حدیث نمبر: 19176
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، أَخُو الْحَجَّاجِ ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِي إِسْرَائِيلَ، قَالَ: رَآهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ قَائِمٌ فِي الشَّمْسِ فَقَالَ: «مَا لَهُ؟» قَالُوا: نَذَرَ أَنْ يَقُومَ فِي الشَّمْسِ وَيَصُومَ وَلَا يَتَكَلَّمُ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اجْلِسْ وَاسْتَظَلَّ وَتَكَلَّمْ وَصُمْ»
ترجمہ

سیدنا ابواسرائیل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے انہیں دیکھا کہ وہ دھوپ میں کھڑے ہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے کیا ہوا؟“ لوگوں نے بتایا: اس نے نذر مانی ہے کہ دھوپ میں کھڑا رہے گا، روزہ رکھے گا اور بات نہیں کرے گا۔ تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا: ”بیٹھ جاؤ، سایہ میں آ جاؤ، بات کرو اور روزہ رکھو۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند من يعرف بالكنى / حدیث: 19176
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 391، حدیث 973