حدیث نمبر: 19916
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ بْنِ الصَّبَّاحِ، ثنا أَبُو غَسَّانَ، ثنا جَعْفَرٌ الْأَحْمَرُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ فَاطِمَةَ جَاءَتْ بِطُعَيْمٍ لَهَا إِلَى أَبِيهَا وَهُوَ عَلَى مَنَامَةٍ لَهُ، فَقَالَ: «اذْهَبِي فَادْعِي ابْنِي وَابْنَ عَمِّكِ» ، قَالَتْ: فَجَلَّلَهُمْ، أَوْ قَالَتْ:، فَحَوَّلْتُ عَلَيْهِمُ الْكِسَاءَ، ثُمَّ قَالَ: «اللهُمَّ هَؤُلَاءِ أَهْلُ بَيْتِي، وَحَامَتِي فَأَذْهِبْ عَنْهُمُ الرِّجْسَ وَطَهِّرْهُمْ تَطْهِيرًا» ، قَالَتْ أُمِّ سَلَمَةَ: وَأَنَا مَعَهُمْ يَا رَسُولَ اللهِ؟، قَالَ: «أَنْتِ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِلَيَّ أَوْ عَلَى خَيْرٍ»
ترجمہ

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اپنے کچھ کھانے کے ساتھ اپنے والد (ﷺ) کے پاس آئیں، آپ ﷺ اپنے بستر پر تھے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”جاؤ اور میرے بیٹوں اور اپنے چچا زاد کو بلا لاؤ۔“ فرماتی ہیں: تو انہوں نے ان (سب) کو ایک چادر میں ڈھانپ لیا، یا کہا: میں نے ان پر چادر اوڑھا دی، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے اللہ! یہ میرے اہلِ بیت اور میرے خاص لوگ ہیں، ان سے ناپاکی دور کر دے اور انہیں خوب پاک کر دے۔“ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا میں بھی ان کے ساتھ ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم نبی ﷺ کی زوجہ ہو، اور (یہ مقام) میری طرف ہے، بھلائی پر ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 19916
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 281، حدیث 612