حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، وَأَبُو خَلِيفَةَ، قَالَا: ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ قَالَ: ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ قَالَا: ثَنا شُعْبَةُ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّهُ «صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبَطْحَاءِ فَرَكَزَ بَيْنَ يَدَيْهِ عَنَزَةً فَصَلَّى إِلَيْهَا الظُّهْرَ رَكْعَتَيْنِ، وَالْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ، وَكَانَ الْحِمَارُ وَالْمَرْأَةُ يَمُرُّونَ مِنْ وَرَاءِ الْعَنَزَةِ» وَاللَّفْظُ لِحَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ
ترجمہ
سیدنا ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ بطحاء میں نماز پڑھی، آپ ﷺ نے اپنے سامنے ایک نیزہ گاڑ دیا اور اس کی طرف منہ کر کے ظہر دو رکعت اور عصر دو رکعت پڑھی، اور گدھا اور عورت نیزے کے پیچھے سے گزرتے رہے۔
یہ الفاظ سلیمان بن حرب کی روایت کے ہیں۔
یہ الفاظ سلیمان بن حرب کی روایت کے ہیں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الْحَكَمِ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا جُحَيْفَةَ، يُحَدِّثُ قَالَ: «خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْهَاجِرَةِ إِلَى الْبَطْحَاءِ فَتَوَضَّأَ وَصَلَّى الظُّهْرَ رَكْعَتَيْنِ وَصَلَّى الْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ وَبَيْنَ يَدَيْهِ عَنَزَةٌ» قَالَ شُعْبَةُ: وَزَادَ عَوْنٌ عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ قَالَ: كَانَ يَمُرُّ مِنْ وَرَائِهَا الْحِمَارُ وَالْمَرْأَةُ، ثُمَّ قَامَ النَّاسُ فَجَعَلُوا يَأْخُذُونَ يَدَهُ فَيَمْسَحُونَ بِهَا وُجُوهَهُمْ فَأَخَذْتُ بِيَدِهِ فَوَضَعْتُهَا عَلَى وَجْهِي، فَإِذَا هِيَ أَبْرَدُ مِنَ الثَّلْجِ، وَأَطْيَبُ رِيحًا مِنَ الْمِسْكِ "
ترجمہ
سیدنا ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم ﷺ دوپہر کی گرمی میں بطحاء کی طرف نکلے، وضو کیا اور ظہر دو رکعت اور عصر دو رکعت پڑھی جبکہ آپ ﷺ کے سامنے ایک نیزہ تھا۔
شعبہ کہتے ہیں: عون نے اپنی روایت میں ابوجحیفہ سے یہ اضافہ کیا کہ انہوں نے کہا: نیزے کے پیچھے سے گدھا اور عورت گزرتے تھے، پھر لوگ کھڑے ہوئے اور آپ ﷺ کا ہاتھ پکڑ کر اپنے چہروں پر ملنے لگے، تو میں نے بھی آپ ﷺ کا ہاتھ پکڑ کر اپنے چہرے پر رکھا تو وہ برف سے بھی زیادہ ٹھنڈا اور مشک سے بھی زیادہ خوشبودار تھا۔
شعبہ کہتے ہیں: عون نے اپنی روایت میں ابوجحیفہ سے یہ اضافہ کیا کہ انہوں نے کہا: نیزے کے پیچھے سے گدھا اور عورت گزرتے تھے، پھر لوگ کھڑے ہوئے اور آپ ﷺ کا ہاتھ پکڑ کر اپنے چہروں پر ملنے لگے، تو میں نے بھی آپ ﷺ کا ہاتھ پکڑ کر اپنے چہرے پر رکھا تو وہ برف سے بھی زیادہ ٹھنڈا اور مشک سے بھی زیادہ خوشبودار تھا۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، وَأَبُو خَلِيفَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثَنا شُعْبَةُ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ قَالَ: رَأَيْتُ أَبِي اشْتَرَى غُلَامًا حَجَّامًا فَكَسَرَ مَحَاجِمَهُ فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ: «إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ ثَمَنِ الدَّمِ، وَثَمَنِ الْكَلْبِ، وَعَنْ مَهْرِ الْبَغِيِّ، وَلَعَنَ الْوَاشِمَةَ، وَالْمُسْتَوْشِمَةَ وَآكِلَ الرِّبَا وَمُوكِلَهُ»
ترجمہ
عون بن ابوجحیفہ بیان کرتے ہیں: میں نے اپنے والد کو دیکھا کہ انہوں نے ایک پچھنے لگانے والا غلام خریدا، پھر اس کے پچھنے لگانے کے آلات توڑ دیے۔ میں نے اس بارے میں ان سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ نے خون کی قیمت، کتے کی قیمت اور زانیہ عورت کی اجرت سے منع فرمایا، اور گودنے والی اور گدوانے والی، اور سود کھانے والے اور کھلانے والے پر لعنت فرمائی۔“
حَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، ومُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ قَالَا ثَنا شُعْبَةُ، عَنِ ابْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ زَادَ ابْنُ كَثِيرٍ وَلَعَنَ الْمُصَوِّرَ
ترجمہ
سیدنا ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ سے بھی نبی کریم ﷺ سے اسی طرح کی حدیث مروی ہے۔
ابن کثیر نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا: ”اور تصویر بنانے والے پر بھی لعنت فرمائی۔“
ابن کثیر نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا: ”اور تصویر بنانے والے پر بھی لعنت فرمائی۔“