حدیث نمبر: 21375
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ التُّسْتَرِيُّ، ثنا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، قَالَا: ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَتْ: " خَطَبَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاعْتَذَرْتُ إِلَيْهِ، فَعَذَرَنِي، فَأَنْزَلَ اللهُ: {إِنَّا أَحْلَلْنَا لَكَ أَزْوَاجَكَ} [الأحزاب: ٥٠] ، إِلَى قَوْلِهِ: {وَبَنَاتِ خَالَاتِكَ اللَّاتِي هَاجَرْنَ مَعَكَ} [الأحزاب: ٥٠] ، فَلَمْ أَكُنْ أُحِلُّ لَهُ، لَمْ أُهَاجِرْ مَعَهُ، كُنْتُ مِنَ الطُّلَقَاءِ "
ترجمہ

سیدہ ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ ﷺ نے مجھے پیغامِ نکاح دیا تو میں نے آپ سے معذرت کی، تو آپ ﷺ نے میری معذرت قبول کر لی، تو اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی: ”بے شک ہم نے تیرے لیے تیری بیویاں حلال کر دیں“ [الاحزاب: 50] سے لے کر اس کے قول تک: ”اور تیری خالاؤں کی بیٹیاں جنہوں نے تیرے ساتھ ہجرت کی“ [الاحزاب: 50]، تو میں آپ ﷺ کے لیے حلال نہ تھی، کیونکہ میں نے آپ کے ساتھ ہجرت نہیں کی تھی، میں طلقاء میں سے تھی۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 21375
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 413، حدیث 1007