❮
❯
حدیث نمبر: 18873
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ الْمُنْذِرِ الْقَزَّازُ، ثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْحَوْضِيُّ، قَالَا: ثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: سَمِعْتُ عَطَاءَ بْنَ أَبِي رَبَاحٍ، يَقُولُ: ثَنَا صَفْوَانُ بْنُ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُو بِالْجِعْرَانَةِ وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ وَعَلَيْهِ أَثَرُ خَلُوقٍ _ قَالَ هَمَّامٌ: أَو قَالَ: أَثَرُ صُفْرَةٍ _ فَقَالَ: كَيْفَ تَأْمُرُنِي أَنْ أَصْنَعَ فِي عُمْرَتِي؟ قَالَ: وَأُنْزِلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَحْيُ فَسُتِرَ بِثَوْبٍ، قَالَ: وَكَانَ يَعْلَى يَقُولُ: وَدِدْتُ أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوحَى إِلَيْهِ، فَقَالَ لِي عُمَرُ: أَيَسُرُّكُ أَنْ تَنْظُرَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَد أُنْزِلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ؟ قَالَ: فَرَفَعَ طَرَفَ الثَّوْبِ فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ وَلَهُ غَطِيطٌ، قَالَ هَمَّامٌ: إِنِّي أَحْسِبُهُ أَيْضًا، قَالَ: كَغَطِيطِ الْبِكْرِ، فَلَمَّا سُرِّيَ عَنْهُ، قَالَ: «أَيْنَ السَّائِلُ عَنِ الْعُمْرَةِ؟ اخْلَعْ الْجُبَّةَ وَاغْسِلْ عَنْكَ» إِمَّا قَالَ أَثَرَ الْخَلُوقِ، وَإِمَّا قَالَ: أَثَرَ الصُّفْرَةِ شَكَّ هَمَّامٌ «وَاصْنَعْ فِي عُمْرَتِكَ مَا صَنَعْتَ فِي حَجِّكِ»
ترجمہ

سیدنا یعلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، اس وقت آپ ﷺ جِعرانہ میں تھے، اس شخص نے جبہ پہن رکھا تھا اور اس پر خلوق (خوشبو) کا اثر تھا - ہمام کہتے ہیں: یا شاید کہا: زردی کا اثر - اس نے عرض کیا: آپ مجھے میرے عمرہ کے بارے میں کیا حکم دیتے ہیں کہ میں کیا کروں؟ کہتے ہیں: اور نبی کریم ﷺ پر وحی نازل کی گئی تو آپ ﷺ کو ایک کپڑے سے ڈھانپ دیا گیا۔ کہتے ہیں: اور یعلی کہا کرتے تھے: مجھے یہ پسند تھا کہ میں رسول اللہ ﷺ کو اس وقت دیکھوں جب آپ ﷺ پر وحی نازل ہو رہی ہو، تو عمر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: کیا تمہیں یہ پسند ہے کہ تم رسول اللہ ﷺ کو اس حال میں دیکھو جبکہ آپ ﷺ پر وحی نازل ہو چکی ہو؟ کہتے ہیں: عمر رضی اللہ عنہ نے کپڑے کا کنارہ اٹھایا تو میں نے آپ ﷺ کو دیکھا، آپ ﷺ کو خرخراہٹ (بھاری سانس) آ رہی تھی۔ ہمام کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ راوی نے یہ بھی کہا کہ یہ خرخراہٹ ایسی تھی جیسے جوان اونٹ کی ہوتی ہے۔ پھر جب آپ ﷺ سے یہ کیفیت دور ہوئی تو فرمایا: ”عمرہ کے بارے میں سوال کرنے والا کہاں ہے؟ جبہ اتار دو اور اپنے سے دھو ڈالو“ - راوی نے کبھی ”خلوق کا اثر“ کہا اور کبھی ”زردی کا اثر“ کہا، ہمام کو اس میں شک تھا - ”اور اپنے عمرہ میں وہی کرو جو تم اپنے حج میں کرتے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الياء / حدیث: 18873
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 251، حدیث 653