المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
أم عطاء مولاة الزبير بن العوام باب: سیدہ ام عطاء رضی اللہ عنہا، سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کی آزاد کردہ لونڈی
حدیث نمبر: 21721
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، ثنا أَبِي، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عَطَاءِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، مَوْلَى الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ عَنْ أُمِّهِ وَجَدَّتَهِ أُمِّ عَطَاءٍ، قَالَتَا: وَاللهِ لَكُنَّا نَنْظُرُ إِلَى الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ حِينَ أَتَانَا عَلَى بَغْلَةٍ لَهُ بَيْضَاءَ، فَقَالَ: يَا أُمَّ عَطَاءٍ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ: " نَهَى الْمُسْلِمِينَ أَنْ يَأْكُلُوا مِنْ نُسُكِهِمْ فَوْقَ ثَلَاثٍ فَلَا تَأْكُلِيهِ، فَقُلْتُ بِأَبِي أَنْتَ كَيْفَ نَصْنَعُ بِمَا أُهْدِيَ لَنَا؟ قَالَ: أَمَّا مَا أُهْدِيَ لَكِنْ فَشَأْنُكُنَّ بِهِ "ترجمہ
سیدہ ام عطاء رضی اللہ عنہا اور ان کی نانی بیان کرتی ہیں: اللہ کی قسم! ہم زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کو دیکھ رہی تھیں جب وہ اپنے سفید خچر پر ہمارے پاس آئے، اور کہا: اے ام عطاء! رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں کو اپنی قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ کھانے سے منع فرمایا ہے، تو تم اسے مت کھاؤ۔ میں نے کہا: میرے باپ آپ پر قربان! جو گوشت ہمیں ہدیہ کیا گیا ہے اس کا کیا کریں؟ انہوں نے کہا: جو تمہیں ہدیہ کیا گیا ہو، وہ تمہارا اختیار ہے۔