المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
سودة بنت زمعة رضي الله عنها — ما أسندت سودة بنت زمعة باب: سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا — سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا کی مرویات
حدیث نمبر: 20463
حَدَّثَنَا عُبَيْدٌ، ثنا أَبُو بَكْرٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدِ بْنِ زُرَارَةَ، قَالَ: قُدِمَ بِأُسَارَى بَدْرٍ، وَسَوْدَةُ بِنْتُ زَمْعَةَ عِنْدِ آلِ عَفْرَاءَ فِي مَنَاخِهِمْ عَلَى عَوْفٍ، وَمُعَوِّذٍ ابْنِي عَفْرَاءَ، وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يُضْرَبَ عَلَيْهِنَّ الْحِجَابُ، قَالَتْ: فَقِيلَ قُدِمَ بِأُسَارَى بَدْرٍ فَأَتَيْتُ مَنْزِلِي، فَإِذَا أَنَا بِسُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو وَفِي نَاحِيَةِ الْحُجْرَةِ مَجْمُوعَةٌ يَدَاهُ إِلَى عُنُقَهِ، فَلَمَّا رَأَيْتُهُ مَا مَلَكَتُ نَفْسِي قُلْتُ: أَبَا يَزِيدَ أُعْطِيتُمْ مَا بِأَيْدِيكُمْ أَلَا مُتُّمْ كِرَامًا؟ قَالَتْ: فَوَاللهِ مَا نَبَّهَنِي إِلَّا قَوْلُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ دَاخِلِ الْبَيْتِ: «أَعَلَى اللهِ وَعَلَى رَسُولِهِ؟» فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنْ مَلَكْتُ نَفْسِي حَتَّى رَأَيْتُ أَبَا يَزِيدَ أَنْ قُلْتُ مَا قُلْتُترجمہ
جب میں نے اسے دیکھا تو میں اپنے آپ پر قابو نہ رکھ سکی، میں نے کہا: اے ابو یزید! تمہیں وہ کچھ دیا گیا جو تمہارے ہاتھوں میں تھا، کاش تم عزت کے ساتھ مر جاتے! اللہ کی قسم! مجھے صرف رسول اللہ ﷺ کے گھر کے اندر سے یہ فرمانے نے چونکایا: ”کیا اللہ اور اس کے رسول کے خلاف؟“ تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اگر میں اپنے آپ پر قابو رکھ سکتی جب میں نے ابو یزید کو دیکھا تو میں نے جو کہا وہ کہا۔