کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: ابوعبیداللہ بن عبداللہ بن زمعہ کی سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَثْمَةَ، ثنا مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ الزَّمْعِيُّ، عَنْ هَاشِمِ بْنِ هَاشِمِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبِ بْنِ زَمْعَةَ، قَالَ: أَخْبَرَتْنِي أُمُّ سَلَمَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ فَاطِمَةَ وَالْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ، ثُمَّ أَدْخَلَهُمْ تَحْتَ ثَوْبَهِ، ثُمَّ قَالَ: «اللهُمَّ هَؤُلَاءِ أَهْلِي» ، قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَدْخِلْنِي مَعَهُمْ، قَالَ: «إِنَّكِ مِنْ أَهْلِي»
ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدہ فاطمہ، سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہم کو جمع کیا، پھر انہیں اپنی چادر کے نیچے کر لیا، پھر فرمایا: ”اے اللہ! یہ میرے اہلِ بیت ہیں۔“ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے بھی ان کے ساتھ داخل کر لیجیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم بھی میرے اہلِ بیت میں سے ہو۔“
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ دُحَيْمٍ، ثنا مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ، حَدَّثَنِي هَاشِمُ بْنُ هَاشِمٍ، عَنْ وَهْبِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَمْعَةَ، قَالَ: أَخْبَرَتْنِي أُمُّ سَلَمَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اضْطَجَعَ ذَاتَ يَوْمٍ لِلنَّوْمِ، فَاسْتَيْقَظَ وَهُوَ خَاثِرُ النَّفْسِ، فَاضْطَجَعَ فَرَقَدَ، فَاسْتَيْقَظَ وَفِي يَدِهِ تُرْبَةٌ حَمْرَاءُ يُقلِّبُهَا، فَقُلْتُ: مَا هَذِهِ التُّرْبَةُ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: " أَخْبَرَنِي جِبْرِيلُ أَنَّ هَذَا يُقْتَلُ بِأَرْضِ الْعِرَاقِ لِحُسَيْنٍ، فَقُلْتُ لِجِبْرِيلَ: أَرِنِي تُرْبَةَ الْأَرْضِ الَّتِي يُقْتَلُ فِيهَا، فَهَذِهِ تُرْبَتُهَا ".
ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک دن سونے کے لیے لیٹے، پھر آپ ﷺ بیدار ہوئے تو آپ ﷺ کی طبیعت مغموم تھی، پھر آپ ﷺ دوبارہ لیٹے اور سو گئے، پھر بیدار ہوئے تو آپ ﷺ کے ہاتھ میں سرخ مٹی تھی جسے آپ ﷺ الٹ پلٹ رہے تھے۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ کیسی مٹی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے جبریل نے بتایا ہے کہ یہ حسین عراق کی سرزمین میں شہید کیے جائیں گے، تو میں نے جبریل سے کہا: مجھے اس زمین کی مٹی دکھاؤ جہاں یہ شہید ہوں گے، تو یہ اسی کی مٹی ہے۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْجَارُودِ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ هَاشِمِ بْنِ هَاشِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبِ بْنِ زَمْعَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے بھی اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَى الدَّارِيُّ الرَّازِيُّ، ثنا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ، قَالَا: ثنا وَكِيعٌ، عَنْ زَمْعَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ وَهْبِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَمْعَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: " خَرَجَ أَبُو بَكْرٍ فِي تِجَارَةٍ إِلَى بُصْرَى قَبْلَ مَوْتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَامٍ، وَمَعَهُ نُعَيْمَانِ وَسُوَيْبِطُ بْنُ حَرْمَلَةَ، وَكَانَا شَهِدَا بَدْرًا، وَكَانَ نُعَيْمَانُ عَلَى الزَّادِ، فَقَالَ لَهُ سُوَيْبِطٌ، وَكَانَ رَجُلًا مَزَّاحًا: أَطْعِمْنِي، قَالَ: حَتَّى يَجِيءَ صَاحِبُكَ "، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، فرماتی ہیں: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کی وفات سے ایک سال پہلے تجارت کی غرض سے بصریٰ کی طرف نکلے، ان کے ساتھ سیدنا نعیمان اور سویبط بن حرملہ رضی اللہ عنہما تھے، اور یہ دونوں بدر کی جنگ میں شریک ہو چکے تھے۔ سیدنا نعیمان رضی اللہ عنہ سفر کے زادِ راہ کے ذمہ دار تھے، تو سویبط رضی اللہ عنہ، جو ایک ظریف طبیعت کے آدمی تھے، ان سے کہنے لگے: مجھے کھلاؤ۔ انہوں نے کہا: جب تک تمہارا ساتھی نہ آئے۔ پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنُ مُسَاوِرٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَمْعَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: طَرَقَتْنِي حَيْضَتِي وَأَنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَانْسَلَلْتُ، فَقَالَ لِي: «يَا أُمَّ سَلَمَةَ لَعَلَّكِ نُفِسْتِ» ، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: «فَارْجِعِي فَاضْطَجِعِي» ، قَالَتْ: فَرَجَعْتُ فَاضْطَجَعْتُ، وَمَا بَيْنِي وَبَيْنَهُ مِنَ الْإِزَارِ مَا يُجَاوِزُ الرُّكْبَتَيْنِ
ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، فرماتی ہیں: مجھے اچانک حیض آ گیا جبکہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھی، تو میں چپکے سے نکل گئی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ام سلمہ! شاید تمہیں حیض آ گیا ہے؟“ میں نے کہا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر واپس آ کر لیٹ جاؤ۔“ فرماتی ہیں: تو میں واپس آ کر لیٹ گئی، اور میرے اور آپ ﷺ کے درمیان صرف اتنا تہبند تھا جو گھٹنوں سے آگے نہیں بڑھتا تھا۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ يَعْقُوبَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبِ بْنِ زَمْعَةَ، أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ أَخْبَرَتْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يَدْخُلُ عَلَى أَزْوَاجِهِ غَدَاةً، فَيُسَلِّمُ عَلَيْهِنَّ، وَكَانَتْ مِنْهُنَّ امْرَأَةٌ عِنْدَهَا عَسَلٌ، وَكَانَ كُلَّمَا دَخَلَ عَلَيْهَا، أَحَضَرَتْ لَهُ مِنْهُ فَمَكَثَ عِنْدَهَا كَذَلِكَ، وَإِنَّ عَائِشَةَ وَحَفْصَةَ وَجَدَا مِنْ ذَلِكَ، فَقَالَا حِينَ دَخَلَ عَلَيْهِمَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّا نَجْدُ مِنْكَ رِيحَ مَعَافِيرَ، فَتَرَكَ ذَلِكَ الْعَسَلَ "
ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ صبح کے وقت اپنی ازواج کے پاس جاتے اور انہیں سلام کرتے، ان میں سے ایک زوجہ کے پاس شہد تھا، اور جب بھی آپ ﷺ ان کے پاس تشریف لاتے تو وہ آپ ﷺ کے لیے وہ شہد پیش کرتیں، اور آپ ﷺ اسی وجہ سے ان کے پاس ٹھہرتے۔ تو سیدہ عائشہ اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہما کو اس بات پر ناگواری ہوئی، تو جب رسول اللہ ﷺ ان کے پاس تشریف لائے تو دونوں نے عرض کیا: ہم آپ سے معافیر کی بو محسوس کرتی ہیں، تو آپ ﷺ نے وہ شہد چھوڑ دیا۔