المعجم الكبير للطبراني
مسند من يعرف بالكنى— کنیت سے معروف صحابہ کی مسانید
من يكنى أبا جبيرة أبو جبيرة بن الضحاك الأنصاري ثم السلمي وقد قيل الضحاك بن أبي جبيرة والصواب أبو جبيرة باب: جن کی کنیت ابوجبیرہ ہے — سیدنا ابوجبیرہ بن ضحاک انصاری سلمی رضی اللہ عنہ (کہا گیا: ضحاک بن ابی جبیرہ، صحیح ابوجبیرہ ہے)
حدیث نمبر: 19171
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، ثنا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: قَالَ أَبُو جَبِيرَةَ بْنُ الضَّحَّاكِ: فِينَا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ، يَعْنِي بَنِي سَلَمَةَ، قَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَمَا مِنَّا رَجُلٌ إِلَّا وَلَهُ اسْمَانِ أَوْ ثَلَاثَةٌ، فَكَانَ إِذَا دَعَا الرَّجُلُ بِالِاسْمِ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّهُ يَكْرَهُ هَذَا، فَنَزَلَتْ: " {وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ} [الحجرات: ١١] الْآيَةُ "ترجمہ
سیدنا ابوجبیرہ بن ضحاک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: یہ آیت ہمارے (بنو سلمہ کے) بارے میں نازل ہوئی۔ رسول اللہ ﷺ مدینہ تشریف لائے تو ہم میں سے ہر آدمی کے دو یا تین نام تھے، جب آپ ﷺ کسی آدمی کو کسی نام سے پکارتے تو لوگ کہتے: یا رسول اللہ! یہ اس نام کو ناپسند کرتا ہے۔ تو یہ آیت نازل ہوئی: ”اور ایک دوسرے کو برے القاب سے نہ پکارو“ [سورۃ الحجرات: 11]۔