حدیث نمبر: 17837
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَمَّادٍ الشُّعَيْثِيُّ، ثنا كَهْمَسُ بْنُ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ مِحْجَنِ بْنِ الْأَدْرَعِ، قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَةٍ، ثُمَّ عَرَضَ لِي وَأَنَا خَارِجٌ مِنْ طَرِيقِ الْمَدِينَةِ فَأَخَذَ بِيَدِي فَانْطَلَقْنَا حَتَّى صَعِدْنَا إِلَى أُحُدٍ، فَأَقْبَلَ عَلَى الْمَدِينَةِ فَقَالَ: «وَيْلُ أُمِّهَا قَرْيَةً، يَدَعُهَا أَهْلُهَا كَأَيْنَعِ مَا يَكُونُ» ، قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللهِ، مَنْ يَأْكُلُ ثَمَرَهَا؟ قَالَ: «عَافِيَةُ الطَّيْرِ وَالسِّبَاعِ، وَلَا يَدْخُلُهَا الدَّجَّالُ، كُلَّمَا أَرَادَ أَنْ يَدْخُلَهَا تَلَقَّاهُ بِكُلِّ نَقْبٍ مِنْ أَنْقَابِهَا مَلَكٌ مُصْلِتٌ» ، ثُمَّ أَقْبَلَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِبَابِ الْمَسْجِدِ إِذَا رَجُلٌ يُصَلِّي فَقَالَ: «أَيَقُولُهُ صَادِقًا» ؟ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، هَذَا فُلَانٌ، هَذَا أَكْثَرُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ صَلَاةً، قَالَ: «لَا تُسْمِعْهُ فَتُهْلِكَهُ»
ترجمہ

سیدنا محجن بن ادرع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے مجھے ایک ضرورت کے لیے بھیجا، پھر جب میں مدینہ کے راستے سے نکل رہا تھا تو آپ میرے سامنے آ گئے اور میرا ہاتھ پکڑ لیا، ہم چل پڑے یہاں تک کہ احد پہاڑ پر چڑھ گئے، آپ نے مدینہ کی طرف رخ کر کے فرمایا: ”اس بستی پر افسوس! جسے اس کے باشندے اس کی سب سے زیادہ خوشحالی کی حالت میں چھوڑ دیں گے۔“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! اس کے پھل کون کھائے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پرندے اور درندے آزادانہ کھائیں گے، اور دجال اس میں داخل نہیں ہو سکے گا، جب بھی وہ اس میں داخل ہونا چاہے گا تو اسے اس کے ہر راستے پر تلوار سونتے ہوئے ایک فرشتہ ملے گا۔“ پھر آپ آگے بڑھے یہاں تک کہ مسجد کے دروازے پر پہنچے تو ایک آدمی نماز پڑھ رہا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا یہ سچے دل سے نماز پڑھ رہا ہے؟“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ فلاں شخص ہے، یہ مدینہ والوں میں سب سے زیادہ نماز پڑھنے والا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے مت سنانا، ورنہ تم اسے ہلاک کر دو گے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 17837
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 297، حدیث 706