کتب حدیثالمعجم الكبير للطبرانيابوابباب: عطاء بن ابی رباح کی سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایات
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَا: ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّهَا لَبِسَتْ قِلَادَةً فِيهَا شُعَيْرَاتٌ مِنْ ذَهَبٍ، فَرَآهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَرِهَهَا، فَأَعْرَضَ عَنْهَا، فَنَزَعَتْهَا فَقَالَ: «مَا يُؤْمِنُكِ أَنْ يُقَلِّدَكِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَكَانَهَا شَعَرَاتٍ مِنْ نَارٍ»
ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک ایسا ہار پہنا جس میں سونے کے چند دانے تھے، نبی کریم ﷺ نے اسے دیکھا تو ناپسند فرمایا اور اس سے منہ پھیر لیا، تو انہوں نے وہ ہار اتار دیا، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہیں کیا معلوم کہ قیامت کے دن اس کی جگہ تمہیں آگ کے دانوں کا ہار نہ پہنایا جائے؟“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 19914
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 280، حدیث 610
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَمْزَةَ الْعَتَكِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الرَّازِيُّ، عَنْ نَافِعِ بْنِ مِهْرَانَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ صَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ قَبْلَ الْعَصْرِ حَرَّمَ اللهُ بَدَنَهُ عَلَى النَّارِ» ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ قَدْ رَأَيْتُكَ تُصَلِّي وَتَدَعُ، قَالَ: «لَسْتُ كَأَحَدِهِمْ»
ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جس نے عصر سے پہلے چار رکعتیں پڑھیں، اللہ تعالیٰ اس کے بدن کو آگ پر حرام کر دیتا ہے۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے آپ کو کبھی یہ نماز پڑھتے اور کبھی چھوڑتے دیکھا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں تم میں سے کسی ایک کی طرح نہیں ہوں۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 19915
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 281، حدیث 611
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ بْنِ الصَّبَّاحِ، ثنا أَبُو غَسَّانَ، ثنا جَعْفَرٌ الْأَحْمَرُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ فَاطِمَةَ جَاءَتْ بِطُعَيْمٍ لَهَا إِلَى أَبِيهَا وَهُوَ عَلَى مَنَامَةٍ لَهُ، فَقَالَ: «اذْهَبِي فَادْعِي ابْنِي وَابْنَ عَمِّكِ» ، قَالَتْ: فَجَلَّلَهُمْ، أَوْ قَالَتْ:، فَحَوَّلْتُ عَلَيْهِمُ الْكِسَاءَ، ثُمَّ قَالَ: «اللهُمَّ هَؤُلَاءِ أَهْلُ بَيْتِي، وَحَامَتِي فَأَذْهِبْ عَنْهُمُ الرِّجْسَ وَطَهِّرْهُمْ تَطْهِيرًا» ، قَالَتْ أُمِّ سَلَمَةَ: وَأَنَا مَعَهُمْ يَا رَسُولَ اللهِ؟، قَالَ: «أَنْتِ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِلَيَّ أَوْ عَلَى خَيْرٍ»
ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اپنے کچھ کھانے کے ساتھ اپنے والد (ﷺ) کے پاس آئیں، آپ ﷺ اپنے بستر پر تھے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”جاؤ اور میرے بیٹوں اور اپنے چچا زاد کو بلا لاؤ۔“ فرماتی ہیں: تو انہوں نے ان (سب) کو ایک چادر میں ڈھانپ لیا، یا کہا: میں نے ان پر چادر اوڑھا دی، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے اللہ! یہ میرے اہلِ بیت اور میرے خاص لوگ ہیں، ان سے ناپاکی دور کر دے اور انہیں خوب پاک کر دے۔“ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا میں بھی ان کے ساتھ ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم نبی ﷺ کی زوجہ ہو، اور (یہ مقام) میری طرف ہے، بھلائی پر ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 19916
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 281، حدیث 612
حَدَّثَنَا الْمَعْمَرِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، ثنا أَبِي، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّهَا كَانَتْ تَلْبَسُ أَوْضَاحًا مِنْ ذَهَبٍ فَسَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَكَنْزٌ هُوَ؟ فَقَالَ: «إِذَا أَدَّيْتِ زَكَاتَهُ فَلَيْسَ بِكَنْزٍ»
ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ سونے کے کنگن پہنا کرتی تھیں، انہوں نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا: کیا یہ خزانہ شمار ہوتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم اس کی زکاۃ ادا کر دو تو یہ خزانہ نہیں رہتا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 19917
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 281، حدیث 613