حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ الْمُنْذِرِ الْقَزَّازُ، ثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْحَوْضِيُّ، قَالَا: ثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: سَمِعْتُ عَطَاءَ بْنَ أَبِي رَبَاحٍ، يَقُولُ: ثَنَا صَفْوَانُ بْنُ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُو بِالْجِعْرَانَةِ وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ وَعَلَيْهِ أَثَرُ خَلُوقٍ _ قَالَ هَمَّامٌ: أَو قَالَ: أَثَرُ صُفْرَةٍ _ فَقَالَ: كَيْفَ تَأْمُرُنِي أَنْ أَصْنَعَ فِي عُمْرَتِي؟ قَالَ: وَأُنْزِلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَحْيُ فَسُتِرَ بِثَوْبٍ، قَالَ: وَكَانَ يَعْلَى يَقُولُ: وَدِدْتُ أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوحَى إِلَيْهِ، فَقَالَ لِي عُمَرُ: أَيَسُرُّكُ أَنْ تَنْظُرَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَد أُنْزِلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ؟ قَالَ: فَرَفَعَ طَرَفَ الثَّوْبِ فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ وَلَهُ غَطِيطٌ، قَالَ هَمَّامٌ: إِنِّي أَحْسِبُهُ أَيْضًا، قَالَ: كَغَطِيطِ الْبِكْرِ، فَلَمَّا سُرِّيَ عَنْهُ، قَالَ: «أَيْنَ السَّائِلُ عَنِ الْعُمْرَةِ؟ اخْلَعْ الْجُبَّةَ وَاغْسِلْ عَنْكَ» إِمَّا قَالَ أَثَرَ الْخَلُوقِ، وَإِمَّا قَالَ: أَثَرَ الصُّفْرَةِ شَكَّ هَمَّامٌ «وَاصْنَعْ فِي عُمْرَتِكَ مَا صَنَعْتَ فِي حَجِّكِ»
ترجمہ
سیدنا یعلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، اس وقت آپ ﷺ جِعرانہ میں تھے، اس شخص نے جبہ پہن رکھا تھا اور اس پر خلوق (خوشبو) کا اثر تھا - ہمام کہتے ہیں: یا شاید کہا: زردی کا اثر - اس نے عرض کیا: آپ مجھے میرے عمرہ کے بارے میں کیا حکم دیتے ہیں کہ میں کیا کروں؟ کہتے ہیں: اور نبی کریم ﷺ پر وحی نازل کی گئی تو آپ ﷺ کو ایک کپڑے سے ڈھانپ دیا گیا۔ کہتے ہیں: اور یعلی کہا کرتے تھے: مجھے یہ پسند تھا کہ میں رسول اللہ ﷺ کو اس وقت دیکھوں جب آپ ﷺ پر وحی نازل ہو رہی ہو، تو عمر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: کیا تمہیں یہ پسند ہے کہ تم رسول اللہ ﷺ کو اس حال میں دیکھو جبکہ آپ ﷺ پر وحی نازل ہو چکی ہو؟ کہتے ہیں: عمر رضی اللہ عنہ نے کپڑے کا کنارہ اٹھایا تو میں نے آپ ﷺ کو دیکھا، آپ ﷺ کو خرخراہٹ (بھاری سانس) آ رہی تھی۔ ہمام کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ راوی نے یہ بھی کہا کہ یہ خرخراہٹ ایسی تھی جیسے جوان اونٹ کی ہوتی ہے۔ پھر جب آپ ﷺ سے یہ کیفیت دور ہوئی تو فرمایا: ”عمرہ کے بارے میں سوال کرنے والا کہاں ہے؟ جبہ اتار دو اور اپنے سے دھو ڈالو“ - راوی نے کبھی ”خلوق کا اثر“ کہا اور کبھی ”زردی کا اثر“ کہا، ہمام کو اس میں شک تھا - ”اور اپنے عمرہ میں وہی کرو جو تم اپنے حج میں کرتے۔“
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَطَّارُ الْبَصْرِيُّ، ثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنً غِيَاثٍ، ثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ، ثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى، عَنْ أَبِيهِ يَعْلَى قَالَ: قُلْتُ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ: لَوَدِدْتُ أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نَزَلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ، قَالَ: فَكُنَّا فِي سَفَرٍ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَزَلَ مَنْزِلًا، وَجَاءَهُ أَعْرَابِيٌّ عَلَيْهِ جُبَّةٌ عَلَيْهَا الزَّعْفَرَانُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي أَحْرَمْتُ بِعُمْرَةٍ وَالنَّاسُ، يَسْخَرُونَ مِنِّي فَكَيْفَ أَصْنَعُ؟ فَسَكَتَ عَنْهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَنْزَلَ اللهُ الْوَحْيَ فَأَشَارَ إِلَيَّ عُمَرُ بِيَدِهِ، فَأَدْخَلْتُ رَأْسِي الْخِبَاءَ، فَإِذَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْمَرٌّ عَيْنَاهُ وَجَبِينُهُ فَسُرِّيَ عَنْهُ فَقَالَ: «أَيْنَ السَّائِلُ عَنِ الْعُمْرَةِ؟» فَقَالَ: أَنَا يَا رَسُولَ اللهِ، فَقَالَ: «انْزَعْ عَنْكَ جُبَّتَكَ، وَمَا كُنْتَ صَانِعًا فِي حَجِّكَ فَاصْنَعْهُ فِي عُمْرَتِكَ»
ترجمہ
سیدنا یعلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے کہا: میری خواہش ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کو اس وقت دیکھوں جب آپ ﷺ پر وحی نازل ہو رہی ہو۔ کہتے ہیں: تو ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے، آپ ﷺ ایک جگہ اترے، اور آپ ﷺ کے پاس ایک اعرابی آیا جس نے زعفران لگا ہوا جبہ پہن رکھا تھا۔ اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے عمرہ کا احرام باندھا ہے اور لوگ مجھ پر ہنس رہے ہیں، تو میں کیا کروں؟ رسول اللہ ﷺ نے اسے کوئی جواب نہ دیا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ پر وحی نازل فرمائی، عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے ہاتھ سے اشارہ کیا تو میں نے اپنا سر خیمے میں داخل کیا، دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ کی آنکھیں اور پیشانی سرخ ہو رہی ہیں۔ پھر جب آپ ﷺ سے یہ کیفیت دور ہوئی تو فرمایا: ”عمرہ کے بارے میں سوال کرنے والا کہاں ہے؟“ اس شخص نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں حاضر ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنا جبہ اتار دو، اور جو کچھ تم اپنے حج میں کرتے تھے وہی اپنے عمرہ میں کرو۔“
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَطَّارُ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الزُّهْرِيُّ، ثَنَا عَمِّي، ثَنَا أَبِي، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ عِنْدَهُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي أَهْلَلْتُ وَهُو مُتَخَلِّقٌ وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ مِنْ صُوفٍ وَعِمَامَةٌٌ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «انْزَعْ عِمَامَتَكَ وَقَمِيصَكَ وَاغْسِلْ هَذِهِ الصُّفْرَةَ عَنْكَ، وَمَا كُنْتَ صَانِعًا فِي حَجِّكَ فَاصْنَعْهُ فِي عُمْرَتِكَ»
ترجمہ
سیدنا یعلی بن امیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ایک اعرابی رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا جبکہ ہم آپ ﷺ کے پاس موجود تھے، اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے احرام باندھا ہے، جبکہ وہ خوشبو لگائے ہوئے تھا اور اس پر اون کا جبہ اور عمامہ تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا: ”اپنا عمامہ اور قمیص اتار دو، اور یہ زردی اپنے سے دھو ڈالو، اور جو کچھ تم اپنے حج میں کرتے وہی اپنے عمرہ میں کرو۔“
حَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، وَأَبُو خَلِيفَةَ الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ قَالَا ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ، ثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، وَابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قُلْتُ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ: إِنِّي أُحِبُّ أَنْ أَرَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نَزَلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ فَلَمَّا كُنَّا بِالْجِعْرَانَةِ أُنْزِلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ فَسَجَّى ثَوْبًا فَدَعَانِي عُمَرُ فَكَشَفَ لِي الثَّوْبَ عَنْ وَجْهِهِ فَرَأَيْتُهُ يَغِطُّ مُحْمَرًّا وَجْهُهُ وَقَدْ أَتَاهُ قَبْلَ ذَلِكَ أَعْرَابِيٌّ عَلَيْهِ مُقَطَّعَاتٌ لَهُ مُتَضَمِّخٌ بِخَلُوقٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَحْرَمْتُ بِالْعُمْرَةِ وَعَلَيَّ هَذَا فَكَيْفَ تَأْمُرُنِي أَنْ أَصْنَعَ فَلَمْ يُجِبْهُ بِشَيْءٍ حَتَّى أُنْزِلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ، فَلَمَّا سُرِّيَ عَنْهُ قَالَ: «أَيْنَ السَّائِلُ؟» فَقَالَ: هَا أَنَا ذَا، قَالَ: «أَرَأَيْتَ لَو كُنْتُ مُحْرِمًا بِالْحَجِّ وَهَذَا عَلَيْكَ كَيْفَ كُنْتَ تَصْنَعُ؟» قَالَ: كُنْتُ أَنْزِعُ عَنِّي هَذِه الْمُقَطَّعَاتِ وَأَغْسِلُ عَنِّي هَذَا الْخَلُوقَ، قَالَ «فَاذْهَبْ فَانْزِعْ عَنْكَ هَذِهِ الْمُقَطَّعَاتِ، وَاغْسِلْ عَنْكَ هَذَا الْخَلُوقَ وَاصْنَعُ فِي عُمْرَتِكَ كَمَا كُنْتَ تَصْنَعُ فِي حَجَّتِكَ»
ترجمہ
سیدنا یعلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے کہا: مجھے یہ پسند ہے کہ میں نبی کریم ﷺ کو اس وقت دیکھوں جب آپ ﷺ پر وحی نازل ہو رہی ہو۔ چنانچہ جب ہم جِعرانہ میں تھے تو آپ ﷺ پر وحی نازل ہوئی، آپ ﷺ پر ایک کپڑا ڈال دیا گیا، تو عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے بلایا اور میرے لیے آپ ﷺ کے چہرے سے کپڑا ہٹایا، تو میں نے دیکھا کہ آپ ﷺ خرخراہٹ لے رہے ہیں اور آپ ﷺ کا چہرہ سرخ ہو رہا ہے۔ اس سے پہلے ایک اعرابی آپ ﷺ کے پاس آیا تھا جس نے سلے ہوئے کپڑے پہن رکھے تھے اور وہ خلوق (خوشبو) میں لتھڑا ہوا تھا، اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے عمرہ کا احرام باندھا ہے اور مجھ پر یہ لباس ہے، اب آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں کہ میں کیا کروں؟ آپ ﷺ نے اسے کوئی جواب نہ دیا یہاں تک کہ آپ ﷺ پر وحی نازل ہوئی۔ پھر جب آپ ﷺ سے یہ کیفیت دور ہوئی تو فرمایا: ”سوال کرنے والا کہاں ہے؟“ اس نے عرض کیا: میں حاضر ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بتاؤ اگر میں حج کا احرام باندھے ہوتا اور یہ لباس تم پر ہوتا تو تم کیا کرتے؟“ اس نے عرض کیا: میں یہ سلے ہوئے کپڑے اتار دیتا اور یہ خلوق (خوشبو) دھو ڈالتا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو جاؤ، یہ سلے ہوئے کپڑے اتار دو، اور یہ خلوق دھو ڈالو، اور اپنے عمرہ میں وہی کرو جو تم اپنے حج میں کرتے۔“
حَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، وَأَبُو خَلِيفَةَ قَالَا ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ، ثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قُلْتُ لِعُمَرَ: إِنِّي أُحِبُّ أَنْ أَرَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نَزَلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ بِمِثْلِ حَدِيثِ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ
ترجمہ
سیدنا یعلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ میں پسند کرتا ہوں کہ جب رسول اللہ ﷺ پر وحی نازل ہو تو میں آپ ﷺ کو دیکھوں - آگے عمرو بن دینار کی حدیث جیسا مضمون ہے۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ السِّرَاجُ الْقَاضِي، ثَنَا السَّكَنُ بْنُ سَعِيدٍ الْقَاضِي، ثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ثَنَا أَبِي قَالَ: سَمِعْتُ قَيْسَ بْنَ سَعْدٍ يُحَدِّثُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْجِعْرَانَةِ رَجُلٌ وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ وَهُو مُصْفَرٌ لِحْيَتُهُ وَرَأْسُهُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي أَحْرَمْتُ وَأَنَا كَمَا تَرَى قَالَ: «اغْسِلْ عَنْكَ الصُّفْرَةَ وَأنْزَعُ عَنْكَ الْجُبَّةَ، وَمَا كُنْتَ صَانِعًا فِي حَجَّتِكَ فَاصْنَعْهُ فِي عُمْرَتِكَ»
ترجمہ
سیدنا یعلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہتے ہیں: جِعرانہ کے مقام پر ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، اس پر جبہ تھا اور اس کی داڑھی اور سر زرد رنگ کے تھے۔ اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے احرام باندھا ہے اور میری حالت وہی ہے جو آپ دیکھ رہے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ زردی اپنے سے دھو ڈالو اور جبہ اتار دو، اور جو کچھ تم اپنے حج میں کرتے وہی اپنے عمرہ میں کرو۔“
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قِيرَاطٍ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ثَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي صَفْوَانُ بْنُ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ، أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِالْجِعْرَانَةِ حِينَ قَدِمَ مِنْ حُنَيْنٍ قَسَّمَ غَنَائِمَهُمْ فَأَتَاهُ أَعْرَابِيٌّ عَلَيْهِ قَمِيصٌ أَو جُبَّةٌ وَقَد خَضَّبَ نَفْسَهُ بِصُفْرَةٍ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي أَحْرَمْتُ بِعُمْرَةٍ فَمَا تَرَى؟ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ شَيْئًا ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي أَحْرَمْتُ بِعُمْرَةٍ فَمَا تَرَى؟ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ شَيْئًا ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اعْتَزَلَ لِلْوَحْيِ، فَقَامَ إِلَيْهِ عُمَرُ يَسْتُرُهُ بِثَوْبِهِ قَالَ يَعْلَى بْنُ مُنْيَةَ: إِنِّي أُحِبُّ أَنْ أَرَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ يُوحَى إِلَيْهٍ فَدَعَاهُ عُمَرُ فَأَدْخَلَ رَأْسَهُ مِنْ تَحْتِ الثَّوْبِ فَوَجَدَهُ يَغِطُّ كَالنَّائِمِ ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَامَ فَدَعَا الْأَعْرَابِيَّ فَأَمَرَهُ أَنْ يَنْزِعَ جُبَّتَهُ وَقَمِيصَهُ وَقَالَ لَهُ: «اغْسِلْ وَالْبَسْ الْإِزَارَ والرِّدَاءَ وَافْعَلْ فِي عُمْرَتِكَ مَا تَفْعَلُ فِي حَجَّتِكَ»
ترجمہ
صفوان بن یعلی بن امیہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ان کے والد سیدنا یعلی رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ ﷺ جب حنین سے تشریف لائے اور اس کی غنیمتیں تقسیم کیں تو جِعرانہ سے گزرے، اس دوران ایک اعرابی آپ ﷺ کے پاس آیا جس نے قمیص یا جبہ پہن رکھا تھا اور اس نے اپنے آپ کو زردی سے رنگا ہوا تھا، اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے عمرہ کا احرام باندھا ہے، آپ کیا رائے دیتے ہیں؟ آپ ﷺ نے اسے کوئی جواب نہ دیا۔ پھر رسول اللہ ﷺ وحی کے لیے الگ ہو گئے، تو عمر رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کے پاس کھڑے ہو کر اپنے کپڑے سے آپ ﷺ کو چھپانے لگے۔ یعلی بن منیہ کہتے ہیں: مجھے یہ پسند تھا کہ میں رسول اللہ ﷺ کو اس وقت دیکھوں جب آپ ﷺ پر وحی نازل ہو رہی ہو، تو عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے بلایا، میں نے اپنا سر کپڑے کے نیچے داخل کیا تو دیکھا کہ آپ ﷺ سوئے ہوئے شخص کی طرح خرخراہٹ لے رہے ہیں۔ پھر رسول اللہ ﷺ اٹھے اور اس اعرابی کو بلایا، اسے حکم دیا کہ وہ اپنا جبہ اور قمیص اتار دے، اور اس سے فرمایا: ”دھو ڈالو اور تہبند اور چادر پہن لو، اور اپنے عمرہ میں وہی کرو جو تم اپنے حج میں کرتے ہو۔“