کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: عروہ بن زبیر کی سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّمَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، وَأُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتَا: حَاضَتْ صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيٍّ قَبْلَ النَّحْرِ، فَدَخَلَ عَلَيْهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ تَبْكِي، فَقَالَ: «أَحَابِسَتُنَا هِيَ هَلْ كُنْتِ أَفَضْتِ يَوْمَ النَّحْرِ؟» ، قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: «فَانْفِرِي»
ترجمہ
سیدہ عائشہ اور سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہما دونوں فرماتی ہیں: سیدہ صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کو قربانی کے دن سے پہلے حیض آ گیا، تو رسول اللہ ﷺ ان کے پاس تشریف لائے جبکہ وہ رو رہی تھیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا یہ ہمیں روک رکھے گی؟ کیا تم نے قربانی کے دن طوافِ افاضہ کر لیا تھا؟“ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو پھر روانہ ہو جاؤ۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو الضَّبِّيُّ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفُلَانٌ يَشْتَكِي، فَقَالَ: «مَا هَذَا؟» ، فَقُلْنَا: نَتَّهِمُ لَهُ الْعَيْنَ، فَقَالَ: «أَلَا تَسْتَرْقُونَ لَهُ مِنَ الْعَيْنِ»
ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے جبکہ فلاں شخص بیمار تھا، آپ ﷺ نے پوچھا: ”یہ کیا ہے؟“ ہم نے عرض کیا: ہمیں اس پر نظرِ بد کا گمان ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم اس کے لیے نظرِ بد کا دم کیوں نہیں کرواتے؟“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَافِعٍ الطَّحَّانُ الْمِصْرِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: ذَكَرْتُ الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ لَيْلَةً فَلَمْ يَأْتِنِي النَّوْمُ، فَلَمَّا أَصْبَحْتُ غَدَوْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: «لَا تَفْعَلِي، فَإِنَّهُ إِنْ يَخْرُجْ وَأَنَا فِيكُمْ يَكْفِكُمُ اللهُ بِي، وَإِنْ يَخْرُجْ بَعْدَ أَنْ أَمُوتَ يَكْفِكُمُوهُ بِالصَّالِحِينَ» ثُمَّ قَامَ، فَذَكَرَ الدَّجَّالَ، فَقَالَ: «مَا مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا قَدْ حَذَّرَهُ أُمَّتَهُ، وَأَنَا أُحَذِّرُكُمُوهُ، إِنَّهُ أَعْوَرُ، وَإِنَّ اللهَ لَيْسَ بِأَعْوَرَ، أَلَا إِنَّ الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ كَأَنَّ عَيْنَهُ عِنَبَةٌ طَافِيَةٌ»
ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ایک رات میں نے مسیح دجال کا ذکر کیا تو مجھے نیند نہ آئی، پھر جب صبح ہوئی تو میں صبح سویرے رسول اللہ ﷺ کے پاس گئی اور آپ ﷺ کو یہ بات بتائی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایسا نہ کرو، اگر وہ میری موجودگی میں نکلا تو اللہ میرے ذریعے تمہاری کفایت فرمائے گا، اور اگر وہ میرے مرنے کے بعد نکلا تو اللہ نیک لوگوں کے ذریعے تمہاری کفایت فرمائے گا۔“ پھر آپ ﷺ کھڑے ہوئے اور دجال کا ذکر کیا، فرمایا: ”کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس نے اپنی امت کو اس سے خبردار نہ کیا ہو، اور میں تمہیں اس سے خبردار کرتا ہوں، بے شک وہ کانا ہے، اور اللہ تعالیٰ کانا نہیں ہے، خبردار! مسیح دجال کی آنکھ گویا ابھری ہوئی انگور کے دانے کی طرح ہے۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ الْمَوْصِلِيُّ، ثنا هَارُونُ بْنُ عِمْرَانَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ أَبِي دَاوُدَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي أُمُّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: «قَدَّمَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِيمَنْ قَدِمَ مِنْ ضَعَفَةِ أَهْلِهِ لَيْلَةَ الْمُزْدَلِفَةِ» ، قَالَتْ: فَرَمَيْتُ الْجَمْرَةَ بِلَيْلٍ، ثُمَّ مَضَيْتُ إِلَى مَكَّةَ، فَصَلَّيْتُ بِهَا الصُّبْحَ، ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَى مِنًى
ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ﷺ نے مزدلفہ کی رات مجھے اپنے کمزور گھر والوں کے ساتھ آگے بھیج دیا۔ وہ کہتی ہیں: تو میں نے رات ہی میں جمرہ کو کنکریاں ماریں، پھر مکہ کی طرف چلی گئی، وہاں صبح کی نماز پڑھی، پھر منیٰ واپس آ گئی۔
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ثنا أَبُو قَبِيصَةَ الْفَزَارِيُّ، ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي لَمْ أَطُفْ طَوَافَ الْخُرُوجِ، فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا صَلَّى النَّاسُ الصُّبْحَ، فَطُوفِي عَلَى بَعِيرِكِ مِنْ وَرَاءِ الصُّفُوفِ، ثُمَّ اخْرُجِي»
ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ سے عرض کیا: میں نے ابھی طوافِ وداع نہیں کیا۔ نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا: ”جب لوگ صبح کی نماز پڑھ لیں تو تم اپنی اونٹنی پر صفوں کے پیچھے سے طواف کر لو، پھر نکل جاؤ۔“