حدیث نمبر: 20001
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ دُحَيْمٍ، ثنا مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ، حَدَّثَنِي هَاشِمُ بْنُ هَاشِمٍ، عَنْ وَهْبِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَمْعَةَ، قَالَ: أَخْبَرَتْنِي أُمُّ سَلَمَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اضْطَجَعَ ذَاتَ يَوْمٍ لِلنَّوْمِ، فَاسْتَيْقَظَ وَهُوَ خَاثِرُ النَّفْسِ، فَاضْطَجَعَ فَرَقَدَ، فَاسْتَيْقَظَ وَفِي يَدِهِ تُرْبَةٌ حَمْرَاءُ يُقلِّبُهَا، فَقُلْتُ: مَا هَذِهِ التُّرْبَةُ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: " أَخْبَرَنِي جِبْرِيلُ أَنَّ هَذَا يُقْتَلُ بِأَرْضِ الْعِرَاقِ لِحُسَيْنٍ، فَقُلْتُ لِجِبْرِيلَ: أَرِنِي تُرْبَةَ الْأَرْضِ الَّتِي يُقْتَلُ فِيهَا، فَهَذِهِ تُرْبَتُهَا ".
ترجمہ

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک دن سونے کے لیے لیٹے، پھر آپ ﷺ بیدار ہوئے تو آپ ﷺ کی طبیعت مغموم تھی، پھر آپ ﷺ دوبارہ لیٹے اور سو گئے، پھر بیدار ہوئے تو آپ ﷺ کے ہاتھ میں سرخ مٹی تھی جسے آپ ﷺ الٹ پلٹ رہے تھے۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ کیسی مٹی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے جبریل نے بتایا ہے کہ یہ حسین عراق کی سرزمین میں شہید کیے جائیں گے، تو میں نے جبریل سے کہا: مجھے اس زمین کی مٹی دکھاؤ جہاں یہ شہید ہوں گے، تو یہ اسی کی مٹی ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 20001
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 308، حدیث 697