حدیث نمبر: 19170
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ سُورَةَ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ، ثنا الْهَيَّاجُ بْنُ بِسْطَامٍ، ثنا عَبَّادٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْغِفَارِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ذَاتَ يَوْمٍ وَقَدْ أهَلَّ شَهْرُ رَمَضَانَ: «لَوْ يَعْلَمُ الْعِبَادُ مَا فِي شَهْرِ رَمَضَانَ لَتَمَنَّى الْعِبَادُ أَنْ يَكُونَ شَهْرُ رَمَضَانَ سَنَةً» ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ خُزَاعَةَ: يَا رَسُولَ اللهِ حَدِّثْنَا فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الْجَنَّةَ تَزَيَّنُ لِشَهْرِ رَمَضَانَ مِنْ رَأْسِ الْحَوْلِ إِلَى رَأْسِ الْحَوْلِ حَتَّى إِذَا كَانَ أَوَّلُ لَيْلَةٍ هَبَّتْ رِيحٌ مِنْ تَحْتِ الْعَرْشِ فَصَفَّقَتْ وَرَقَ شَجَرِ الْجَنَّةِ فَنَظَرَ الْحُورُ الْعِينُ إِلَى ذَلِكَ فَقُلْنَ: يَا رَبِّ، اجْعَلْ لَنَا مِنْ عِبَادِكَ فِي هَذَا الشَّهْرِ أَزْوَاجًا تَقَرُّ أَعْيُنُنَا بِهِمْ وَتَقِرُّ أَعْيُنَهُمْ بِنَا، وَمَا مِنْ عَبْدٍ صَامَ شَهْرَ رَمَضَانَ إِلَّا زَوَّجَهُ اللهُ زَوْجَةً فِي كُلِّ يَوْمٍ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ الْمَقْصُورَاتِ فِي الْخِيَامِ عَلَى كُلِّ امْرَأَةٍ مِنْهُنَّ سَبْعُونُ حُلَّةً لَيْسَ مِنْهَا حُلَّةٌ عَلَى لَوْنِ الْأُخْرَى وَيُعْطَى سَبْعُونَ لَوْنًا مِنَ الطِّيبِ لَيْسَ مِنْهُ لَوْنٌ يُشْبِهُ الْآخَرَ، وَكُلُّ امْرَأَةٍ مِنْهُنَّ عَلَى سَرِيرٍ مِنْ يَاقُوتٍ مُوَشَّحٌ بِالدُّرَرِ عَلَى سَبْعِينَ فِرَاشًا بَطَائِنُهَا مِنْ إِسْتَبْرَقٍ وَفَوْقَ السَّبْعِينَ فِرَاشًا سَبْعُونَ أَرِيكَةً، وَلِكُلِّ امْرَأَةٍ مِنْهُنَّ سَبْعُونَ وُصَفَاءَ يَخْدِمْنَهَا وَسَبْعِينَ وُصَفَاءَ لِلُقِيِّهَا وَوُجَهَاءَ مَعَ كُلِّ وَصِيفٍ صَحْفَةٌ مِنْ ذَهَبٍ فِيهَا لَوْنٌ مِنَ الطَّعَامِ يَجِدُ لِآخِرِهِ مِنَ اللَّذَّةِ مِثْلَ الَّذِي يَجِدُ لِأَوَّلِهِ، وَيُعْطَى زَوْجُهَا مِثْلَ ذَلِكَ عَلَى سَرِيرٍ مِنْ يَاقُوتَةٍ حَمْرَاءَ عَلَيْهِ سِوَارَانِ مِنْ ذَهَبٍ مُوَشَّحٌ بِالْيَاقُوتِ الْأَحْمَرِ هَذَا لِكُلِّ يَوْمٍ صَامَهُ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ سِوَى مَا عَمِلَ مِنَ الْحَسَنَاتِ "
ترجمہ

سیدنا ابومسعود غفاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو ایک دن، جب ماہ رمضان کا چاند نظر آ چکا تھا، یہ فرماتے سنا: ”اگر بندوں کو معلوم ہو جائے کہ رمضان کے مہینے میں کیا فضیلت ہے تو وہ تمنا کریں کہ پورا سال رمضان ہی بن جائے۔“ تو خزاعہ کے ایک آدمی نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمیں بتائیے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جنت رمضان کے مہینے کے لیے سال کے آغاز سے سال کے آغاز تک سجائی جاتی ہے، یہاں تک کہ جب پہلی رات ہوتی ہے تو عرش کے نیچے سے ایک ہوا چلتی ہے، جو جنت کے درختوں کے پتوں کو ہلا دیتی ہے، تو حورعین اسے دیکھ کر کہتی ہیں: اے ہمارے رب! اس مہینے میں اپنے بندوں میں سے ہمارے لیے ایسے شوہر مقرر فرما جن سے ہماری آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور ان کی آنکھیں ہم سے ٹھنڈی ہوں۔ اور جو بندہ بھی رمضان کے مہینے کا روزہ رکھے، اللہ اسے ہر دن حورعین میں سے ایک بیوی سے نکاح کرا دیتا ہے، جو خیموں میں پردہ نشین ہوتی ہیں، ان میں سے ہر عورت کے لیے ستر جوڑے ہوتے ہیں جن میں سے کوئی جوڑا دوسرے جیسے رنگ کا نہیں ہوتا، اور اسے خوشبو کی ستر اقسام دی جاتی ہیں جن میں سے کوئی قسم دوسری سے ملتی جلتی نہیں ہوتی۔ ان میں سے ہر عورت یاقوت کے تخت پر، جو موتیوں سے مزین ہوتا ہے، ستر بستروں پر بیٹھی ہوتی ہے جن کے استر ریشم کے ہوتے ہیں، اور ان ستر بستروں کے اوپر ستر مسندیں ہوتی ہیں۔ ہر عورت کی خدمت کے لیے ستر خادمائیں ہوتی ہیں اور اس کے استقبال کے لیے ستر باعزت خادمائیں ہوتی ہیں، ہر خادمہ کے ساتھ سونے کی ایک رکابی ہوتی ہے جس میں ایک قسم کا کھانا ہوتا ہے، جس کا آخری لقمہ بھی اتنا ہی لذیذ محسوس ہوتا ہے جتنا پہلا لقمہ تھا۔ اور اس کے شوہر کو بھی اسی طرح دیا جاتا ہے، وہ سرخ یاقوت کے تخت پر ہوگا جس پر سونے کے دو کنگن ہوں گے، جو سرخ یاقوت سے مزین ہوں گے۔ یہ ہر اس دن کے بدلے میں ہے جس میں اس نے رمضان کا روزہ رکھا، ان نیکیوں کے علاوہ جو اس نے عمل کی ہوں گی۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند من يعرف بالكنى / حدیث: 19170
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 388، حدیث 967