کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: ابوصالح، باذام، سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام، کی ان سے روایات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ، قَالَا: ثنا سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ، ثنا أَبُو يُونُسَ الْقُشَيْرِيُّ، ثنا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ بَاذَامَ أَبِي صَالِحٍ، مَوْلَى أُمِّ هَانِئٍ، أَنَّ أُمَّ هَانِئٍ قَالَتْ: سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ: {وَتَأْتُونَ فِي نَادِيكُمُ الْمُنْكَرَ} [العنكبوت: ٢٩] ، قَالَ: «كَانُوا يَجْلِسُونَ فِي الطَّرِيقِ فَيَحْذِفُونَ ابْنَ السَّبِيلِ، وَيَسْخَرُونَ مِنْهُمْ»
ترجمہ
باذام ابوصالح، ام ہانی رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام، سے روایت ہے کہ ام ہانی رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے نبی کریم ﷺ سے اس آیت کے بارے میں پوچھا: ”اور تم اپنی مجلسوں میں برا کام کرتے ہو“ [العنکبوت: 29]، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ راستے میں بیٹھتے اور مسافروں پر پتھر پھینکتے اور ان کا مذاق اڑاتے تھے۔“
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، قَالَا: ثنا حَاتِمُ بْنُ أَبِي صَغِيرَةَ، حَدَّثَنِي سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا أَبُو صَالِحٍ، مَوْلَى أُمِّ هَانِئٍ، حَدَّثَتْنِي أُمُّ هَانِئٍ، أَنَّهَا: سَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ
ترجمہ
سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا سے بھی اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ثنا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ، قَالَتْ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَوْلِهِ: {وَتَأْتُونَ فِي نَادِيكُمُ الْمُنْكَرَ} [العنكبوت: ٢٩] ، قَالَ: «كَانُوا يَحْذِفُونَ مَنْ مَرَّ بِهِمْ فِي الطَّرِيقِ، وَيَسْخَرُونَ مِنْهُ»
ترجمہ
سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں پوچھا: ”اور تم اپنی مجلسوں میں برا کام کرتے ہو“ [العنکبوت: 29]، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ راستے سے گزرنے والے پر پتھر پھینکتے اور اس کا مذاق اڑاتے تھے۔“
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، قَالَا: ثنا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا وَكِيعٌ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ، قَالَتْ: «دَخَلَ عَلِيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ فَاغْتَسَلَ، ثُمَّ صَلَّى ثَمَانِ رَكَعَاتٍ لَمْ يُصَلِّهُنَّ قَبْلَ يَوْمِئِذٍ وَلَا بَعْدَهُ»
ترجمہ
سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ”رسول اللہ ﷺ فتحِ مکہ کے دن میرے پاس تشریف لائے تو غسل کیا، پھر آٹھ رکعتیں پڑھیں جو نہ اس دن سے پہلے کبھی پڑھیں نہ اس کے بعد۔“
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، ثنا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ، «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ لَمَّا فَتْحَ مَكَّةَ بِمَاءٍ، فَحَجَبُوهُ فَاغْتَسَلَ، ثُمَّ صَلَّى ثَمَانِ رَكَعَاتٍ لَمْ يَرَهُ أَحَدٌ صَلَّاهُنَّ بَعْدُ»
ترجمہ
سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ”جب رسول اللہ ﷺ نے مکہ فتح کیا تو آپ کے پاس پانی لایا گیا، تو لوگوں نے آپ کو چھپا لیا، آپ ﷺ نے غسل کیا، پھر آٹھ رکعتیں پڑھیں جو کسی نے بعد میں کبھی آپ کو پڑھتے نہیں دیکھا۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُخْتَارِ، عَنْ عَنْبَسَةَ بْنِ الْأَزْهَرِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ، قَالَتْ: " خَطَبَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ أَكُنْ أُحِلُّ لَهُ، لِأَنِّي لَمْ أَكُنْ هَاجَرْتُ، فَنَزَلَتْ: {وَبَنَاتِ عَمِّكَ وَبَنَاتِ عَمَّاتِكَ وَبَنَاتِ خَالِكَ وَبَنَاتِ خَالَاتِكَ اللَّاتِي هَاجَرْنَ مَعَكَ} [الأحزاب: ٥٠] "
ترجمہ
سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: نبی کریم ﷺ نے مجھے پیغامِ نکاح دیا، لیکن میں آپ ﷺ کے لیے حلال نہ تھی، کیونکہ میں نے ہجرت نہیں کی تھی، تو یہ آیت نازل ہوئی: ”اور تیرے چچا کی بیٹیاں، اور تیری پھوپھیوں کی بیٹیاں، اور تیرے ماموں کی بیٹیاں، اور تیری خالاؤں کی بیٹیاں جنہوں نے تیرے ساتھ ہجرت کی“ [الاحزاب: 50]۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ، ثنا أَبُو حَفْصٍ عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شَيْبَانُ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ، قَالَتْ: «مَا رَأَيْتُ بَطْنَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطُّ إِلَّا ذَكَرْتُ الْقَرَاطِيسَ بَعْضُهَا عَلَى بَعْضٍ»
ترجمہ
سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ”میں نے رسول اللہ ﷺ کا پیٹ کبھی نہیں دیکھا مگر مجھے کاغذوں کے تہ بہ تہ رکھے ہونے یاد آ جاتے۔“
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ التُّسْتَرِيُّ، ثنا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، قَالَا: ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَتْ: " خَطَبَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاعْتَذَرْتُ إِلَيْهِ، فَعَذَرَنِي، فَأَنْزَلَ اللهُ: {إِنَّا أَحْلَلْنَا لَكَ أَزْوَاجَكَ} [الأحزاب: ٥٠] ، إِلَى قَوْلِهِ: {وَبَنَاتِ خَالَاتِكَ اللَّاتِي هَاجَرْنَ مَعَكَ} [الأحزاب: ٥٠] ، فَلَمْ أَكُنْ أُحِلُّ لَهُ، لَمْ أُهَاجِرْ مَعَهُ، كُنْتُ مِنَ الطُّلَقَاءِ "
ترجمہ
سیدہ ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ ﷺ نے مجھے پیغامِ نکاح دیا تو میں نے آپ سے معذرت کی، تو آپ ﷺ نے میری معذرت قبول کر لی، تو اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی: ”بے شک ہم نے تیرے لیے تیری بیویاں حلال کر دیں“ [الاحزاب: 50] سے لے کر اس کے قول تک: ”اور تیری خالاؤں کی بیٹیاں جنہوں نے تیرے ساتھ ہجرت کی“ [الاحزاب: 50]، تو میں آپ ﷺ کے لیے حلال نہ تھی، کیونکہ میں نے آپ کے ساتھ ہجرت نہیں کی تھی، میں طلقاء میں سے تھی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ السَّقْطِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْوَاسِطِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ خَلَفٍ الْعَمِّيُّ، ثنا عَاصِمُ ابْنُ بَهْدَلَةَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، مَوْلَى أُمِّ هَانِئٍ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَتْ: مَرَّ بِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي قَدْ كَبِرْتُ فَمُرْنِي بِعَمَلٍ أَعْمَلُهُ وَأَنَا جَالِسَةٌ، فَقَالَ: «سَبِّحِي اللهَ مِائَةَ تَسْبِيحَةٍ، فَإِنَّهَا تَعْدِلُ مِائَةَ رَقَبَةٍ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ، وَاحْمَدِي اللهَ مِائَةَ تَحْمِيدَةٍ فَإِنَّهَا تَعْدِلُ مِائَةَ فَرَسٍ مُسْرَجَةٍ مُلْجَمَةٍ تَحْمِلِينَ عَلَيْهَا فِي سَبِيلِ اللهِ، وَكَبِّرِي اللهَ مِائَةَ تَكْبِيرَةٍ فَإِنَّهَا تَعْدِلُ مِائَةَ بَدَنَةٍ مُتَقَبَّلَةٍ، وَهَلِّلِي اللهَ مِائَةَ تَهْلِيلَةٍ فَإِنَّهَا تَمْلَأُ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، وَلَا يُرْفَعُ لِأَحَدٍ عَمِلٌ أَفْضَلُ مِنْهَا إِلَّا أَنْ يَأْتِيَ بِمِثْلِ مَا أَتَيْتِ»
ترجمہ
سیدہ ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ایک دن رسول اللہ ﷺ میرے پاس سے گزرے تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں بوڑھی ہو گئی ہوں، مجھے کوئی ایسا عمل بتائیں جو میں بیٹھے بیٹھے کر سکوں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی سو بار تسبیح کہو، کیونکہ وہ اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے سو غلام آزاد کرنے کے برابر ہے، اور اللہ کی سو بار حمد کہو، کیونکہ وہ سو زین کسے، لگام لگائے گھوڑوں کے برابر ہے جنہیں تم اللہ کی راہ میں سوار کراؤ، اور اللہ کی سو بار تکبیر کہو، کیونکہ وہ سو مقبول قربانی کے اونٹوں کے برابر ہے، اور اللہ کی سو بار تہلیل کہو، کیونکہ وہ آسمان اور زمین کے درمیان کی ہر چیز کو بھر دیتی ہے، اور کسی کا کوئی عمل اس سے بہتر نہیں اٹھایا جاتا سوائے اس کے جو اس جیسا عمل کرے جیسا تم نے کیا۔“