المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
أبو صالح باذام مولى أم هانئ، عن أم هانئ باب: ابوصالح، باذام، سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام، کی ان سے روایات
حدیث نمبر: 21373
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُخْتَارِ، عَنْ عَنْبَسَةَ بْنِ الْأَزْهَرِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ، قَالَتْ: " خَطَبَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ أَكُنْ أُحِلُّ لَهُ، لِأَنِّي لَمْ أَكُنْ هَاجَرْتُ، فَنَزَلَتْ: {وَبَنَاتِ عَمِّكَ وَبَنَاتِ عَمَّاتِكَ وَبَنَاتِ خَالِكَ وَبَنَاتِ خَالَاتِكَ اللَّاتِي هَاجَرْنَ مَعَكَ} [الأحزاب: ٥٠] "ترجمہ
سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: نبی کریم ﷺ نے مجھے پیغامِ نکاح دیا، لیکن میں آپ ﷺ کے لیے حلال نہ تھی، کیونکہ میں نے ہجرت نہیں کی تھی، تو یہ آیت نازل ہوئی: ”اور تیرے چچا کی بیٹیاں، اور تیری پھوپھیوں کی بیٹیاں، اور تیرے ماموں کی بیٹیاں، اور تیری خالاؤں کی بیٹیاں جنہوں نے تیرے ساتھ ہجرت کی“ [الاحزاب: 50]۔