کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: جن کی کنیت ابوجبیرہ ہے — سیدنا ابوجبیرہ بن ضحاک انصاری سلمی رضی اللہ عنہ (کہا گیا: ضحاک بن ابی جبیرہ، صحیح ابوجبیرہ ہے)
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، ثنا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: قَالَ أَبُو جَبِيرَةَ بْنُ الضَّحَّاكِ: فِينَا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ، يَعْنِي بَنِي سَلَمَةَ، قَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَمَا مِنَّا رَجُلٌ إِلَّا وَلَهُ اسْمَانِ أَوْ ثَلَاثَةٌ، فَكَانَ إِذَا دَعَا الرَّجُلُ بِالِاسْمِ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّهُ يَكْرَهُ هَذَا، فَنَزَلَتْ: " {وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ} [الحجرات: ١١] الْآيَةُ "
ترجمہ
سیدنا ابوجبیرہ بن ضحاک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: یہ آیت ہمارے (بنو سلمہ کے) بارے میں نازل ہوئی۔ رسول اللہ ﷺ مدینہ تشریف لائے تو ہم میں سے ہر آدمی کے دو یا تین نام تھے، جب آپ ﷺ کسی آدمی کو کسی نام سے پکارتے تو لوگ کہتے: یا رسول اللہ! یہ اس نام کو ناپسند کرتا ہے۔ تو یہ آیت نازل ہوئی: ”اور ایک دوسرے کو برے القاب سے نہ پکارو“ [سورۃ الحجرات: 11]۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أَبِي جَبِيرَةَ بْنِ الضَّحَّاكِ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: فِينَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ} [الحجرات: ١١] قَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالرَّجُلُ لَهُ الِاسْمَانِ وَالثَّلَاثَةُ، فَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رُبَّمَا دَعَاهُمْ بِبَعْضِ تِلْكَ الْأَسْمَاءِ فَيُقَالُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّهُ يَغْضَبُ مِنْ هَذِهِ " فَنَزَلَتْ {وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ} [الحجرات: ١١] "
ترجمہ
سیدنا ابوجبیرہ بن ضحاک انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم انصار کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی: ”اور ایک دوسرے کو برے القاب سے نہ پکارو“ [سورۃ الحجرات: 11]۔ رسول اللہ ﷺ تشریف لائے تو ہر آدمی کے دو یا تین نام ہوتے تھے، کبھی رسول اللہ ﷺ ان میں سے کسی نام سے پکار دیتے تو کہا جاتا: یا رسول اللہ! وہ اس نام سے ناراض ہوتا ہے۔ تو یہ آیت نازل ہوئی: ”اور ایک دوسرے کو برے القاب سے نہ پکارو۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أَبِي جَبِيرَةَ بْنِ الضَّحَّاكِ قَالَ: " كَانَ الْأَنْصَارُ يَتَصَدَّقُونَ وَيَعْطُونَ مَا شَاءَ اللهُ فَأَصَابَتْهُمْ سَنَةٌ فَأَمْسَكُوا، فَأَنْزَلَ اللهُ {وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ} [البقرة: ١٩٥] "
ترجمہ
سیدنا ابوجبیرہ بن ضحاک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: انصار صدقہ کرتے اور جتنا اللہ چاہتا دیتے رہے، پھر ان پر ایک قحط سال آیا تو انہوں نے صدقہ دینا روک دیا، تو اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی: ”اور اپنے آپ کو اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ ڈالو“ [سورۃ البقرہ: 195]۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْخَلَّالُ الْمَكِّيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ، ثنا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ شُبَيْلِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أَبِي جَبِيرَةَ بْنِ الضَّحَّاكِ الْأَنْصَارِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ هَكَذَا وَجَمَعَ بَيْنَ الْوُسْطَى وَالسَّبَّابَةِ فَسَبَقْتُهَا كَمَا سَبَقَتْ هَذِهِ هَذِهِ»
ترجمہ
سیدنا ابوجبیرہ بن ضحاک انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے اور قیامت کو اس طرح بھیجا گیا ہے“، اور آپ ﷺ نے اپنی درمیانی اور شہادت کی انگلیوں کو ملایا، ”میں اس سے آگے نکل گیا ہوں جیسے یہ (انگلی) اس سے آگے ہے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْبَرَاءِ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيُّ، ثنا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ شُبَيْلِ بْنِ عَوْفٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو جَبِيرَةَ، عَنْ أَشْيَاخٍ، مِنَ الْأَنْصَارِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
ترجمہ
سیدنا ابوجبیرہ رضی اللہ عنہ انصار کے کچھ بزرگوں سے نبی کریم ﷺ کی اسی جیسی حدیث بیان کرتے ہیں۔