حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو حُذَيْفَةَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّمَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، قَالَا: ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ عَمِّي هِشَامَ بْنَ الْمُغِيرَةِ كَانَ يُطْعِمُ الطَّعَامَ، وَيَصِلُ الرَّحِمَ، وَيَفْعَلُ وَيَفْعَلُ، فَلَوْ أَدْرَكَكَ لَأَسْلَمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَانَ يُعْطِي لِلدُّنْيَا وَحْدَهَا وَذِكْرِهَا، وَمَا قَالَ يَوْمًا قَطُّ اغْفِرْ لِي يَوْمَ الدِّينِ» .
ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے چچا ہشام بن مغیرہ کھانا کھلاتے تھے، صلہ رحمی کرتے تھے اور بہت سے (نیک) کام کرتے تھے، اگر وہ آپ کا زمانہ پاتے تو ضرور اسلام لے آتے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”وہ صرف دنیا اور اس کی شہرت کے لیے (یہ سب) دیتا تھا، اور اس نے کبھی ایک دن بھی یہ نہیں کہا: اے اللہ! مجھے قیامت کے دن بخش دے۔“
حَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ
ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے بھی اسی طرح کی حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَى الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: «كُنَّا نَكُونُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَنَحْنُ مُحْرِمَاتٌ، فَيَمُرُّ بِنَا الرَّاكِبُ، فَتَسْدِلُ إِحْدَانَا الثَّوْبَ عَلَى وَجْهِهَا مِنْ فَوْقِ رَأْسِهَا، وَرُبَّمَا قَالَتْ مِنْ فَوْقِ الْخِمَارِ»
ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا، زوجِ نبی ﷺ، بیان کرتی ہیں: ہم نبی کریم ﷺ کے ساتھ حالتِ احرام میں ہوتیں، تو جب کوئی سوار ہمارے پاس سے گزرتا تو ہم میں سے کوئی اپنا کپڑا سر کے اوپر سے اپنے چہرے پر لٹکا لیتی، اور کبھی کہتیں: دوپٹے کے اوپر سے۔
حَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، ثنا ابْنُ كَثِيرٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: " يَا رَسُولَ اللهِ لَا نُقْطَعُ الْمِيرَاثَ، وَلَا نُقَاتِلُ، فَنُسْتَشْهَدُ، فَأَنْزَلَ اللهُ {وَلَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللهُ بِهِ بَعْضَكُمْ عَلَى بَعْضٍ} [النساء: ٣٢] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، ثُمَّ نَزَلَتْ {أَنِّي لَا أُضِيعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِنْكُمْ مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى} [آل عمران: ١٩٥] "
ترجمہ
مجاہد بیان کرتے ہیں کہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: یا رسول اللہ! ہمیں وراثت میں (مردوں کے برابر) حصہ نہیں ملتا، اور نہ ہم جہاد کر کے شہادت پا سکتی ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ”اور اس چیز کی تمنا نہ کرو جس میں اللہ نے تم میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے“ [سورۃ النساء: 32] آخر آیت تک، پھر یہ آیت نازل ہوئی: ”میں تم میں سے کسی عمل کرنے والے کا عمل ضائع نہیں کرتا، خواہ مرد ہو یا عورت“ [سورۃ آل عمران: 195]۔