کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: قابوس بن مخارق کی سیدہ ام فضل رضی اللہ عنہا سے روایات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الْمُرِّيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ قَابُوسٍ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: جَاءَتْ أُمُّ الْفَضْلِ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: إِنِّي رَأَيْتُ بَعْضَ جِسْمَكَ فِي بَيْتِي، قَالَ: نِعْمَ مَا رَأَيْتِ تَلِدُ فَاطِمَةُ غُلَامًا وَتُرْضِعِيهِ بِلَبَنٍ قُثَمٍ، قَالَتْ: فَأَتَتْ بِهِ تَحْمِلُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخَذَتْهُ، فَوَضَعَتْهُ فِي حِجْرِهِ، فَبَالَ فَلَطَمْتُهُ بِيَدِهَا، فَقَالَ: «أَوْجَعْتِ ابْنِي رَحِمَكِ اللهُ» ، قَالَتْ: هَاتِ إِزَارَكَ حَتَّى نَغْسِلَهُ، فَقَالَ: «إِنَّمَا يُغْسَلُ بَوْلُ الْجَارِيَةِ، وَيُنْضَحُ بَوْلُ الْغُلَامِ»
ترجمہ
قابوس شیبانی رحمہ اللہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: ام الفضل رضی اللہ عنہا رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں اور کہا: میں نے آپ کے جسم کا کچھ حصہ اپنے گھر میں دیکھا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے اچھا خواب دیکھا، فاطمہ کے ہاں ایک بیٹا ہوگا اور تم اسے قثم کا دودھ پلاؤ گی۔“ وہ کہتی ہیں: تو وہ اسے اٹھا کر نبی کریم ﷺ کے پاس لائیں، انہوں نے اسے لے کر آپ ﷺ کی گود میں رکھ دیا، تو اس نے پیشاب کر دیا، تو انہوں نے اپنے ہاتھ سے اسے تھپڑ مارا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے میرے بیٹے کو تکلیف دی، اللہ تم پر رحم کرے!“ انہوں نے عرض کیا: اپنی تہبند دیجیے تاکہ ہم اسے دھو دیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بچی کا پیشاب دھویا جاتا ہے، اور بچے کے پیشاب پر پانی چھڑکا جاتا ہے۔“
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ حَسَنِ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ قَابُوسِ بْنِ الْمُخَارِقِ، قَالَ: قَالَتْ أُمُّ الْفَضْلِ: يَا رَسُولَ اللهِ رَأَيْتُ كَأَنَّ فِي بَيْتِي مِنْ أَعْضَائِكَ، فَقَالَ: خَيْرًا، تَلِدُ فَاطِمَةُ وَتُرْضِعِيهِ، فَوَلَدَتْ حَسَنًا أَوْ حُسَيْنًا فَأَرْضَعْتُهُ، فَجِئْتُ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا، فَوَضَعْتُهُ فِي حِجْرِهِ، فَبَالَ فَضَرَبْتُ كَتِفَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَوْجَعْتُ ابْنِي رَحِمَكِ اللهُ»
ترجمہ
قابوس بن مخارق رحمہ اللہ کہتے ہیں: ام الفضل رضی اللہ عنہا نے کہا: یا رسول اللہ! میں نے دیکھا گویا میرے گھر میں آپ کے کچھ اعضاء ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”بھلائی ہے، فاطمہ کے ہاں بچہ ہوگا اور تم اسے دودھ پلاؤ گی۔“ تو انہوں نے حسن یا حسین کو جنم دیا تو میں نے اسے دودھ پلایا، پھر ایک دن میں اسے نبی کریم ﷺ کے پاس لے آئی، میں نے اسے آپ ﷺ کی گود میں بٹھا دیا تو اس نے پیشاب کر دیا، تو میں نے اس کے کندھے پر ہاتھ مارا، نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”تم نے میرے بیٹے کو تکلیف دی، اللہ تم پر رحم کرے!“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ، ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَا: ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ قَابُوسِ بْنِ الْمُخَارِقِ، عَنْ لُبَابَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ، قَالَتْ: بَالَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ فِي حِجْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: اعْطِنِي ثَوْبَكَ وَالْبَسْ ثَوْبًا غَيْرَهُ، فَقَالَ: «إِنَّمَا يُغْسَلُ مِنْ بَوْلِ الْأُنْثَى، وَيُنْضَحُ مِنْ بَوْلِ الذِّكْرِ»
ترجمہ
سیدہ لبابہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: حسن بن علی نے نبی کریم ﷺ کی گود میں پیشاب کر دیا، تو میں نے عرض کیا: مجھے اپنا کپڑا دیجیے اور دوسرا کپڑا پہن لیجیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مادہ (بچی) کے پیشاب سے کپڑا دھویا جاتا ہے، اور نر (بچے) کے پیشاب پر پانی چھڑکا جاتا ہے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الْحُسَيْنِ أَبُو مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ قَابُوسِ بْنِ الْمُخَارِقِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ، قَالَتْ: قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي رَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ، كَأَنَّ طَائِفَةً مِنْكَ فِي بَيْتِي فَقَالَ: خَيْرًا، تَلِدُ فَاطِمَةُ غُلَامًا، فَتُرْضِعِيهِ فِي بَيْتِكِ، فَوَلَدَتْ حَسَنًا، فَكَانَ فِي بَيْتِي، فَأَتَيْتُ بِهِ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَالَ عَلَيْهِ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَلْقِ هَذَا الثَّوْبَ أَغْسِلْهُ، فَقَالَ: «إِنَّمَا يُغْسَلُ بَوْلُ الْإِنَاثِ، وَلَا يُغْسَلُ بَوْلُ الذِّكْرِ»
ترجمہ
قابوس بن مخارق رحمہ اللہ اپنے والد سے، وہ ام الفضل رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتی ہیں: میں نے نبی کریم ﷺ سے عرض کیا: میں نے خواب میں دیکھا گویا آپ کا کوئی حصہ میرے گھر میں ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”بھلائی ہے، فاطمہ کے ہاں ایک بیٹا ہوگا، تم اسے اپنے گھر میں دودھ پلاؤ۔“ چنانچہ انہوں نے حسن کو جنم دیا اور وہ میرے گھر میں رہنے لگا، میں اسے رسول اللہ ﷺ کے پاس لے آئی تو اس نے آپ ﷺ پر پیشاب کر دیا، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ کپڑا اتار دیجیے، میں اسے دھو دوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بچیوں کا پیشاب دھویا جاتا ہے، اور بچے کا پیشاب نہیں دھویا جاتا۔“