا بأس به.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔
١٦٠١ - حدثنا وكيع عن شعبة عن الحكم عن ابن عمر أنه مسح وجهه بثوبه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کپڑے سے چہرے کو صاف فرمایا۔
١٦٠٢ - حدثنا ابن علية عن شعبة عن سلمة بن كهيل قال: كان الأسود يتمسح بالمنديل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسود رومال سے جسم صاف کیا کرتے تھے۔
١٦٠٣ - حدثنا ابن إدريس عن هشام عن الحسن، ومحمد: أنهما كانا لا يريان به بأسًا، وكان ابن سيرين يقول: (تركه) (١) أحب إليَّ منه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام فرماتے ہیں کہ حسن اور محمد اس میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے اور حضرت ابن سیرین فرماتے تھے کہ اسے چھوڑنا مجھے زیادہ پسند ہے۔
١٦٠٤ - حدثنا عبد الأعلى عن معمر عن الزهري: أنه كان لا يرى بأسًا أن يمسح الرجل وجهه بالمنديل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری اس بات میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے کہ آدمی رومال سے اپنا چہرہ صاف کرے۔
١٦٠٥ - حدثنا ابن فضيل عن عاصم عن بكر قال: أنفع ما يكون المنديل في الشتاء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت بکر فرماتے ہیں کہ سردیوں میں رومال کا استعمال زیادہ فائدہ مند ہے۔