حدیث نمبر: 21726
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللًَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي أُمُّ مُبَشِّرٍ، امْرَأَةُ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا فِي نَخْلٍ لِي فَقَالَ: أَلَكِ هَذَا؟ " قُلْتُ: نَعَم، قَالَ: «مَنْ غَرَسَهُ أَمْسُلِمٌ أَمْ كَافِرُ؟» قُلْتُ: مُسْلِمٌ قَالَ: «مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَغْرِسُ غَرْسًا أًَوْ يَزْرَعُ زَرْعًا فَيَأْكُلُ مِنْهُ طَائِرٌ أَوْ إِنْسَانٌ أَوْ سَبُعٌ أَوْ شَيْءٌ إِلَّا كَانَ لَهُ صَدَقَةً»
ترجمہ

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ ام مبشر رضی اللہ عنہا، جو زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کی اہلیہ تھیں، نے مجھے بتایا: رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے جبکہ میں اپنے کھجور کے باغ میں تھی، تو فرمایا: ”کیا یہ تمہارا ہے؟“ میں نے کہا: ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے کس نے لگایا ہے، مسلمان نے یا کافر نے؟“ میں نے کہا: مسلمان نے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو مسلمان بھی کوئی درخت لگائے یا کھیتی بوئے، پھر اس میں سے کوئی پرندہ، انسان، درندہ یا کوئی بھی چیز کھائے، تو وہ اس کے لیے صدقہ ہوتا ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 21726
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 25، صفحہ 101، حدیث 264