حدیث نمبر: 20003
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَى الدَّارِيُّ الرَّازِيُّ، ثنا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ، قَالَا: ثنا وَكِيعٌ، عَنْ زَمْعَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ وَهْبِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَمْعَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: " خَرَجَ أَبُو بَكْرٍ فِي تِجَارَةٍ إِلَى بُصْرَى قَبْلَ مَوْتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَامٍ، وَمَعَهُ نُعَيْمَانِ وَسُوَيْبِطُ بْنُ حَرْمَلَةَ، وَكَانَا شَهِدَا بَدْرًا، وَكَانَ نُعَيْمَانُ عَلَى الزَّادِ، فَقَالَ لَهُ سُوَيْبِطٌ، وَكَانَ رَجُلًا مَزَّاحًا: أَطْعِمْنِي، قَالَ: حَتَّى يَجِيءَ صَاحِبُكَ "، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
ترجمہ

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، فرماتی ہیں: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کی وفات سے ایک سال پہلے تجارت کی غرض سے بصریٰ کی طرف نکلے، ان کے ساتھ سیدنا نعیمان اور سویبط بن حرملہ رضی اللہ عنہما تھے، اور یہ دونوں بدر کی جنگ میں شریک ہو چکے تھے۔ سیدنا نعیمان رضی اللہ عنہ سفر کے زادِ راہ کے ذمہ دار تھے، تو سویبط رضی اللہ عنہ، جو ایک ظریف طبیعت کے آدمی تھے، ان سے کہنے لگے: مجھے کھلاؤ۔ انہوں نے کہا: جب تک تمہارا ساتھی نہ آئے۔ پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 20003
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 309، حدیث 699