المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
أبو صالح باذام مولى أم هانئ، عن أم هانئ باب: ابوصالح، باذام، سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام، کی ان سے روایات
حدیث نمبر: 21368
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ، قَالَا: ثنا سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ، ثنا أَبُو يُونُسَ الْقُشَيْرِيُّ، ثنا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ بَاذَامَ أَبِي صَالِحٍ، مَوْلَى أُمِّ هَانِئٍ، أَنَّ أُمَّ هَانِئٍ قَالَتْ: سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ: {وَتَأْتُونَ فِي نَادِيكُمُ الْمُنْكَرَ} [العنكبوت: ٢٩] ، قَالَ: «كَانُوا يَجْلِسُونَ فِي الطَّرِيقِ فَيَحْذِفُونَ ابْنَ السَّبِيلِ، وَيَسْخَرُونَ مِنْهُمْ»ترجمہ
سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے نبی کریم ﷺ سے اس آیت کے بارے میں پوچھا: ”اور تم اپنی مجلسوں میں برا کام کرتے ہو“ [العنکبوت: 29]، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ راستے میں بیٹھتے اور مسافروں پر پتھر پھینکتے اور ان کا مذاق اڑاتے تھے۔“