حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الصَّنْعَانِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي عَمَّارٍ الْأَنْصَارِيِّ، أَنَّ أَبَا زَيْدٍ، مَوْلَى ثَعْلَبَةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ مَعْقِلَ بْنَ أَبِي مَعْقِلٍ الْأَسَدِيَّ، مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَدَّثَهُ «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» نَهَى أَنْ تُسْتَقْبَلَ الْقِبْلَتَانِ بِالْغَائِطِ، وَالْبَوْلِ "
ترجمہ
…ابوزید، ثعلبہ کے آزاد کردہ غلام نے بتایا کہ سیدنا معقل بن ابی معقل اسدی رضی اللہ عنہ - جو رسول اللہ ﷺ کے صحابہ میں سے تھے - نے انہیں بتایا ”کہ رسول اللہ ﷺ نے پاخانہ یا پیشاب کرتے وقت دونوں قبلوں (بیت اللہ اور بیت المقدس) کی طرف منہ کرنے سے منع فرمایا۔“
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْعَلَّافُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَنَا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَطَّارُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، عَنْ أَبِي زَيْدٍ، مَوْلَى ثَعْلَبَةَ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ أَبِي مَعْقِلٍ الْأَسَدِيِّ أَنَّهُ حَدَّثَهُ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» نَهَى أَنْ تُسْتَقْبَلَ الْقِبْلَتَانِ بِغَائِطٍ أَوْ بَوْلٍ "
ترجمہ
سیدنا معقل بن ابی معقل اسدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ”کہ نبی کریم ﷺ نے پاخانہ یا پیشاب کرتے وقت دونوں قبلوں کی طرف منہ کرنے سے منع فرمایا۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي إِسْمَاعِيلَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ أَبِي مَعْقِلٍ، أَنَّ أُمَّهُ زَيْنَبَ أَتَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ أَبَا مَعْقِلٍ كَانَ وَعَدَنِي أَنْ لَا يَحُجَّ إِلَّا وَأَنَا مَعَهُ، فَحَجَّ عَلَى رَاحِلَتِهِ وَلَمْ أُطِقْ، فَسَأَلْتُهُ جِدَادَ نَخْلِهِ فَقَالَ: هُوَ قُوتُ عِيَالِي، وَسَأَلْتُهُ بِكْرًا عِنْدَهُ فَقَالَ: هُوَ فِي سَبِيلِ اللهِ لَسْتُ أُعْطِيكِهِ فَقَالَ: «أَبَا مَعْقِلٍ، مَا تَقُولُ أُمُّ مَعْقِلٍ؟» فَقَالَ: صَدَقَتْ، قَالَ: «أَعْطِهَا بِكْرَكَ فَإِنَّ الْحَجَّ سَبِيلُ اللهِ» ، فَأَعْطَاهَا بِكْرَهُ، فَقَالَتْ: إِنِّي امْرَأَةٌ قَدْ سَقِمْتُ وَكَبُرْتُ، وَأَخَافُ أَنْ لَا أُدْرِكَ الْحَجَّ حَتَّى أَمُوتَ، فَهَلْ شَيْءٌ يُجْزِئُ عَنِ الْحَجِّ؟ فَقَالَ: «نَعَمْ عُمْرَةٌ فِي رَمَضَانَ تَعْدِلُ حَجَّةً» فَاعْتَمَرَتْ فِي رَمَضَانَ
ترجمہ
…ام معقل خود اپنی سواری پر حج کے لیے گئیں، اور ابومعقل استطاعت نہ رکھ سکے، تو انہوں نے ان سے ان کے کھجور کے باغ کی فصل مانگی، تو انہوں نے کہا: یہ تو میرے اہل و عیال کا رزق ہے۔ اور انہوں نے ان سے ان کے پاس ایک اونٹ مانگا، تو انہوں نے کہا: یہ اللہ کی راہ میں وقف ہے، میں تمہیں نہیں دے سکتی۔ تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”ابومعقل! ام معقل کیا کہتی ہیں؟“ انہوں نے کہا: وہ سچ کہتی ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے اپنا اونٹ دے دو، کیونکہ حج بھی اللہ کی راہ ہے۔“ تو انہوں نے اسے اپنا اونٹ دے دیا۔ تو انہوں (ام معقل) نے عرض کیا: میں ایک ایسی عورت ہوں جو بیمار اور بوڑھی ہو چکی ہوں، اور مجھے ڈر ہے کہ میں حج نہ کر سکوں گی یہاں تک کہ مر جاؤں، تو کیا کوئی ایسی چیز ہے جو حج کے قائم مقام ہو؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، رمضان میں عمرہ کرنا حج کے برابر ہے۔“ تو انہوں نے رمضان میں عمرہ کیا۔