کتب حدیثالمعجم الكبير للطبرانيابوابباب: مکحول کی سیدنا ابوثعلبہ رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ، ثَنَا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ أَحَبَّكُمْ إِلَيَّ وَأَقْرَبَكُمُ مِنِّي فِي الْآخِرَةِ مَجَالِسَ أَحَاسِنُكُمْ أَخْلَاقًا، وَإِنَّ أَبْغَضَكُمْ إِلَيَّ وَأَبْعَدَكُمْ مِنِّي فِي الْآخِرَةِ مَسَاوِئِكُمْ أَخْلَاقًا الثَّرْثَارُونَ الْمُتَشَدِّقُونَ الْمُتَفَيْقِهُونَ»
ترجمہ
سیدنا ابوثعلبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے مجھے سب سے زیادہ محبوب اور آخرت میں مجھ سے قریب ترین نشست والے وہ لوگ ہیں جو اخلاق میں سب سے اچھے ہیں، اور تم میں سے مجھے سب سے زیادہ ناپسندیدہ اور آخرت میں مجھ سے سب سے دور وہ لوگ ہیں جو اخلاق میں سب سے برے ہیں: بہت بکواس کرنے والے، زبان سے تصنع کرنے والے اور علم میں تکبر جتانے والے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الياء / حدیث: 18880
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 263، حدیث 676
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللهَ فَرَضَ فَرَائِضَ فَلَا تُضَيِّعُوهَا، وَنَهَى عَنْ أَشْيَاءَ فَلَا تَنْتَهِكُوهَا، وَحَدَّ حُدُودًا فَلَا تَعْتَدُوهَا، وَغَفَلَ عَنْ أَشْيَاءَ مِنْ غَيْرِ نِسْيَانٍ فَلَا تَبْحَثُوا عَنْهَا»
ترجمہ
سیدنا ابوثعلبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے کچھ فرائض مقرر کیے ہیں، انہیں ضائع نہ کرو، اور کچھ چیزوں سے منع کیا ہے، ان کی بے حرمتی نہ کرو، اور کچھ حدود مقرر کی ہیں، ان سے تجاوز نہ کرو، اور کچھ چیزوں کے بارے میں بھولے بغیر خاموشی اختیار کی ہے، ان کے بارے میں کریدنے کی کوشش نہ کرو۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الياء / حدیث: 18881
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 263، حدیث 677
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ النَّضْرِ الْعَسْكَرِيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ الْمِصِّيصِيُّ، ثَنَا الْمُحَارِبِيُّ،، عَنِ الْأَحْوَصِ بْنِ حَكِيمٍ،، عَنْ حَبِيبِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يَطْلُعُ اللهُ عَلَى عِبَادِهِ لَيْلَةَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ فَيَغْفِرُ لِلْمُؤْمِنِينَ وَيُمْهِلُ الْكَافِرِينَ، وَيَدَعُ أَهْلَ الْحِقْدِ بِحِقْدِهِمْ حَتَّى يَدْعُوهُ»
ترجمہ
سیدنا ابوثعلبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ شعبان کی پندرھویں رات اپنے بندوں کی طرف متوجہ ہوتا ہے، مومنوں کو بخش دیتا ہے اور کافروں کو مہلت دیتا ہے، اور کینہ رکھنے والوں کو ان کے کینے کے ساتھ چھوڑ دیتا ہے یہاں تک کہ وہ اسے چھوڑ دیں۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الياء / حدیث: 18882
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 264، حدیث 678