حدیث نمبر: 17835
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّمَّارُ الْبَصْرِيُّ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ شُعَيْبٍ السِّمْسَارُ، ثنا خَالِدُ بْنُ خِدَاشٍ، قَالَا: ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ رَجَاءِ بْنِ أَبِي رَجَاءٍ الْبَاهِلِيِّ، عَنْ مِحْجَنِ بْنِ الْأَدْرَعِ، قَالَ: أَخَذَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى صَعِدْنَا أُحُدًا، وَأَشْرَفَ عَلَى الْمَدِينَةِ قَالَ: «وَيْحَ أُمِّهَا مِنْ قَرْيَةٍ يَدَعُهَا أَهْلُهَا أَعْمَرَ مَا تَكُونُ، يَأْتِيهَا الدَّجَّالُ فَيَجِدُ عَلَى كُلِّ نَقْبٍ مِنْ أَنْقَابِهَا مَلَكًا مُصْلِتًا» ، ثُمَّ انْحَدَرَ حَتَّى أَتَى الْمَسْجِدَ، فَإِذَا هُوَ بِرَجُلٍ قَائِمٍ يُصَلِّي وَيَقْرَأُ فَقَالَ: «تَرَاهُ عَبْدَ اللهِ بْنَ قَيْسٍ؟ إِنَّهُ لَأَوَّاهٌ حَلِيمٌ» ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَلَا أُبَشِّرُهُ؟ قَالَ: «احْذَرْ لَا تُسْمِعْهُ فَتُهْلِكَهُ» ، ثُمَّ انْحَدَرَ فَلَمَّا انْتَهَيْنَا إِلَى الْمَسْجِدِ فَوَجَدْنَاهُ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيَّ عَلَى بَابٍ مِنْ أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ، وَكَانَ فِي الْمَسْجِدِ رَجُلٌ يُطِيلُ الصَّلَاةَ، وَكَانَ بُرَيْدَةُ صَاحِبَ مُزَاحَاتٍ فَقَالَ: يَا مِحْجَنُ، أَلَا تُصَلِّي كَمَا يُصَلِّي سُكْبَةُ؟ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ شَيْئًا وَرَجَعَ، فَلَمَّا أَتَى بَيْتَهُ قَالَ: «خَيْرُ دِينِنَا أَيْسَرُهُ، خَيْرُ دِينِكُمْ أَيْسَرُهُ، خَيْرُ دِينِكُمْ أَيْسَرُهُ، خَيْرُ دِينِكُمْ أَيْسَرُهُ» ، ثَلَاثًا
ترجمہ

سیدنا محجن بن ادرع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے میرا ہاتھ پکڑا یہاں تک کہ ہم احد پہاڑ پر چڑھ گئے، آپ نے مدینہ کی طرف نظر ڈالی اور فرمایا: ”افسوس اس بستی پر! جسے اس کے باشندے اس کی سب سے زیادہ آبادی کی حالت میں چھوڑ دیں گے، دجال اس کے پاس آئے گا تو اس کے ہر راستے پر تلوار سونتے ہوئے ایک فرشتہ پائے گا۔“ پھر آپ اترے یہاں تک کہ مسجد پہنچے، وہاں ایک آدمی کھڑا نماز پڑھ رہا اور قرآت کر رہا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم اسے عبداللہ بن قیس سمجھتے ہو؟ بےشک وہ بہت آہ و زاری کرنے والا، بردبار ہے۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا میں اسے یہ خوشخبری نہ سنا دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”خبردار! اسے مت سنانا، ورنہ تم اسے ہلاک کر دو گے۔“ پھر آپ اترے، جب ہم مسجد پہنچے تو ہم نے بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ کو مسجد کے دروازوں میں سے ایک دروازے پر پایا، اور مسجد میں ایک آدمی طویل نماز پڑھ رہا تھا، اور بریدہ مذاق مزاح کرنے والے تھے، انہوں نے کہا: اے محجن! کیا تم بھی سکبہ کی طرح نماز نہیں پڑھتے؟ محجن نے انہیں کوئی جواب نہ دیا اور واپس چلے گئے، جب اپنے گھر پہنچے تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”ہمارا بہترین دین وہ ہے جو آسان ہو، تمہارا بہترین دین وہ ہے جو آسان ہو، تمہارا بہترین دین وہ ہے جو آسان ہو، تمہارا بہترین دین وہ ہے جو آسان ہو“ تین بار فرمایا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 17835
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 296، حدیث 704