المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
شداد أبو عمار، عن أم الفضل باب: شداد، ابوعمار، کی سیدہ ام فضل رضی اللہ عنہا سے روایات
حَدَّثَنَا أَبُو زَيْدٍ أَحْمَدُ بْنُ يَزِيدَ الْحَوْطِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ الْقَرْقَسَانِيُّ، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ، أَنَّهَا أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي رَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ حُلْمًا مُنْكَرًا، فَقَالَ: وَمَا هُوَ؟ قَالَتْ: أَصْلَحَكَ اللهُ إِنَّهُ شَدِيدٌ، قَالَ فَمَا هُوَ؟ قَالَتْ: رَأَيْتُ كَأَنَّ بَضْعَةً مِنْ جَسَدِكَ قُطِعَتْ، ثُمَّ وُضِعَتْ فِي حِجْرِي، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خَيْرًا رَأَيْتِ، تَلِدُ فَاطِمَةُ إِنْ شَاءَ اللهُ غُلَامًا يَكُونُ فِي حِجْرِكِ فَوَلَدَتْ فَاطِمَةُ حَسَنًا فَكَانَ فِي حِجْرِهَا، فَدَخَلْتُ بِهِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَضَعْتُهُ فَبَالَ عَلَيْهِ فَذَهَبْتُ أَتَنَاوَلُهُ فَقَالَ: «دَعِي ابْنِي، فَإِنَّ ابْنِي لَيْسَ بِنَجِسٍ، ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ، فَصَبَّهُ عَلَيْهِ»ابوعمار رحمہ اللہ سیدہ ام الفضل رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئیں اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے خواب میں ایک ناگوار خواب دیکھا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ کیا ہے؟“ انہوں نے کہا: اللہ آپ کو سلامت رکھے، وہ سخت ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ کیا ہے؟“ انہوں نے کہا: میں نے دیکھا گویا آپ کے جسم کا ایک ٹکڑا کاٹا گیا، پھر میری گود میں رکھا گیا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے اچھا خواب دیکھا، فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں ان شاء اللہ ایک بیٹا ہوگا جو تمہاری گود میں پلے گا۔“ چنانچہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے حسن کو جنم دیا اور وہ ان کی گود میں پلا۔ میں اسے لے کر نبی کریم ﷺ کے پاس گئی، اسے بٹھایا تو اس نے آپ ﷺ پر پیشاب کر دیا، میں اسے اٹھانے لگی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”میرے بیٹے کو چھوڑ دو، میرا بیٹا ناپاک نہیں ہے۔“ پھر آپ ﷺ نے پانی منگوایا اور اس پر بہا دیا۔