کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: عبداللہ بن حسن کی سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الْمَوَالِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَسَنِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّهَا حَلَفَتْ فِي غُلَامٍ لَهَا اسْتَعْتَقَهَا، قَالَتْ: لَا أَعْتَقَهَا اللهُ مِنَ النَّارِ إِنْ أَعْتَقَتْهُ أَبَدًا، ثُمَّ مَكَثَتْ مَا شَاءَ اللهُ، فَقَالَتْ: سُبْحَانَ اللهِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَى خَيْرًا مِنْهَا فَلْيُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِهِ، ثُمَّ لِيَفْعَلِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ» ، فَأَعْتَقْتُ الْعَبْدَ، ثُمَّ كَفَّرْتُ عَنْ يَمِينِهَا
ترجمہ
عبداللہ بن حسن رحمہ اللہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنے ایک غلام کے بارے میں، جس نے ان سے آزادی مانگی تھی، قسم کھائی اور فرمایا: اللہ مجھے کبھی آگ سے آزاد نہ کرے اگر میں اسے کبھی آزاد کروں۔ پھر جتنی مدت اللہ نے چاہی وہ ٹھہری رہیں، پھر فرمایا: سبحان اللہ! میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے: ”جو شخص کسی بات پر قسم کھائے، پھر اس سے بہتر بات دیکھے، تو وہ اپنی قسم کا کفارہ ادا کرے، پھر وہی کرے جو بہتر ہے۔“ تو میں نے اس غلام کو آزاد کر دیا، پھر اپنی قسم کا کفارہ ادا کیا۔
حَدَّثَنَا الْبُحْتُرِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو الضَّبِّيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَسَنِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ لَمْ يَكُنْ فِيهِ وَاحِدَةٌ مِنْ ثَلَاثٍ فَلَا يَحْتَسِبُ بِشَيْءٍ، تَقْوَى يَحْجِزُهُ عَنِ الْمَحَارِمِ، أَوْ حِلْمٌ يَكُفُّ بِهِ عَنِ السَّفِيهِ، أَوْ خُلُقٌ يَعِيشُ بِهِ فِي النَّاسِ»
ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس میں ان تین باتوں میں سے کوئی ایک نہ ہو، وہ کسی چیز کا اعتبار نہ کرے: ایسا تقویٰ جو اسے حرام کاموں سے روکے، یا ایسا حلم جس سے وہ بے وقوف سے بچ سکے، یا ایسا حسنِ اخلاق جس کے ذریعے وہ لوگوں میں خوشگواری سے زندگی گزار سکے۔“