حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَجَاءٍ، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ الْحُصَيْنِ، قَالَتْ: أَنَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ بِمِنًى، قَدِ الْتَحَفَ بِثَوْبِهِ، وَإِنَّ عَضَلَةَ عَضُدِهِ تَرْتَجُّ، وَهُوَ يَقُولُ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا اللهَ وَاسْمَعُوا وَأَطِيعُوا، وَإِنْ أُمِّرَ عَلَيْكُمْ عَبْدٌ حَبَشِيٌّ مُجَدَّعٌ، فَاسْمَعُوا وَأَطِيعُوا مَا أَقَامَ فِيكُمْ كِتَابَ اللهِ تَعَالَى»
ترجمہ
سیدہ ام حصین احمسیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو منیٰ میں خطبہ دیتے ہوئے دیکھا، آپ ﷺ نے اپنی چادر اوڑھ رکھی تھی اور آپ ﷺ کے بازو کا پٹھا ہل رہا تھا، اور آپ ﷺ فرما رہے تھے: ”اے لوگو! اللہ سے ڈرو، سنو اور اطاعت کرو، اگرچہ تم پر ایک کان کٹا حبشی غلام حاکم بنا دیا جائے، تو بھی سنو اور اطاعت کرو جب تک وہ تم میں اللہ تعالیٰ کی کتاب قائم رکھے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا زُهَيْرٌ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ الْحُصَيْنِ، قَالَتْ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ وَهُوَ عَلَى رَحْلِهِ، وَرَاحِلَتِهِ وَحُصَيْنٌ فِي حِجْرِي، وَقَدْ أَدْخَلَ ثَوْبَهُ مِنْ تَحْتِ إِبْطِهِ، وَهُوَ يَقُولُ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا اللهَ وَاسْمَعُوا وَأَطِيعُوا لِمَنْ كَانَ عَلَيْكُمْ، وَإِنْ كَانَ عَبْدًا حَبَشِيًّا مُجَدَّعًا، فَاسْمَعُوا وَأَطِيعُوا مَا أَقَامَ فِيكُمْ كِتَابَ اللهِ»
ترجمہ
سیدہ ام حصین احمسیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو حجۃ الوداع کے موقع پر اپنی سواری پر دیکھا، جبکہ حصین میری گود میں تھا، آپ ﷺ نے اپنا کپڑا بغل کے نیچے سے نکالا ہوا تھا اور فرما رہے تھے: ”اے لوگو! اللہ سے ڈرو، سنو اور اپنے حاکم کی اطاعت کرو، خواہ وہ ایک کان کٹا حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو، تو بھی سنو اور اطاعت کرو جب تک وہ تم میں اللہ کی کتاب قائم رکھے۔“
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدُ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ يَحْيَى بْنُ حُصَيْنٍ، عَنْ أُمِّهِ أُمِّ حُصَيْنٍ، قَالَتْ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ وَسَمِعْتُهُ يُذَكِّرُهُمْ وَيَأْمُرُهُمْ، وَكَانَ فِيمَا سَمِعْتُهُ يَقُولُ: إِنِ «اسْتُعْمِلَ عَلَيْكُمْ عَبْدٌ حَبَشِيٌّ مُجَدَّعٌ، فَأَقَامَ فِيكُمْ كِتَابَ اللهِ فَاسْمَعُوا لَهُ وَأَطِيعُوا»
ترجمہ
سیدہ ام حصین رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو حجۃ الوداع کے موقع پر دیکھا، آپ ﷺ لوگوں کو نصیحت اور حکم دے رہے تھے، اور جو کچھ میں نے سنا اس میں یہ بھی تھا کہ آپ ﷺ فرما رہے تھے: ”اگر تم پر ایک کان کٹا حبشی غلام حاکم بنا دیا جائے اور وہ تم میں اللہ کی کتاب قائم رکھے، تو اس کی بات سنو اور اطاعت کرو۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْخَشَّابُ الرَّقِّيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِّيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ حُصَيْنٍ، عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ الْحُصَيْنِ، قَالَتْ: حَجَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَّةَ الْوَدَاعِ، فَرَأَيْتُ بِلَالًا وَأُسَامَةَ وَبِلَالٌ يَقُودُ بِخِطَامِ رَاحِلَتِهِ، وَالآخَرُ رَافِعًا ثَوْبَهُ سُتْرَةً بِهِ مِنَ الْحَرِّ حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ، ثُمَّ انْصَرَفَ وَقَدْ جَعَلَ ثَوْبَهُ تَحْتَ إِبْطِهِ الْأَيْمَنِ عَلَى عَاتِقِهِ الْأَيْسَرِ، فَرَأَيْتُ تَحْتَ عُرْصُوفِ كَتِفِهِ الْأَيْمَنِ كَهَيْأَةِ جَمْعٍ فَوَقَفَ لِلنَّاسِ، فَقَالَ: قَوْلًا كَثِيرًا فَكَانَ مِمَّا يَقُولُ: إِنْ «أُمِّرَ عَلَيْكُمْ عَبْدٌ حَبَشِيٌّ أَسْوَدُ يَقُودُكُمْ بِكِتَابِ اللهِ، فَاسْمَعُوا وَأَطِيعُوا»
ترجمہ
… پھر آپ ﷺ روانہ ہوئے، آپ ﷺ نے اپنا کپڑا دائیں بغل کے نیچے سے بائیں کندھے پر ڈال رکھا تھا، تو میں نے آپ ﷺ کے دائیں کندھے کی ہڈی کے نیچے ابھرے ہوئے گوشت جیسی کوئی چیز دیکھی۔ آپ ﷺ لوگوں کے لیے رک گئے اور بہت سی باتیں فرمائیں، جن میں سے یہ بھی تھا: ”اگر تم پر ایک کالا حبشی غلام حاکم بنا دیا جائے جو تمہیں اللہ کی کتاب کے مطابق چلائے، تو سنو اور اطاعت کرو۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ السَّقَطِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ الْحُصَيْنِ وَالْعَيْزَارُ بْنُ حُرَيْثٍ، عَنْ أُمِّ الْحُصَيْنِ، قَالَتْ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشِيَّةَ عَرَفَةَ عَلَى بَعِيرٍ وَاقِفًا قَائِلًا بِرِدَائِهِ هَكَذَا وَأَخْرَجَ عَضُدَهُ الْأَيْمَنَ، قَالَتْ: فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ «اسْمَعُوا وَأَطِيعُوا، وَإِنْ أُمِّرَ عَلَيْكُمْ عَبْدٌ حَبَشِيٌّ مُجَدَّعٌ، فَأَقَامَ فِيكُمْ كِتَابَ اللهِ»
ترجمہ
سیدہ ام حصین رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو عرفہ کی شام اونٹ پر کھڑے دیکھا، آپ ﷺ نے اپنی چادر اس طرح کر رکھی تھی اور اپنا دایاں بازو باہر نکالا ہوا تھا۔ وہ کہتی ہیں: میں نے آپ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”اے لوگو! سنو اور اطاعت کرو، اگرچہ تم پر ایک کان کٹا حبشی غلام حاکم بنا دیا جائے، بشرطیکہ وہ تم میں اللہ کی کتاب قائم رکھے۔“
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْعَيْزَارِ بْنِ حُرَيْثٍ، عَنْ أُمِّ الْحُصَيْنِ، قَالَتْ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ بُرْدَهُ مُتَلَفِّعٌ بِهَا، وَهُوَ يَقُولُ: إِنْ «أُمِّرَ عَلَيْكُمْ عَبْدٌ حَبَشِيٌّ مُجَدَّعٌ، فَاسْمَعُوا لَهُ مَا أَقَامَ، فِيكُمْ كِتَابَ اللهِ تَعَالَى»
ترجمہ
سیدہ ام حصین رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے نبی کریم ﷺ کو سنا، آپ ﷺ اپنی چادر اوڑھے ہوئے تھے اور فرما رہے تھے: ”اگر تم پر ایک کان کٹا حبشی غلام حاکم بنا دیا جائے، تو اس کی بات سنو، جب تک وہ تم میں اللہ تعالیٰ کی کتاب قائم رکھے۔“
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَاشِمٍ الْبَغَوِيُّ، ثنا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا هَارُونُ بْنُ مُوسَى النَّحْوِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ ابْنِ أُمِّ الْحُصَيْنِ، عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ الْحُصَيْنِ: أَنَّهَا كَانَتْ تُصَلِّي خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَفٍّ مِنَ النِّسَاءِ، فَسَمِعَتْهُ يَقُولُ: " {الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ} بَلَغَ: {وَلَا الضَّالِّينَ} [الفاتحة: ٧] ، قَالَ: آمِينَ حَتَّى سَمِعْتُهُ وَأَنَا فِي صَفِّ النِّسَاءِ، وَكَانَ يُكَبِّرُ إِذَا سَجَدَ، وَإِذَا رَفَعَ "
ترجمہ
سیدہ ام حصین رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کے پیچھے عورتوں کی صف میں نماز پڑھا کرتی تھیں، تو انہوں نے آپ ﷺ کو یہ پڑھتے سنا: ”تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا رب ہے، نہایت مہربان، رحم کرنے والا، روزِ جزا کا مالک ہے“ [الفاتحہ: 2-4]، یہاں تک کہ جب ”نہ گمراہوں کے راستے پر“ [الفاتحہ: 7] پر پہنچے تو ”آمین“ کہی۔ میں نے یہ آپ ﷺ سے اس وقت سنا جب میں عورتوں کی صف میں تھی، اور آپ ﷺ سجدے میں جاتے اور اٹھتے وقت تکبیر کہتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ جَدَّتِهِ، قَالَتْ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " اسْمَعُوا وَأَطِيعُوا وَإِنْ أُمِّرَ عَلَيْكُمْ عَبْدٌ يَقُودُكُمْ بِكِتَابِ اللهِ وَسَمِعْتُهُ، يَقُولُ: اللهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِينَ. قَالَهَا ثَلَاثًا، قَالُوا: وَالْمُقَصِّرِينَ؟ قَالَ بَعْدَ الثَّالِثَةِ. وَلِلْمُقَصِّرِينَ "
ترجمہ
سیدہ ام حصین رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”سنو اور اطاعت کرو، اگرچہ تم پر ایک غلام حاکم بنا دیا جائے جو تمہیں اللہ کی کتاب کے مطابق چلائے۔“ اور میں نے آپ ﷺ کو یہ فرماتے بھی سنا: ”اے اللہ! سر منڈوانے والوں کو بخش دے۔“ آپ ﷺ نے یہ تین بار فرمایا۔ لوگوں نے عرض کیا: اور بال کتروانے والوں کو؟ تیسری بار کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا: ”اور بال کتروانے والوں کو بھی۔“