کتب حدیثالمعجم الكبير للطبرانيابوابباب: سیدہ ام مبشر انصاریہ رضی اللہ عنہا
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ الَّلهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى أُمِّ مُبَشِّرٍ فِي نَخْلٍ، فَقَالَ: «مَنْ غَرَسَ هَذَا النَّخْلَ أَمُسْلِمٌ أَوْ كَافِرٌ؟» قَالَتْ: بَلْ مُسْلِمٌ، قَالَ: «مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَغْرِسُ غَرْسًا أَوْ يَزْرَعُ زَرْعًا فَيَأْكُلُ مِنْهُ دَابَّةٌ أَوْ طَائِرٌ أَوْ إِنْسَانٌ إِلَّا كَانَ لَهُ صَدَقَةٌ»
ترجمہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ سیدہ ام مبشر رضی اللہ عنہا کے پاس ایک باغ میں تشریف لائے، تو فرمایا: ”یہ کھجور کے درخت کس نے لگائے ہیں، مسلمان نے یا کافر نے؟“ انہوں نے کہا: بلکہ مسلمان نے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو مسلمان بھی کوئی درخت لگائے یا کھیتی بوئے، پھر اس میں سے کوئی جانور، پرندہ یا انسان کھائے، تو وہ اس کے لیے صدقہ ہوتا ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 21722
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 25، صفحہ 100، حدیث 260
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ الْعَمِّيُّ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ الَّلهِ، عَنْ أُمِّ مُبَشِّرٍ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «مَنْ غَرَسَ هَذَا مُسْلِمٌ أَوْ كَافِرٌ؟» فَقُلْتُ: مُسْلِمٌ، فَقَالَ: «مَا مِنْ مُسْلِمٍ غَرَسَ غَرْسًا فَيَأْكُلُ مِنْهُ إِنْسَانٌ أَوْ دَابَّةٌ أَوْ طَائِرٌ إِلَّا كَانَتْ لَهُ صَدَقَةٌ»
ترجمہ
… سیدہ ام مبشر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: نبی کریم ﷺ میرے پاس تشریف لائے تو فرمایا: ”یہ کس نے لگایا ہے، مسلمان نے یا کافر نے؟“ میں نے کہا: مسلمان نے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو مسلمان بھی کوئی درخت لگائے، پھر اس میں سے کوئی انسان، جانور یا پرندہ کھائے، تو وہ اس کے لیے صدقہ ہوتا ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 21723
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 25، صفحہ 100، حدیث 261
حَدَّثَنَا أْحَمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ التُّسْتُرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ كَرَامَةَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، ثنا شَيْبَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ أُمِّ مُبَشِّرٍ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا فِي نَخْلٍ فَقَالَ: «مُسْلِمٌ غَرَسَ هَذَا أَوْ كَافِرٌ؟» قُلْتُ: لَا بَلْ مُسْلِمٌ، قَالَ: «مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَغْرِسُ غَرْسًا أَوْ يَزْرَعُ زًرْعًا فَيَأْكُلُ مِنْهُ طَائِرٌ أَوْ سَبُعٌ أَوْ دَابَّةٌ أَوْ إِنْسَانٌ إِلَّا كَانَتْ لَهُ صَدَقَةٌ»
ترجمہ
… سیدہ ام مبشر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے جبکہ میں ایک باغ میں تھی، تو فرمایا: ”یہ مسلمان نے لگایا ہے یا کافر نے؟“ میں نے کہا: نہیں، بلکہ مسلمان نے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو مسلمان بھی کوئی درخت لگائے یا کھیتی بوئے، پھر اس میں سے کوئی پرندہ، درندہ، جانور یا انسان کھائے، تو وہ اس کے لیے صدقہ ہوتا ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 21724
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 25، صفحہ 101، حدیث 262
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرْ بِنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ أُمِّ مُبَشِّرٍ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا فِي نَخْلٍ لِي، فَقَالَ: «مَنْ غَرَسَ هَذَا النَّخْلَ، أَمُسْلِمٌ أَمْ كَافِرٌ؟» قُلْتُ: لَا بَلْ مُسْلِمٌ، فَقَالَ: «مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَغْرِسُ غَرْسًا فَيَأْكُلُ مِنْهُ طَائِرُ أَوْ إِنْسَانٌ أَوْ سَبُعٌ أَوْ دَابَّةٌ إِلَّا كَانَ لَهُ صَدَقَةً»
ترجمہ
… سیدہ ام مبشر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے جبکہ میں اپنے کھجور کے باغ میں تھی، تو فرمایا: ”یہ کھجور کا درخت کس نے لگایا ہے، مسلمان نے یا کافر نے؟“ میں نے کہا: نہیں، بلکہ مسلمان نے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو مسلمان بھی کوئی درخت لگائے، پھر اس میں سے کوئی پرندہ، انسان، درندہ یا جانور کھائے، تو وہ اس کے لیے صدقہ ہوتا ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 21725
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 25، صفحہ 101، حدیث 263
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللًَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي أُمُّ مُبَشِّرٍ، امْرَأَةُ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا فِي نَخْلٍ لِي فَقَالَ: أَلَكِ هَذَا؟ " قُلْتُ: نَعَم، قَالَ: «مَنْ غَرَسَهُ أَمْسُلِمٌ أَمْ كَافِرُ؟» قُلْتُ: مُسْلِمٌ قَالَ: «مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَغْرِسُ غَرْسًا أًَوْ يَزْرَعُ زَرْعًا فَيَأْكُلُ مِنْهُ طَائِرٌ أَوْ إِنْسَانٌ أَوْ سَبُعٌ أَوْ شَيْءٌ إِلَّا كَانَ لَهُ صَدَقَةً»
ترجمہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ ام مبشر رضی اللہ عنہا، جو زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کی اہلیہ تھیں، نے مجھے بتایا: رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے جبکہ میں اپنے کھجور کے باغ میں تھی، تو فرمایا: ”کیا یہ تمہارا ہے؟“ میں نے کہا: ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے کس نے لگایا ہے، مسلمان نے یا کافر نے؟“ میں نے کہا: مسلمان نے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو مسلمان بھی کوئی درخت لگائے یا کھیتی بوئے، پھر اس میں سے کوئی پرندہ، انسان، درندہ یا کوئی بھی چیز کھائے، تو وہ اس کے لیے صدقہ ہوتا ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 21726
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 25، صفحہ 101، حدیث 264
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ أُمِّ مُبَشِّرٍ، ح وحَدَّثَنَا زَكَرِيَّا السَّاجِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ أُمِّ مُبَشِّرٍ، قَالَتْ: جَاءَ غُلَامُ حَاطِبٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: وَاللهِ لَا يَدْخُلُ حَاطِبٌ الْجَنَّةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَذَبْتَ إِنَّهُ شَهِدَ بَدْرًا وْالْحُدَيْبِيَةَ»
ترجمہ
… سیدہ ام مبشر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: حاطب رضی اللہ عنہ کا غلام نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور کہا: اللہ کی قسم! حاطب جنت میں داخل نہیں ہوگا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے جھوٹ کہا، وہ تو بدر اور حدیبیہ میں شریک تھے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 21727
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 25، صفحہ 102، حدیث 265
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ أُمِّ مُبَشِّرٍ، قَالَتْ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِ حَفْصَةَ وَهُوُ يَقُولُ: «لَا يَدْخُلُ النَّارَ رَجُلٌ شَهِدَ بَدْرُا وَالْحُدَيْبِيَةَ» قَالَتْ حَفْصَةُ: يَا َرَسُولَ اللهِ، إِنَّ اللهَ يَقُولُ: {وَإِنْ مِنْكُمْ إِلَّا وَارِدَهَا كَانَ عَلَى رَبِّكَ حَتْمًا مَقْضِيًّا} [مريم: ٧١] قَالَ: «ثُمَّ مَهْ» قَالَتْ: {ثُمَّ نُنَجِّي الَّذِينَ اتَّقَوْا وَنَذَرُ الظَّالِمِينَ فِيهَا جِثِيًّا} [مريم: ٧٢]
ترجمہ
سیدہ ام مبشر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے نبی کریم ﷺ کو سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں یہ فرماتے سنا: ”بدر اور حدیبیہ میں شریک ہونے والا کوئی آدمی جہنم میں داخل نہیں ہوگا۔“ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے: ”اور تم میں سے ہر ایک اس پر وارد ہونے والا ہے، یہ تیرے رب پر لازم اور طے شدہ بات ہے“ [سورۃ مریم: 71]۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر آگے کیا ہے؟“ انہوں نے کہا: ”پھر ہم متقی لوگوں کو بچا لیں گے، اور ظالموں کو اس میں گھٹنوں کے بل گرا ہوا چھوڑ دیں گے“ [سورۃ مریم: 72]۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 21728
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 25، صفحہ 102، حدیث 266