کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: کچھ نامعلوم راویوں کی سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَبِي، عَنِ السَّلُولِيِّ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنْ أَتَّخِذْ مِنْبَرًا فَقَدِ اتَّخَذَهُ أَبِي إِبْرَاهِيمُ، وَإِنْ أَتَّخِذِ الْعَصَا فَقَدِ اتَّخَذَهَا أَبِي إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ»
ترجمہ
سلولی رحمہ اللہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر میں منبر بناؤں تو میرے باپ ابراہیم علیہ السلام نے بھی بنایا تھا، اور اگر میں لاٹھی رکھوں تو میرے باپ ابراہیم علیہ السلام نے بھی رکھی تھی۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ رِشْدِينَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يَزِيدُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ مُحَمَّدٍ التَّيْمِيِّ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ الْبَلَوِيِّ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَوْ كَانَ ثَابِتًا عَلَى أَحَدٍ مِنَ الْعَرَبِ رِقٌّ كَانَ الْيَوْمَ، إِنَّمَا هُوَ إِسَارٌ أَوْ فِدَاءٌ»
ترجمہ
بلوی رحمہ اللہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر عربوں میں سے کسی پر غلامی ثابت ہوتی تو وہ آج بھی ہوتی، یہ تو محض قید یا فدیہ (کا معاملہ) ہے۔“
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَيْسَ فِي الْأَوْقَاصِ شَيْءٌ»
ترجمہ
ایک نامعلوم راوی سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے، وہ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اوقاص میں کچھ (زکوٰۃ) نہیں ہے۔“
حَدَّثَنَا أَبُو زَيْدٍ أَحْمَدُ بْنُ يَزِيدَ الْحَوْطِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ الْقَرْقَسَانِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَابِرٍ الطَّائِيِّ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ جَهَّزَ غَازِيًا أَوْ خَلَفَهُ فِي أَهْلِهِ بِخَيْرٍ فَإِنَّهُ مَعَنَا»
ترجمہ
ایک نامعلوم راوی سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو کسی غازی کو سامان مہیا کرے، یا اس کے (پیچھے رہ جانے والے) گھر والوں کی اچھی طرح دیکھ بھال کرے، تو وہ ہمارے ساتھ ہے۔“
حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ رَجُلٍ يُحَدِّثُ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، عَنْ نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ رِجَالًا لَيْسُوا بِأَنْبِيَاءَ وَلَا شُهَدَاءَ يُوضَعُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَنَابِرُ مِنْ نُورٍ، وُجُوهَهُمْ مِنْ نُورٍ، يَأْمَنُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنَ الْفَزَعِ الْأَكْبَرِ» فَقَالَ رَجُلٌ: يَا نَبِيَّ اللهِ، وَمَنْ أُولَئِكَ؟ قَالَ: «هُمْ نُزَّاعُ الْقَبَائِلِ، يَتَحَابُّونَ فِي اللهِ»
ترجمہ
ایک نامعلوم راوی سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے، وہ اللہ کے نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بیشک ایسے لوگ ہیں جو نہ انبیاء ہیں اور نہ شہداء، ان کے لیے قیامت کے دن نور کے منبر رکھے جائیں گے، ان کے چہرے نور کے ہوں گے، وہ قیامت کے دن سب سے بڑی گھبراہٹ سے محفوظ ہوں گے۔“ تو ایک آدمی نے پوچھا: اے اللہ کے نبی! وہ کون لوگ ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ مختلف قبیلوں سے (نکل کر آئے ہوئے اجنبی) لوگ ہیں، جو اللہ کے لیے ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَدَقَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ بَزِيعٍ، ثنا زِيَادُ بْنُ الرَّبِيعِ الْيَحْمَدِيُّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنِ ابْنِ الدَّيْلَمِيِّ، قَالَ: كُنْتُ ثَالِثَ ثَلَاثَةٍ يَخْدُمُ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ، فَلَمَّا حُضِرَ قُلْنَا لَهُ: يَرْحَمُكَ اللهُ، إِنَّمَا صَحِبْنَاكَ وانْقَطَعْنَا إِلَيْكَ وَاتَّبَعْنَاكَ لِمِثْلِ هَذَا الْيَوْمِ، فَحَدِّثْنَا بِحَدِيثٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَنْتَفِعُ بِهِ، قَالَ: نَعَمْ، وَمَا سَاعَةُ الْكَذِبِ هَذِهِ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ مَاتَ وَهُوَ يُوقِنُ بِثَلَاثٍ: أَنَّ اللهَ حَقٌّ، وَأَنَّ السَّاعَةَ قَائِمَةٌ، وَأَنَّ اللهَ يَبْعَثُ مَنْ فِي الْقُبُورِ " - وَقَالَ ابْنُ سِيرِينَ: فَأَنَا نَسِيتُ إِمَّا - قَالَ: «دَخَلَ الْجَنَّةَ» ، وَإِمَّا قَالَ: «نَجَا مِنَ النَّارِ»
ترجمہ
ابن دیلمی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں ان تین آدمیوں میں سے تیسرا تھا جو سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کی خدمت کیا کرتے تھے۔ جب ان کی وفات کا وقت آیا تو ہم نے ان سے کہا: اللہ آپ پر رحم فرمائے! ہم نے آپ کی صحبت اختیار کی، آپ سے وابستہ ہوئے اور آپ کی پیروی کی تھی بس ایسے ہی دن کے لیے، تو ہمیں کوئی ایسی حدیث سنا دیجیے جو آپ نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہو، ہم اس سے فائدہ اٹھائیں۔ انہوں نے کہا: ٹھیک ہے، اور اس گھڑی میں جھوٹ کہاں! میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”جو اس حال میں مرے کہ اسے تین چیزوں کا یقین ہو: یہ کہ اللہ حق ہے، اور یہ کہ قیامت قائم ہونے والی ہے، اور یہ کہ اللہ قبروں میں پڑے لوگوں کو اٹھائے گا۔“ ابن سیرین (راوی) کہتے ہیں: مجھے یاد نہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ جنت میں داخل ہوگا“، یا فرمایا: ”وہ آگ سے نجات پا گیا۔“
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِرْقٍ الْحِمْصِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُصَفَّى، ثنا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ أَرْطَاةَ بْنِ الْمُنْذِرِ، عَنِ الْأَبَحِّ السَّكُونِيِّ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللهِ شَيْئًا وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ»
ترجمہ
ابح سکونی رحمہ اللہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ بیان کرتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”جو اس حال میں مرے کہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراتا ہو، اس کے لیے جنت واجب ہو گئی۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جَابِرٍ الْبَخْتَرِيُّ الطَّائِيُّ، ثنا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنَا بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ، أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ، كَانَ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّ بَعْدَ مَا بَيْنَ شَفِيرِ النَّارِ إِلَى قَعْرِهَا لَصَخْرةً زِنَةُ سَبْعِ خَلِفَاتٍ بِشُحُومِهِنَّ ولُحُومِهِنَّ وَأَوْلَادِهِنَّ، يَهْوِي فِيهَا بَيْنَ شَفِيرِ النَّارِ إِلَى أَنْ يَبْلُغَ قَعْرَهَا سَبْعِينَ خَرِيفًا»
ترجمہ
زہری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: ہمیں کچھ اہل علم نے بتایا کہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کیا کرتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، آگ کے کنارے سے اس کی تہہ تک کا فاصلہ اتنا ہے کہ ایک چٹان، جس کا وزن سات حاملہ اونٹنیوں کے، ان کی چربی، گوشت اور بچوں سمیت، برابر ہو، اس میں آگ کے کنارے سے گرے تو اس کی تہہ تک پہنچنے میں ستر سال تک گرتی رہے۔“