المعجم الكبير للطبراني
باب الياء— حرف یا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
باب (أحاديث 18873–18879) باب: (احادیث 18873 تا 18879)
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَطَّارُ الْبَصْرِيُّ، ثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنً غِيَاثٍ، ثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ، ثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى، عَنْ أَبِيهِ يَعْلَى قَالَ: قُلْتُ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ: لَوَدِدْتُ أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نَزَلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ، قَالَ: فَكُنَّا فِي سَفَرٍ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَزَلَ مَنْزِلًا، وَجَاءَهُ أَعْرَابِيٌّ عَلَيْهِ جُبَّةٌ عَلَيْهَا الزَّعْفَرَانُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي أَحْرَمْتُ بِعُمْرَةٍ وَالنَّاسُ، يَسْخَرُونَ مِنِّي فَكَيْفَ أَصْنَعُ؟ فَسَكَتَ عَنْهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَنْزَلَ اللهُ الْوَحْيَ فَأَشَارَ إِلَيَّ عُمَرُ بِيَدِهِ، فَأَدْخَلْتُ رَأْسِي الْخِبَاءَ، فَإِذَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْمَرٌّ عَيْنَاهُ وَجَبِينُهُ فَسُرِّيَ عَنْهُ فَقَالَ: «أَيْنَ السَّائِلُ عَنِ الْعُمْرَةِ؟» فَقَالَ: أَنَا يَا رَسُولَ اللهِ، فَقَالَ: «انْزَعْ عَنْكَ جُبَّتَكَ، وَمَا كُنْتَ صَانِعًا فِي حَجِّكَ فَاصْنَعْهُ فِي عُمْرَتِكَ»سیدنا یعلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے کہا: میری خواہش ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کو اس وقت دیکھوں جب آپ ﷺ پر وحی نازل ہو رہی ہو۔ کہتے ہیں: تو ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے، آپ ﷺ ایک جگہ اترے، اور آپ ﷺ کے پاس ایک اعرابی آیا جس نے زعفران لگا ہوا جبہ پہن رکھا تھا۔ اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے عمرہ کا احرام باندھا ہے اور لوگ مجھ پر ہنس رہے ہیں، تو میں کیا کروں؟ رسول اللہ ﷺ نے اسے کوئی جواب نہ دیا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ پر وحی نازل فرمائی، عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے ہاتھ سے اشارہ کیا تو میں نے اپنا سر خیمے میں داخل کیا، دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ کی آنکھیں اور پیشانی سرخ ہو رہی ہیں۔ پھر جب آپ ﷺ سے یہ کیفیت دور ہوئی تو فرمایا: ”عمرہ کے بارے میں سوال کرنے والا کہاں ہے؟“ اس شخص نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں حاضر ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنا جبہ اتار دو، اور جو کچھ تم اپنے حج میں کرتے تھے وہی اپنے عمرہ میں کرو۔“