کتب حدیثالمعجم الكبير للطبرانيابوابباب: عمیر، سیدہ ام فضل رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام، کی ان سے روایات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، ح وَحَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ مَعْمَرٍ عَنْ عُمَيْرٍ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ بِنْتِ الْحَارِثِ، أَنَّ: " نَاسًا اخْتَلَفُوا عِنْدَهَا يَوْمَ عَرَفَةَ فِي رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: هُوَ صَائِمٌ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَيْسَ بِصَائِمٍ، فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ بِقَدَحٍ مِنْ لَبَنٍ، وَهُوَ وَاقِفٌ عَلَى بَعِيرِهِ فَشَرِبَ بِعَرَفَةَ "
ترجمہ
سیدہ ام الفضل بنت حارث رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ کچھ لوگوں نے ان کے پاس عرفہ کے دن رسول اللہ ﷺ کے روزے کے بارے میں اختلاف کیا، کچھ نے کہا وہ روزے سے ہیں، اور کچھ نے کہا روزے سے نہیں ہیں۔ تو انہوں نے آپ ﷺ کے پاس دودھ کا ایک پیالہ بھیجا جبکہ آپ ﷺ اپنے اونٹ پر کھڑے تھے، تو آپ ﷺ نے عرفہ میں وہ دودھ پی لیا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 21497
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 25، صفحہ 24، حدیث 34
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، وَالثَّوْرِيُّ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ عُمَيْرٍ، مَوْلَى أُمِّ الْفَضْلِ، قَالَ: " شَكُّوا فِي صِيَامِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَةَ، فَقَالَتْ أُمُّ الْفَضْلِ: أَنَا أَعْلَمُ لَكُمْ ذَلِكَ، فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ بِقَعْبٍ مِنْ لَبَنٍ فَشَرِبَ مِنْهُ "
ترجمہ
عمیر، غلام ام الفضل، کہتے ہیں: لوگوں کو عرفہ کے دن رسول اللہ ﷺ کے روزے کے بارے میں شک ہوا، تو سیدہ ام الفضل رضی اللہ عنہا نے فرمایا: میں تمہارے لیے اس کا پتا لگاتی ہوں، چنانچہ انہوں نے آپ ﷺ کے پاس دودھ کا ایک پیالہ بھیجا تو آپ ﷺ نے اس میں سے پیا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 21498
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 25، صفحہ 24، حدیث 35
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ أَبَا النَّضْرِ، حَدَّثَهُ أَنَّ عُمَيْرًا مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أُمَّ الْفَضْلِ، تَقُولُ: «شَكَّ النَّاسُ فِي صِيَامِ يَوْمِ عَرَفَةَ، وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَرْسَلْتُ إِلَيْهِ بِقَعْبٍ مِنْ لَبَنٍ، وَهُوَ بِعَرَفَةَ فَشَرِبَهُ»
ترجمہ
سیدہ ام الفضل رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: لوگوں کو یوم عرفہ کے روزے کے بارے میں شک ہوا جبکہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے، تو میں نے آپ ﷺ کے پاس دودھ کا ایک پیالہ بھیجا جبکہ آپ ﷺ عرفہ میں تھے، تو آپ ﷺ نے وہ پی لیا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 21499
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 25، صفحہ 24، حدیث 36
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ عَنْ عُمَيْرٍ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ، قَالَتْ: " شَكَّ النَّاسُ فِي صَوْمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَرَفَةَ، فَقُلْتُ: أَنَا أَعْلَمُ لَكُمْ ذَلِكَ، فَأَرْسَلْتُ إِلَيْهِ بِإِنَاءٍ فِيهِ لَبَنٌ فَشَرِبَ "
ترجمہ
سیدہ ام الفضل رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: لوگوں کو نبی کریم ﷺ کے یوم عرفہ کے روزے کے بارے میں شک ہوا، تو میں نے کہا: میں تمہارے لیے اس کا پتا لگاتی ہوں، چنانچہ میں نے آپ ﷺ کے پاس دودھ سے بھرا ایک برتن بھیجا تو آپ ﷺ نے پی لیا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 21500
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 25، صفحہ 25، حدیث 37