حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ دَاوُدَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: «لَهَا صَدَاقُ نِسَائِهَا، لَا وَكْسَ، وَلَا شَطَطَ، وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ وَلَهَا الْمِيرَاثُ» ، فَقَامَ أَبُو سِنَانٍ الْأَشْجَعِيُّ فِي رَهْطٍ مِنْ أَشْجَعَ، فَشَهِدُوا «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِذَلِكَ فِي بَرْوَعَ بِنْتِ وَاشِقٍ الْأَشْجَعِيِّ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اس کے لیے اپنی جیسی عورتوں کا مہر ہے، نہ کمی نہ زیادتی، اور اس پر عدت لازم ہے اور اسے وراثت ملے گی۔“ تو ابوسنان اشجعی رضی اللہ عنہ اشجع کے کچھ لوگوں کے ساتھ کھڑے ہوئے اور گواہی دی ”کہ نبی کریم ﷺ نے بروع بنت واشق اشجعیہ کے معاملے میں یہی فیصلہ فرمایا تھا۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ: أُتِيَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ فَسُئِلَ عَنْ رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً وَلَمْ يَفْرِضْ لَهَا، وَلَمْ يُصِبْهَا حَتَّى مَاتَ، فَرَدَّدَهُمْ، ثُمَّ قَالَ: فَإِنِّي أَقُولُ فِيهَا بِرَأْيِي، فَإِنْ كَانَ صَوَابًا فَمِنَ اللهِ، وَإِنْ كَانَ خَطَأً فَمِنِّي، أَرَى «لَهَا صَدَاقَ امْرَأَةٍ مِنْ نِسَائِهَا - لَا وَكْسَ وَلَا شَطَطَ - وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ وَلَهَا الْمِيرَاثُ» ، فَقَامَ مَعْقِلُ بْنُ سِنَانٍ الْأَشْجَعِيُّ فَقَالَ: «أَشْهَدُ لَقَضَيْتَ فِيهَا بِقَضَاءِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَرْوَعَ بِنْتِ وَاشِقٍ» امْرَأَةٌ مِنْ بَنِي رَوَاسٍ حَيٍّ مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ وَبِهِ يَأْخُذُ سُفْيَانُ
ترجمہ
…اور اس نے اسے چھوا نہیں تھا کہ وہ فوت ہو گیا، تو انہوں نے کئی بار لوگوں کو لوٹایا، پھر کہا: میں اس میں اپنی رائے سے فیصلہ دیتا ہوں، اگر درست ہو تو اللہ کی طرف سے ہے، اور اگر غلط ہو تو میری طرف سے ہے، میری رائے یہ ہے کہ ”اسے اپنی جیسی عورتوں کا مہر ملے گا، نہ کمی نہ زیادتی، اور اس پر عدت لازم ہے اور اسے وراثت ملے گی۔“ تو معقل بن سنان اشجعی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہا: ”میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے اس میں بالکل وہی فیصلہ دیا ہے جو رسول اللہ ﷺ نے بروع بنت واشق کے معاملے میں دیا تھا،“ وہ بنی رواس کی عورت تھی جو بنی عامر بن صعصعہ کی ایک شاخ ہے، اور سفیان بھی اسی کو لیتے ہیں۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو حُذَيْفَةَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ، أُتِيَ فِي رَجُلٍ هَلَكَ وَتَرَكَ امْرَأَتَهُ وَلَمْ يَكُنْ دَخَلَ بِهَا، وَلَمْ يَفْرِضْ لَهَا صَدَاقًا، فَتَرَدَّدُوا إِلَيْهِ فِيهَا شَهْرًا لَا يَقُولُ فِيهَا شَيْئًا، فَقَالَ: أَقُولُ فِيهَا بِرَأْيِي، فَإِنْ يَكُنْ خَطَأً فَمِنْ نَفْسِي، وَإِنْ يَكُنْ صَوَابًا فَمِنَ اللهِ، أَقُولُ: «لَهَا مَهْرُ نِسَائِهَا، وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ، وَلَهَا الْمِيرَاثُ» ، فَقَامَ مَعْقِلُ بْنُ يَسَارٍ الْأَشْجَعِيُّ فَقَالَ: «قَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَرْوَعَ بِنْتِ وَاشِقٍ مِثْلَ مَا قَضَيْتَ» ، فَفَرِحَ ابْنُ مَسْعُودٍ
ترجمہ
…اور اس نے اس کا مہر مقرر نہیں کیا تھا، تو لوگ ایک مہینے تک اس کے بارے میں ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آتے جاتے رہے، وہ کچھ نہیں فرماتے تھے۔ پھر انہوں نے کہا: میں اس میں اپنی رائے سے فیصلہ دیتا ہوں، اگر غلط ہو تو میری طرف سے ہے، اور اگر درست ہو تو اللہ کی طرف سے ہے، میں کہتا ہوں: ”اسے اپنی جیسی عورتوں کا مہر ملے گا، اور اس پر عدت لازم ہے اور اسے وراثت ملے گی۔“ تو معقل بن یسار اشجعی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہا: ”رسول اللہ ﷺ نے بروع بنت واشق کے معاملے میں بالکل ایسا ہی فیصلہ دیا تھا جیسا آپ نے دیا،“ تو ابن مسعود رضی اللہ عنہ خوش ہو گئے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو حُذَيْفَةَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ فِرَاسٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: أُتِيَ عَبْدُ اللهِ فِي رَجُلٍ تَرَكَ امْرَأَتَهُ وَلَمْ يَكُنْ دَخَلَ بِهَا، فَتَرَدَّدُوا إِلَيْهِ فِيهَا شَهْرًا لَا يَقْضِي فِيهَا بِشَيْءٍ، فَقَالَ: أَقُولُ فِيهَا بِرَأْيِي، فَإِنْ يَكُنْ خَطَأً فَمِنْ نَفْسِي، وَإِنْ يَكُنْ صَوَابًا فَمِنَ اللهِ، «مِثْلُ مَهْرِ نِسَائِهَا، وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ، وَلَهَا الْمِيرَاثُ» ، فَقَامَ أَبُو سِنَانٍ الْأَشْجَعِيُّ فَقَالَ: «قَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَرْوَعَ بِنْتِ وَاشِقٍ بِذَلِكَ» فَفَرِحَ بِذَلِكَ عَبْدُ اللهِ
ترجمہ
…لوگ ایک مہینے تک اس کے بارے میں ان کے پاس آتے جاتے رہے، وہ کوئی فیصلہ نہیں دیتے تھے۔ پھر انہوں نے کہا: میں اس میں اپنی رائے سے فیصلہ دیتا ہوں، اگر غلط ہو تو میری طرف سے ہے، اور اگر درست ہو تو اللہ کی طرف سے ہے، ”اسے اپنی جیسی عورتوں کے مہر جیسا ملے گا، اور اس پر عدت لازم ہے اور اسے وراثت ملے گی۔“ تو ابوسنان اشجعی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہا: ”رسول اللہ ﷺ نے بروع بنت واشق کے معاملے میں یہی فیصلہ دیا تھا،“ تو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اس پر خوش ہو گئے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، وَأَبُو عُبَيْدَةَ عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَسْكَرِيُّ قَالَا: ثنا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، ثنا الْمُحَارِبِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّالَانِيُّ، عَنْ فِرَاسٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، فِي رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً فَمَاتَ عَنْهَا، وَلَمْ يَدْخُلْ بِهَا وَلَمْ يَفْرِضْ لَهَا، فَقَالَ: «لَهَا الصَّدَاقُ كَامِلًا، وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ، وَلَهَا الْمِيرَاثُ» ، فَقَالَ مَعْقِلُ بْنُ سِنَانٍ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «قَضَى بِهِ فِي بَرْوَعَ بِنْتِ وَاشِقٍ»
ترجمہ
…عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ایک ایسے آدمی کے بارے میں پوچھا گیا جس نے ایک عورت سے نکاح کیا، پھر وہ اس کے پاس دخول کیے بغیر فوت ہو گیا اور اس کا مہر مقرر نہیں کیا تھا، تو انہوں نے کہا: ”اسے پورا مہر ملے گا، اور اس پر عدت لازم ہے اور اسے وراثت ملے گی۔“ تو معقل بن سنان رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو سنا ”آپ ﷺ نے بروع بنت واشق کے معاملے میں یہی فیصلہ دیا تھا۔“
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، ثنا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ قَالَ: شَهِدَ عِنْدِي نَفَرٌ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ - فِيهِمُ الْحَسَنُ بْنُ أَبِي الْحَسَنِ - عَنْ مَعْقِلِ بْنِ سِنَانٍ الْأَشْجَعِيِّ قَالَ: مَرَّ عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَا أَحْتَجِمُ فِي ثَمَانِيَ عَشْرَةَ خَلَتْ مِنْ رَمَضَانَ فَقَالَ: «أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ»
ترجمہ
…بصرہ کے کچھ لوگوں نے - جن میں حسن بن ابی الحسن بھی شامل تھے - سیدنا معقل بن سنان اشجعی رضی اللہ عنہ کے بارے میں روایت کی، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ میرے پاس سے گزرے جبکہ میں رمضان کی اٹھارہ تاریخ کو پچھنے لگوا رہا تھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”پچھنے لگانے والے اور جس کو پچھنے لگائے جائیں دونوں کا روزہ ٹوٹ گیا۔“
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ دُحَيْمٍ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ يَعْقُوبَ، ح وَحَدَّثَنَا مَسْعَدَةُ بْنُ سَعْدٍ الْعَطَّارُ الْمَكِّيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ قَالَا: ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ: جَاءَنِي مَعْقِلُ بْنُ سِنَانٍ، فَأَخْبَرَنِي أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «غِفَارٌ، وَأَسْلَمُ، وَجُهَيْنَةُ، وَمُزَيْنَةُ مَوَالِيَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوِلهِ»
ترجمہ
…نافع بن جبیر بن مطعم کہتے ہیں: میرے پاس معقل بن سنان رضی اللہ عنہ آئے اور انہوں نے مجھے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”غفار، اسلم، جہینہ اور مزینہ اللہ عزوجل اور اس کے رسول کے خاص موالی ہیں۔“