حدیث نمبر: 18517
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا الْجَرَّاحُ بْنُ مَخْلَدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْجَزَرِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَنْبَسَةَ الْقَطَّانُ، ثنا أَبُو مَعْدَانَ قَالَ: سَمِعْتُ عَوْنَ بْنَ أَبِي جُحَيْفَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: أَتَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةٌ، وَمَعَهَا جَارِيَةٌ سَوْدَاءُ فَقَالَتِ الْمَرْأَةُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ عَلَيَّ رَقَبَةً مُؤْمِنَةً أَفَتُجِزِئُ عَنِّي هَذِهِ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيْنَ اللهُ؟» قَالَتْ: فِي السَّمَاءِ قَالَ: «فَمَنْ أَنَا؟» قَالَتْ: أَنْتَ رَسُولُهُ قَالَ: «أَتَشْهَدِينَ أَنَّ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَنِّي رَسُولُ اللهِ» قَالَتْ: نَعَمْ قَالَ: " أَتُؤْمِنِينَ بِمَا جَاءَ مِنْ عِنْدِ اللهِ؟ قَالَتْ: «نَعَمْ» قَالَ: «أَعْتِقِيهَا فَإِنَّهَا مُؤْمِنَةٌ»
ترجمہ

…اور اس کے ساتھ ایک سیاہ فام باندی تھی۔ اس عورت نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھ پر ایک مومن غلام آزاد کرنا واجب ہے، کیا یہ باندی میری طرف سے کافی ہو جائے گی؟ رسول اللہ ﷺ نے اس باندی سے پوچھا: ”اللہ کہاں ہے؟“ اس نے کہا: آسمان میں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں کون ہوں؟“ اس نے کہا: آپ اللہ کے رسول ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم گواہی دیتی ہو کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں؟“ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم اس پر ایمان رکھتی ہو جو اللہ کی طرف سے آیا ہے؟“ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے عورت سے فرمایا: ”اسے آزاد کر دو، یہ مومنہ ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الواو / حدیث: 18517
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 116، حدیث 297