کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: سلیمان بن یسار کی سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَارِمٌ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، وَابْنَ عَبَّاسٍ، وَأَبَا سَلَمَةَ، اجْتَمَعُوا فَتَذَاكَرُوا الَّتِي تَضَعُ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: آخِرُ الْأَجَلَيْنِ، وَقَالَ أَبُو سَلَمَةَ: إِذَا وَضَعَتْ حَلَّتْ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: أَنَا مَعَ ابْنُ أَخِي، فَبَعَثُوا كُرَيْبًا إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ، فَذَكَرَتْ حَدِيثَ سُبَيْعَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «أَمَرَهَا أَنْ تَزَوَّجَ» .
ترجمہ
ابو سلمہ رحمہ اللہ نے فرمایا: جب عورت بچہ جن لے تو وہ نکاح کے لیے حلال ہو جاتی ہے، تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں اپنے بھتیجے کی بات سے متفق ہوں۔ چنانچہ انہوں نے کریب کو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا، تو انہوں نے سبیعہ رضی اللہ عنہا کی حدیث بیان کی کہ نبی کریم ﷺ نے انہیں نکاح کرنے کا حکم دیا تھا۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، وَأَبَا سَلَمَةَ أَرْسِلُوا إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ كُرَيْبًا مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَذَكَرَ نَحْوَهُ
ترجمہ
سلیمان بن یسار بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس اور ابو سلمہ رضی اللہ عنہما نے ابن عباس کے آزاد کردہ غلام کریب کو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی طرف بھیجا، تو انہوں نے اسی طرح کا واقعہ بیان کیا۔
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، ثنا أَبُو حُذَيْفَةَ، ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، قَالَا: ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: وَضَعَتْ سُبَيْعَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ حَمْلَهَا بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِأَيَّامٍ، «وَأَمَرَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَزَوَّجَ»
ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: سبیعہ بنت حارث نے اپنے شوہر کی وفات کے چند دن بعد اپنا حمل جنا، تو رسول اللہ ﷺ نے اسے نکاح کرنے کا حکم دیا۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُعَلَّى بْنُ رَاشِدٍ، ثنا وَهْبٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ فَاطِمَةَ اسْتُحِيضَتْ، وَكَانَتْ تَغْتَسِلُ مِنَ الْمِرْكَنِ، فَتَخْرُجُ وَهِيَ عَالِيَةُ الصُّفْرَةِ وَالْكُدْرَةِ، فَاسْتَفْتَتْ لَهَا أُمُّ سَلَمَةَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «تَنْتَظِرُ أَيَّامَ حَيْضِهَا، فَتَدَعُ الصَّلَاةَ فِيهَا، وَتَغْتَسِلُ فِيمَا سِوَى ذَلِكَ، وَتُصَلِّي» . قَالَ أَيُّوبُ: فَقُلْتُ لِسُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ: يَأْتِيهَا زَوْجُهَا؟، قَالَ: «إِنَّمَا نَقُولُ مَا سَمِعْنَا» .
ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو استحاضہ کا مرض ہو گیا، وہ ٹب میں غسل کرتی تھیں تو زردی اور گدلاہٹ کی وجہ سے پانی اوپر تک آ جاتا، تو ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے ان کے بارے میں رسول اللہ ﷺ سے مسئلہ دریافت کیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ اپنے حیض کے ایام کا انتظار کرے، ان میں نماز چھوڑ دے، اور ان کے علاوہ باقی دنوں میں غسل کرے اور نماز پڑھے۔“ ایوب کہتے ہیں: میں نے سلیمان بن یسار سے پوچھا: کیا اس کا شوہر اس کے پاس آ سکتا ہے؟ انہوں نے فرمایا: ”ہم تو وہی بتاتے ہیں جو ہم نے سنا ہے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عُبَادَةُ بْنُ زِيَادٍ، ثنا أَبُو مَرْيَمَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ نَحْوَهُ
ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے بھی اسی طرح کی حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ثنا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنِ الْحَجَّاجِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ فَاطِمَةَ أَتَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: إِنِّي أَرَى الدَّمَ، فَأَمَرَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ «تَغْتَسِلَ وَتَتَوَضَّأَ لِكُلِّ صَلَاةٍ»
ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں اور عرض کیا: مجھے خون آتا رہتا ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ غسل کریں اور ہر نماز کے لیے وضو کریں۔
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: سَأَلَتِ امْرَأَةٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: إِنِّي أُسْتَحَاضُ، فَلَا أَطْهُرُ، أَفَأَدَعُ الصَّلَاةَ؟، قَالَ: «لَا وَلَكِنْ دَعِي قَدْرَ الْأَيَّامِ وَاللَّيَالِيَ الَّتِي كُنْتِ تَحِيضِينَ فِيهَا، ثُمَّ اغْتَسِلِي وَاسْتَثْفِرِي بِثَوْبٍ وَصَلِّي»
ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: ایک عورت نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا اور کہا: مجھے استحاضہ کا مرض ہے اور میں پاک نہیں ہوتی، تو کیا میں نماز چھوڑ دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ ان دنوں اور راتوں کے برابر نماز چھوڑ دو جن میں تمہیں حیض آتا تھا، پھر غسل کر لو اور کپڑے سے اپنے آپ کو باندھ لو اور نماز پڑھو۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ، ثنا عُثْمَانُ، ثنا عَبْدَةُ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّهَا ذَكَرَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذُيُولَ النِّسَاءِ، فَقَالَ: «تُرْخِينَ شِبْرًا» ، قُلْتُ: إِذَنْ تَنْكَشِفُ عَنْهُنَّ، قَالَ: «فَذِرَاعٌ لَا يَزِدْنَ عَلَيْهِ»
ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ سے عورتوں کے دامن کا ذکر کیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایک بالشت لٹکا لو۔“ میں نے عرض کیا: تب تو ان کے پاؤں کھل جائیں گے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو پھر ایک ہاتھ، اس سے زیادہ نہ بڑھائیں۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مَنْصُورٍ الرُّمَّانِيُّ، ثنا الْمُعَافَى بْنُ سُلَيْمَانَ، ح وَحَدَّثَنَا، سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُعَافَى، ثنا أَبِي، ثنا حَكِيمُ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «سَيَكُونُ بَعْدِي خَسْفٌ بِالْمَشْرِقِ، وَخَسْفٌ بِالْمَغْرِبِ، وَخَسْفٌ فِي جَزِيرَةِ الْعَرَبِ» ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ يُخْسَفُ بِالْأَرْضِ وَفِيهِمِ الصَّالِحُونَ؟، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا كَانَ أَكْثَرُ أَهْلِهَا الْخَبَثَ»
ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”میرے بعد عنقریب مشرق میں زمین دھنسے گی، مغرب میں زمین دھنسے گی، اور جزیرۃ العرب میں زمین دھنسے گی۔“ تو انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا زمین اس حال میں دھنسے گی کہ ان میں نیک لوگ بھی ہوں؟ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”جب اس کے باشندوں میں اکثریت بدکاروں کی ہو جائے۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا وَكِيعٌ، ثنا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ، يُحَدِّثُ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «يُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ غَيْرِ احْتِلَامٍ، فَيَغْتَسِلُ ثُمَّ يَمْضِي عَلَى صَوْمِهِ» .
ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ بغیر احتلام کے حالتِ جنابت میں صبح کرتے، پھر غسل کرتے اور اپنا روزہ جاری رکھتے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ، ثنا سَعِيدُ بْنُ حَفْصٍ النَّجَّارِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ
ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے بھی اسی طرح کی حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ امْرَأَةً كَانَتْ تُهَرَاقُ الدَّمَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاسْتَفْتَتْ لَهَا أُمُّ سَلَمَةَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «لِتَنْظُرْ عِدَّةَ اللَّيَالِيَ وَالْأَيَّامِ الَّتِي كَانَتْ تَحِيضُهُنَّ مِنَ الشَّهْرِ قَبْلَ أَنْ يُصِيبَهَا الَّذِي أَصَابَهَا، فَلْتَتْرُكِ الصَّلَاةَ قَدْرَ ذَلِكَ مِنَ الشَّهْرِ، فَإِذَا خَلَّفَتْ ذَلِكَ، فَلْتَغْتَسِلْ، ثُمَّ لِتَسْتَثْفِرْ بِثَوْبٍ، ثُمَّ لِتُصَلِّي»
ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ایک عورت کو خون جاری رہنے کی بیماری تھی، تو ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے اس کے بارے میں رسول اللہ ﷺ سے مسئلہ دریافت کیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ اس بیماری میں مبتلا ہونے سے پہلے مہینے میں جتنی راتوں اور دنوں حیض آتا تھا اتنے دن دیکھے، پھر مہینے میں اتنے دن نماز چھوڑ دے، پھر جب یہ دن گزر جائیں تو غسل کرے، پھر کپڑے سے اپنے آپ کو باندھے، پھر نماز پڑھے۔“