❮
❯
حدیث نمبر: 17677
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ: أُتِيَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ فَسُئِلَ عَنْ رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً وَلَمْ يَفْرِضْ لَهَا، وَلَمْ يُصِبْهَا حَتَّى مَاتَ، فَرَدَّدَهُمْ، ثُمَّ قَالَ: فَإِنِّي أَقُولُ فِيهَا بِرَأْيِي، فَإِنْ كَانَ صَوَابًا فَمِنَ اللهِ، وَإِنْ كَانَ خَطَأً فَمِنِّي، أَرَى «لَهَا صَدَاقَ امْرَأَةٍ مِنْ نِسَائِهَا - لَا وَكْسَ وَلَا شَطَطَ - وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ وَلَهَا الْمِيرَاثُ» ، فَقَامَ مَعْقِلُ بْنُ سِنَانٍ الْأَشْجَعِيُّ فَقَالَ: «أَشْهَدُ لَقَضَيْتَ فِيهَا بِقَضَاءِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَرْوَعَ بِنْتِ وَاشِقٍ» امْرَأَةٌ مِنْ بَنِي رَوَاسٍ حَيٍّ مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ وَبِهِ يَأْخُذُ سُفْيَانُ
ترجمہ

علقمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس ایک آدمی کے بارے میں مسئلہ لے کر آیا گیا کہ اس نے ایک عورت سے نکاح کیا اور اس کا مہر مقرر نہیں کیا تھا، اور اس نے اسے چھوا نہیں تھا کہ وہ فوت ہو گیا، تو انہوں نے سائلین کو کئی بار لوٹایا، پھر کہا: میں اس میں اپنی رائے سے فیصلہ دیتا ہوں، اگر درست ہو تو اللہ کی طرف سے ہے، اور اگر غلط ہو تو میری طرف سے ہے، میری رائے یہ ہے کہ ”اسے اپنی جیسی عورتوں کا مہر ملے گا، نہ کمی نہ زیادتی، اور اس پر عدت لازم ہے اور اسے وراثت ملے گی۔“ تو معقل بن سنان اشجعی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہا: ”میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے اس میں بالکل وہی فیصلہ دیا ہے جو رسول اللہ ﷺ نے بروع بنت واشق کے معاملے میں دیا تھا،“ وہ بنی رواس کی عورت تھی جو بنی عامر بن صعصعہ کی ایک شاخ ہے، اور سفیان بھی اسی کو لیتے ہیں۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 17677
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 231، حدیث 543