کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: وہ خواتین جو کنیتوں سے معروف ہیں اور جن کے اصل نام ہم تک نہیں پہنچے، صحابیات میں سے تھیں؛ انہی میں سیدہ ام کلثوم بنت عقبہ بن ابی معیط رضی اللہ عنہا، سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی زوجہ، بھی شامل ہیں — باب
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، ثنا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ أُمِّ مُبَشِّرٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ بِنْتَ الْبَرَاءِ بْنِ مَعْرُورٍ، فَقَالَتْ: إِنِّي اشْتَرَطْتُ لِزَوْجِي أَنْ لَا أَنْكِحَ بَعْدَهُ، قَالَ: «إِنَّ ذَلِكَ لَا يَصْلُحُ»
ترجمہ
… سیدہ ام مبشر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے براء بن معرور کی بیٹی کو نکاح کا پیغام بھیجا، تو اس نے کہا: میں نے اپنے شوہر سے یہ شرط رکھی تھی کہ اس کے بعد نکاح نہیں کروں گی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ شرط درست نہیں۔“
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ أُمِّ مُبَشِّرٍ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا فِي حَائِطْ مِنْ حَوَائِطِ بَنِي النَّجَّارِ فِيهِ قُبُورٌ قَدْ مَاتُوا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَخَرَج َفَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: «اسْتَعِيذُوا بِاللهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ» فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، وَلِلْقَبْرِ عَذَابٌ؟ فَقَالَ: «نَعَمْ، إِنَّهُمْ يُعَذَّبُونَ فِي قُبُورِهِمْ عَذَابًا يَسْمَعُهُ الْبَهَائِمُ»
ترجمہ
… سیدہ ام مبشر رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے جبکہ میں بنو نجار کے ایک باغ میں تھی جس میں کچھ قبریں تھیں جن میں لوگ زمانہ جاہلیت میں فوت ہوئے تھے۔ آپ ﷺ باہر نکلے تو میں نے آپ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”قبر کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگو۔“ میں نے پوچھا: یا رسول اللہ! کیا قبر میں بھی عذاب ہوتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، انہیں اپنی قبروں میں ایسا عذاب دیا جاتا ہے جسے جانور سنتے ہیں۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، يَقُولُ: حَدَّثَتْنِي أُمُّ مُبَشِّرٍ، أَنَّهَا سَمِعَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عِنْدَ حَفْصَةُ: «لَا يَدْخُلُ النَّارَ إِنْ شَاءَ اللهُ أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ الَّذِينَ بَايَعُوا تَحْتَهَا» قَالَتْ: بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ، فَانْتَهَرَهَا، فَقَالَتْ حَفْصَةُ: {وَإِنْ مِنْكُمْ إِلَّا وَارِدَهَا} [مريم: ٧١] فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ {ثُمَّ نُنَجِّي الَّذِينَ اتَّقَوْا وَنَذَرُ الظَّالِمِينَ فِيهَا جِثِيًّا} [مريم: ٧٢]
ترجمہ
… سیدہ ام مبشر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس یہ فرماتے سنا: ”ان شاء اللہ، درخت والوں میں سے کوئی بھی جہنم میں داخل نہیں ہوگا جنہوں نے اس کے نیچے بیعت کی تھی۔“ حفصہ رضی اللہ عنہا نے کہا: کیوں نہیں، یا رسول اللہ! تو آپ ﷺ نے انہیں ڈانٹا۔ حفصہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ”اور تم میں سے ہر ایک اس پر وارد ہونے والا ہے“ [سورۃ مریم: 71]۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”پھر ہم متقی لوگوں کو بچا لیں گے، اور ظالموں کو اس میں گھٹنوں کے بل گرا ہوا چھوڑ دیں گے“ [سورۃ مریم: 72]۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمُعَلَّى الدِّمَشْقِيُّ، قَالَ: ثنا صَفْوَانُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ الْمُثَنَّى بْنِ الصَّبَّاحِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنِ أُمِّ مُبَشِّرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا: «يَا أُمَّ مُبَشِّرٍ، مَنْ كَانَ لَهَا ثَلَاثةُ أَفْرَاطٍ مِنْ وَلَدِهِ أَدْخَلَهُ اللهُ الْجَنَّةَ بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ إِيَّاهُمْ» وَكَانَتْ أُمُّ مُبَشِّرٍ تَطْبُخُ طَبِيخًا " فَقَالَتْ: أَوْ َفَرطَانِ؟ فَقَالَ: «أَوْ فَرَطَانِ»
ترجمہ
… سیدہ ام مبشر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”اے ام مبشر! جس عورت کی تین اولاد بچپن میں فوت ہو کر آگے چلی گئی ہوں، اللہ اپنی رحمت کے فضل سے اسے جنت میں داخل کرے گا۔“ اور ام مبشر رضی اللہ عنہا اس وقت کھانا پکا رہی تھیں، تو انہوں نے کہا: یا دو؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یا دو۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عِقَالٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ النُّفَيْلِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أُمِّ مُبَشِّرٍ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَا أُخْبِرُكُمْ بَخَيْرِ النَّاسِ رَجُلًا؟» قَالُوا: بَلَى، فَأَشَارَ بِيَدِهِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ، فَقَالَ: «رَجُلٌ آخِذٌ بِعَنَانِ فَرَسِهِ فِي سَبِيلِ اللهِ يَنْتَظِرُ أَنْ يُغِيرَ أَوْ يُغَارَ عَلَيْهِ، أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ النَّاسِ بَعْدَهُ رَجُلًا؟» قَالُوا: بَلَى فَأَشَارَ بِيَدِهِ نَحْوَ الْحِجَازِ، فَقَالَ: «رَجٌلٌ فِي غَنَمِهِ يُقِيمُ الصَّلَاةَ وَيُؤْتِي الزَّكَاةَ، يَعْلَمُ مَا حَقُّ اللهِ فِي مَالِهِ، قَدِ اعْتَزَلَ النَّاسَ»
ترجمہ
… سیدہ ام مبشر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں لوگوں میں سب سے بہتر آدمی کے بارے میں نہ بتاؤں؟“ صحابہ نے کہا: کیوں نہیں۔ تو آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے مشرق کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا: ”وہ آدمی جو اللہ کی راہ میں اپنے گھوڑے کی لگام تھامے، حملہ کرنے یا اس پر حملہ ہونے کا انتظار کر رہا ہو۔ کیا میں تمہیں اس کے بعد سب سے بہتر آدمی کے بارے میں نہ بتاؤں؟“ صحابہ نے کہا: کیوں نہیں۔ تو آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے حجاز کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا: ”وہ آدمی جو اپنی بکریوں میں رہتے ہوئے نماز قائم کرے اور زکوٰۃ ادا کرے، اور جانتا ہو کہ اس کے مال میں اللہ کا کیا حق ہے، اور لوگوں سے الگ تھلگ رہتا ہو۔“