کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا — سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا کی مرویات
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْخَلَّالُ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ أَبِي مُوسَى، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ صَالِحٍ، مَوْلَى التَّوْأَمَةِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَتْ سَوْدَةُ، وَزَيْنَبُ: لَا يُحَرِّكُنَا الْبَعِيرُ أَبَدًا بَعْدَمَا سَمِعْنَا مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَعْنِيَانِ قَوْلَهُ: «هَذِهِ ثُمَّ ظُهُورُ الْحُصْرِ» قَالَ: فَكُنَّ أَزْوَاجُهُ يَحْجُجْنَ إِلَّا هُمَا
ترجمہ
صالح مولی التوأمہ، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں: سودہ اور زینب رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اب اونٹ ہمیں کبھی حرکت میں نہیں لائے گا، اس کے بعد جو ہم نے نبی کریم ﷺ سے سنا - ان کی مراد آپ ﷺ کے اس ارشاد سے تھی: ”یہ سفر، پھر اس کے بعد گھر کی چٹائیوں پر بیٹھے رہنا۔“ راوی کہتے ہیں: تو آپ ﷺ کی ازواج حج کرتی رہیں سوائے ان دونوں کے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، ثنا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ سَوْدَةَ بِنْتِ زَمْعَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِذَا مَشَى صَلَّى لَنَا عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ حَتَّى يَأْتِينَا، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ تَعْلَمِينَ عَلِمَ الْمَوْتِ يَا ابْنَةَ زَمْعَةَ عَلِمْتِ أَنَّهُ أَشَدَّ مِمَّا تُقَدِّرِينَ»
ترجمہ
سودہ رضی اللہ عنہا زوجِ نبی کریم ﷺ فرماتی ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! جب وہ چلیں تو کیا عثمان بن مظعون ہمارے لیے نماز پڑھیں یہاں تک کہ وہ ہمارے پاس آ جائیں؟ تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”اے بنتِ زمعہ! اگر تمہیں موت کا علم ہوتا تو تمہیں معلوم ہو جاتا کہ وہ اس سے کہیں زیادہ سخت ہے جتنا تم اندازہ لگاتی ہو۔“
حَدَّثَنَا الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ سَوْدَةَ بِنْتِ زَمْعَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يُبْعَثُ النَّاسُ حُفَاةً عُرَاةً غُرْلًا قَدْ أَلْجَمَهُمُ الْعَرَقُ وَبَلَغَ شُحُومَ الْآذَانِ» فَقُلْتُ: يُبْصِرُ بَعْضُنَا بَعْضًا؟ فَقَالَ: «شُغِلَ النَّاسُ» {لِكُلِّ امْرِئٍ مِنْهُمْ يَوْمَئِذٍ شَأْنٌ يُغْنِيهِ} [عبس: ٣٧]
ترجمہ
سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”لوگ ننگے پاؤں، ننگے بدن اور ختنہ نہ کیے ہوئے اٹھائے جائیں گے، پسینہ ان کے منہ تک پہنچ چکا ہو گا اور کانوں کی لو تک بھی۔“ میں نے عرض کیا: کیا ہم ایک دوسرے کو دیکھ سکیں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”لوگ مشغول ہوں گے،“ ”اس دن ہر شخص کو ایسی فکر لاحق ہو گی جو اسے بے نیاز کر دے گی۔“ [سورۃ عبس: 37]
حَدَّثَنَا عُبَيْدٌ، ثنا أَبُو بَكْرٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدِ بْنِ زُرَارَةَ، قَالَ: قُدِمَ بِأُسَارَى بَدْرٍ، وَسَوْدَةُ بِنْتُ زَمْعَةَ عِنْدِ آلِ عَفْرَاءَ فِي مَنَاخِهِمْ عَلَى عَوْفٍ، وَمُعَوِّذٍ ابْنِي عَفْرَاءَ، وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يُضْرَبَ عَلَيْهِنَّ الْحِجَابُ، قَالَتْ: فَقِيلَ قُدِمَ بِأُسَارَى بَدْرٍ فَأَتَيْتُ مَنْزِلِي، فَإِذَا أَنَا بِسُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو وَفِي نَاحِيَةِ الْحُجْرَةِ مَجْمُوعَةٌ يَدَاهُ إِلَى عُنُقَهِ، فَلَمَّا رَأَيْتُهُ مَا مَلَكَتُ نَفْسِي قُلْتُ: أَبَا يَزِيدَ أُعْطِيتُمْ مَا بِأَيْدِيكُمْ أَلَا مُتُّمْ كِرَامًا؟ قَالَتْ: فَوَاللهِ مَا نَبَّهَنِي إِلَّا قَوْلُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ دَاخِلِ الْبَيْتِ: «أَعَلَى اللهِ وَعَلَى رَسُولِهِ؟» فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنْ مَلَكْتُ نَفْسِي حَتَّى رَأَيْتُ أَبَا يَزِيدَ أَنْ قُلْتُ مَا قُلْتُ
ترجمہ
یحییٰ بن عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن سعد بن زرارہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: بدر کے قیدی لائے گئے، اور سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا (اس وقت) آلِ عفراء کے ہاں ان کے ٹھکانے پر عفراء کے دونوں بیٹوں عوف اور معوذ کے سلسلے میں موجود تھیں، اور یہ ازواج پر پردے کا حکم نازل ہونے سے پہلے کی بات ہے۔ وہ فرماتی ہیں: کہا گیا کہ بدر کے قیدی لائے گئے ہیں، تو میں اپنے گھر آئی، تو کیا دیکھتی ہوں کہ سہیل بن عمرو حجرے کے ایک کونے میں ہے، اس کے دونوں ہاتھ گردن سے بندھے ہوئے ہیں۔ جب میں نے اسے دیکھا تو میں اپنے آپ پر قابو نہ رکھ سکی، میں نے کہا: اے ابو یزید! تم لوگوں نے (خود کو) ان کے حوالے کر دیا! عزت کے ساتھ کیوں نہ مر گئے؟ وہ فرماتی ہیں: اللہ کی قسم! مجھے صرف رسول اللہ ﷺ کے گھر کے اندر سے یہ فرمانے نے چونکایا: ”کیا اللہ اور اس کے رسول کے خلاف؟“ تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! جب میں نے ابو یزید کو دیکھا تو میں اپنے آپ پر قابو نہ رکھ سکی کہ جو کہا وہ کہہ بیٹھی۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَمْرٍو الْوَكِيعِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَوْدَةَ بِنْتِ زَمْعَةَ، «أَنَّهَا وَهَبَتْ يَوْمَهَا لِعَائِشَةَ»
ترجمہ
سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی باری عائشہ رضی اللہ عنہا کو ہبہ کر دی۔
حَدَّثَنَا وَاثِلَةُ بْنُ الْحَسَنِ الْعِرْقِيُّ، ثنا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا بَقِيَّةُ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ هُذَيْلَ بْنَ شُرَحْبِيلَ يُحَدِّثُ، عَنْ بَعْضِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ لَهَا شَاةٌ مَيْتَةٌ الْحَدِيثَ
ترجمہ
ابوقیس رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے ہذیل بن شرحبیل کو نبی کریم ﷺ کی ایک زوجہ سے یہ بیان کرتے سنا کہ ان کی ایک بکری مر گئی تھی، پھر راوی نے آگے پوری حدیث بیان کی۔