حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو مَعْمَرٍ الْمُقْعَدُ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ، ثنا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ، حَدَّثَنِي حَنْظَلَةُ بْنُ عَلِيٍّ، أَنَّ مِحْجَنَ بْنَ الْأَدْرَعِ حَدَّثَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَإِذَا هُوَ رَجُلٌ قَدْ قَضَى صَلَاتَهُ وَهُوَ يَتَشَهَّدُ وَهُوَ يَقُولُ: اللهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِاللهِ الْأَحَدِ الصَّمَدِ الَّذِي لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ، أَنْ تَغْفِرَ لِي ذُنُوبِي إِنَّكَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَدْ غُفِرَ لَهُ، قَدْ غُفِرَ لَهُ، قَدْ غُفِرَ لَهُ»
ترجمہ
سیدنا محجن بن ادرع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: ایک شخص نے دعا کی: اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں، اللہ کے واسطے سے، جو ایک ہے، بے نیاز ہے، جس نے نہ کسی کو جنا اور نہ وہ کسی سے جنا گیا، اور نہ کوئی اس کا ہمسر ہے، کہ تو میرے گناہ بخش دے، بےشک تو بخشنے والا، رحم کرنے والا ہے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اسے بخش دیا گیا، اسے بخش دیا گیا، اسے بخش دیا گیا۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّمَّارُ الْبَصْرِيُّ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ شُعَيْبٍ السِّمْسَارُ، ثنا خَالِدُ بْنُ خِدَاشٍ، قَالَا: ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ رَجَاءِ بْنِ أَبِي رَجَاءٍ الْبَاهِلِيِّ، عَنْ مِحْجَنِ بْنِ الْأَدْرَعِ، قَالَ: أَخَذَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى صَعِدْنَا أُحُدًا، وَأَشْرَفَ عَلَى الْمَدِينَةِ قَالَ: «وَيْحَ أُمِّهَا مِنْ قَرْيَةٍ يَدَعُهَا أَهْلُهَا أَعْمَرَ مَا تَكُونُ، يَأْتِيهَا الدَّجَّالُ فَيَجِدُ عَلَى كُلِّ نَقْبٍ مِنْ أَنْقَابِهَا مَلَكًا مُصْلِتًا» ، ثُمَّ انْحَدَرَ حَتَّى أَتَى الْمَسْجِدَ، فَإِذَا هُوَ بِرَجُلٍ قَائِمٍ يُصَلِّي وَيَقْرَأُ فَقَالَ: «تَرَاهُ عَبْدَ اللهِ بْنَ قَيْسٍ؟ إِنَّهُ لَأَوَّاهٌ حَلِيمٌ» ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَلَا أُبَشِّرُهُ؟ قَالَ: «احْذَرْ لَا تُسْمِعْهُ فَتُهْلِكَهُ» ، ثُمَّ انْحَدَرَ فَلَمَّا انْتَهَيْنَا إِلَى الْمَسْجِدِ فَوَجَدْنَاهُ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيَّ عَلَى بَابٍ مِنْ أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ، وَكَانَ فِي الْمَسْجِدِ رَجُلٌ يُطِيلُ الصَّلَاةَ، وَكَانَ بُرَيْدَةُ صَاحِبَ مُزَاحَاتٍ فَقَالَ: يَا مِحْجَنُ، أَلَا تُصَلِّي كَمَا يُصَلِّي سُكْبَةُ؟ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ شَيْئًا وَرَجَعَ، فَلَمَّا أَتَى بَيْتَهُ قَالَ: «خَيْرُ دِينِنَا أَيْسَرُهُ، خَيْرُ دِينِكُمْ أَيْسَرُهُ، خَيْرُ دِينِكُمْ أَيْسَرُهُ، خَيْرُ دِينِكُمْ أَيْسَرُهُ» ، ثَلَاثًا
ترجمہ
سیدنا محجن بن ادرع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے میرا ہاتھ پکڑا یہاں تک کہ ہم احد پہاڑ پر چڑھ گئے، آپ نے مدینہ کی طرف نظر ڈالی اور فرمایا: ”افسوس اس بستی پر! جسے اس کے باشندے اس کی سب سے زیادہ آبادی کی حالت میں چھوڑ دیں گے، دجال اس کے پاس آئے گا تو اس کے ہر راستے پر تلوار سونتے ہوئے ایک فرشتہ پائے گا۔“ پھر آپ اترے یہاں تک کہ مسجد پہنچے، وہاں ایک آدمی کھڑا نماز پڑھ رہا اور قرآت کر رہا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم اسے عبداللہ بن قیس سمجھتے ہو؟ بےشک وہ بہت آہ و زاری کرنے والا، بردبار ہے۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا میں اسے یہ خوشخبری نہ سنا دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”خبردار! اسے مت سنانا، ورنہ تم اسے ہلاک کر دو گے۔“ پھر آپ اترے، جب ہم مسجد پہنچے تو ہم نے بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ کو مسجد کے دروازوں میں سے ایک دروازے پر پایا، اور مسجد میں ایک آدمی طویل نماز پڑھ رہا تھا، اور بریدہ مذاق مزاح کرنے والے تھے، انہوں نے کہا: اے محجن! کیا تم بھی سکبہ کی طرح نماز نہیں پڑھتے؟ محجن نے انہیں کوئی جواب نہ دیا اور واپس چلے گئے، جب اپنے گھر پہنچے تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”ہمارا بہترین دین وہ ہے جو آسان ہو، تمہارا بہترین دین وہ ہے جو آسان ہو، تمہارا بہترین دین وہ ہے جو آسان ہو، تمہارا بہترین دین وہ ہے جو آسان ہو“ تین بار فرمایا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ رَجَاءِ بْنِ أَبِي رَجَاءٍ، عَنْ مِحْجَنِ بْنِ الْأَدْرَعِ قَالَ: أَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِي. فَذَكَرَ مِثْلَهُ
ترجمہ
سیدنا محجن بن ادرع رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث دوسری سند سے بھی مروی ہے، اس میں ہے: نبی کریم ﷺ نے میرا ہاتھ پکڑا، پھر آگے وہی حدیث بیان کی۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَمَّادٍ الشُّعَيْثِيُّ، ثنا كَهْمَسُ بْنُ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ مِحْجَنِ بْنِ الْأَدْرَعِ، قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَةٍ، ثُمَّ عَرَضَ لِي وَأَنَا خَارِجٌ مِنْ طَرِيقِ الْمَدِينَةِ فَأَخَذَ بِيَدِي فَانْطَلَقْنَا حَتَّى صَعِدْنَا إِلَى أُحُدٍ، فَأَقْبَلَ عَلَى الْمَدِينَةِ فَقَالَ: «وَيْلُ أُمِّهَا قَرْيَةً، يَدَعُهَا أَهْلُهَا كَأَيْنَعِ مَا يَكُونُ» ، قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللهِ، مَنْ يَأْكُلُ ثَمَرَهَا؟ قَالَ: «عَافِيَةُ الطَّيْرِ وَالسِّبَاعِ، وَلَا يَدْخُلُهَا الدَّجَّالُ، كُلَّمَا أَرَادَ أَنْ يَدْخُلَهَا تَلَقَّاهُ بِكُلِّ نَقْبٍ مِنْ أَنْقَابِهَا مَلَكٌ مُصْلِتٌ» ، ثُمَّ أَقْبَلَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِبَابِ الْمَسْجِدِ إِذَا رَجُلٌ يُصَلِّي فَقَالَ: «أَيَقُولُهُ صَادِقًا» ؟ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، هَذَا فُلَانٌ، هَذَا أَكْثَرُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ صَلَاةً، قَالَ: «لَا تُسْمِعْهُ فَتُهْلِكَهُ»
ترجمہ
سیدنا محجن بن ادرع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے مجھے ایک ضرورت کے لیے بھیجا، پھر جب میں مدینہ کے راستے سے نکل رہا تھا تو آپ میرے سامنے آ گئے اور میرا ہاتھ پکڑ لیا، ہم چل پڑے یہاں تک کہ احد پہاڑ پر چڑھ گئے، آپ نے مدینہ کی طرف رخ کر کے فرمایا: ”اس بستی پر افسوس! جسے اس کے باشندے اس کی سب سے زیادہ خوشحالی کی حالت میں چھوڑ دیں گے۔“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! اس کے پھل کون کھائے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پرندے اور درندے آزادانہ کھائیں گے، اور دجال اس میں داخل نہیں ہو سکے گا، جب بھی وہ اس میں داخل ہونا چاہے گا تو اسے اس کے ہر راستے پر تلوار سونتے ہوئے ایک فرشتہ ملے گا۔“ پھر آپ آگے بڑھے یہاں تک کہ مسجد کے دروازے پر پہنچے تو ایک آدمی نماز پڑھ رہا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا یہ سچے دل سے نماز پڑھ رہا ہے؟“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ فلاں شخص ہے، یہ مدینہ والوں میں سب سے زیادہ نماز پڑھنے والا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے مت سنانا، ورنہ تم اسے ہلاک کر دو گے۔“
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا أَبُو عُمَرَ الضَّرِيرُ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، ثنا دَاوُدُ بْنُ شَبِيبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أَنَا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ مِحْجَنِ بْنِ الْأَدْرَعِ السُّلَمِيِّ قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى حَاجِزٍ يَمِينَ الْمَدِينَةِ فِي حَاجَةٍ، فَلَمَّا رَجَعْتُ ذَهَبْتُ مَعَهُ حَتَّى صَعِدَ أُحُدًا فَأَشْرَفَ عَلَى الْمَدِينَةِ فَقَالَ: «وَيْلٌ أُمِّكَ قَرْيَةً، يَدَعُكِ أَهْلُكِ وَأَنْتِ خَيْرُ مَا يَكُونُ» ، ثُمَّ نَزَلَ وَنَزَلْتُ مَعَهُ حَتَّى أَتَيْنَا بِبَابِ الْمَسْجِدِ، فَرَأَى رَجُلًا يُصَلِّي فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى مَنْكِبِي فَأَنَارَهُ بِضَوْئِهِ فَقَالَ: «أَيَقُولُهُ صَادِقًا؟» قَالَهَا ثَلَاثًا، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، هَذَا وَهَذَا أَعْبُدُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اتَّقِ، لَا تُسْمِعْهُ فَتُهْلِكَهُ» قَالَهَا ثَلَاثًا
ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللهَ تَعَالَى رَضِيَ لِهَذِهِ الْأُمَّةِ الْيُسْرَ، وَكَرِهَ لَهَا الْعُسْرَ» قَالَهَا ثَلَاثًا
ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللهَ تَعَالَى رَضِيَ لِهَذِهِ الْأُمَّةِ الْيُسْرَ، وَكَرِهَ لَهَا الْعُسْرَ» قَالَهَا ثَلَاثًا
ترجمہ
سیدنا محجن بن ادرع سلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے مجھے مدینہ کے دائیں جانب حاجز کی طرف ایک ضرورت کے لیے بھیجا، جب میں واپس آیا تو آپ کے ساتھ چل پڑا یہاں تک کہ آپ احد پر چڑھے اور مدینہ کی طرف نظر ڈالی، فرمایا: ”اس بستی پر افسوس! جسے اس کے باشندے اس کی سب سے اچھی حالت میں چھوڑ دیں گے۔“ پھر آپ اترے اور میں بھی آپ کے ساتھ اترا یہاں تک کہ ہم مسجد کے دروازے پر پہنچے، آپ نے ایک آدمی کو نماز پڑھتے دیکھا تو اپنا ہاتھ میرے کندھے پر رکھا اور اپنی روشنی سے اسے منور کر دیا، پھر فرمایا: ”کیا یہ سچے دل سے نماز پڑھ رہا ہے؟“ یہ بات آپ نے تین بار فرمائی، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ فلاں اور فلاں، مدینہ والوں میں سب سے زیادہ عبادت گزار ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”خبردار رہو، اسے مت سنانا، ورنہ تم اسے ہلاک کر دو گے“ یہ بات بھی آپ نے تین بار فرمائی۔
پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بےشک اللہ تعالیٰ نے اس امت کے لیے آسانی کو پسند فرمایا ہے، اور اس کے لیے سختی کو ناپسند فرمایا ہے“ یہ بات بھی آپ نے تین بار فرمائی۔
پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بےشک اللہ تعالیٰ نے اس امت کے لیے آسانی کو پسند فرمایا ہے، اور اس کے لیے سختی کو ناپسند فرمایا ہے“ یہ بات بھی آپ نے تین بار فرمائی۔